یورپی فٹبال ایسوسی ایشن ‘یوئیفا’ نے فیفا صدر جیانی انفینٹینو کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں بدعنوانی اور بدانتظامی کا مقدمہ درج کروانے کے لیے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
یوئیفا کا موقف ہے کہ صدر انفینٹینو نے فیفا کونسل اور 211 ممبران کو اندھیرے میں رکھ کر ورلڈ کپ کے کمرشل حقوق ’20’ ارب ڈالر کے تخمینے پر ایک نجی فرم کو فروخت کرنے کی خفیہ منصوبہ بندی کی تھی۔
اس قانونی اقدام کا مقصد فلوریڈا میں موجود فیفا اداروں سے متعلقہ دستاویزات اور گواہیوں کا حصول یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیپ ورڈے کے سڈنی لوپس کابرال کا شاندار گول فیفا ورلڈ کپ 2026 کا بہترین گول قرار
یوئیفا کی جانب سے امریکی عدالت میں دائر درخواست کے مطابق جیانی انفینٹینو اور ان کے چند مشیروں نے 1 سال سے زیادہ عرصے تک خفیہ طور پر ’فیفا فارورڈ انٹرپرائز‘نامی ایک ذیلی ادارے کے قیام کا منصوبہ بنایا۔
اس منصوبے کے تحت مرد و خواتین کے ورلڈ کپ اور کلب ورلڈ کپ کے کمرشل حقوق ایک نجی سرمایہ کار گروپ کو منتقل کیے جانے تھے جس کی قیادت جوشوا کشنر کی ملکیتی کمپنی ‘تھریو ایٹرنل’ کو دی گئی اور سابق لبرٹی میڈیا چیف ایگزیکٹو گریگ مافی کو تجارتی مشیر مقرر کیا گیا۔
اس سودے کے تحت سرمایہ کاروں نے 4.2 ارب ڈالر کی رقم کے عوض فیفا کے تجارتی شعبے میں مستقل حصص حاصل کرنے تھے، تاہم اس مالیاتی تخمینے کو کسی کھلی نیلامی یا آزادانہ جائزے کے بغیر طے کیا گیا۔
عالمی فٹبال اداروں کی شدید مخالفت اور بائیکاٹ
28 جولائی کو جب یہ خفیہ منصوبہ سامنے آیا تو عالمی فٹبال میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ 30 جولائی کو یوئیفا کی 55 رکن ایسوسی ایشنز نے ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اگر اس منصوبے کو فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو وہ فیفا کے تمام مقابلوں بشمول ورلڈ کپ کا مکمل بائیکاٹ کریں گی۔
مزید پڑھیں:96 سال پرانے کیمرے سے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی منفرد کوریج، مصری فوٹو جرنلسٹ سب کی توجہ کا مرکز بن گئے
جس کی بعد میں ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن اور کونکاکاف نے بھی حمایت کی۔ اس شدید دباؤ کے نتیجے میں فیفا کے سینیئر حکمتِ عملی مشیر اور امریکی فٹبال کے سابق صدر کارلوس کورڈیرو نے 31 جولائی کو استعفیٰ دیتے ہوئے اس منصوبے کو ‘فٹبال کے مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ سودا’ قرار دیا۔
منصوبے کی منسوخی اور قانونی کارروائی کا آغاز
شدید عالمی مخالفت کے پیشِ نظر فیفا نے 1 اگست کو اس منصوبے کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا، تاہم یوئیفا کے مطابق فیفا کے اندرونی عملے نے دھوکہ دیے جانے کی شکایت کی ہے اور سیکریٹری جنرل میٹیاس گرافسٹرم کو بھی اس مسودے کی تیاری سے الگ رکھا گیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ یوئیفا اب فلوریڈا میں قائم فیفا کے 2 اداروں ‘فیفا امریکا’ اور ‘ایف ڈبلیو سی 2026 یو ایس’ سے دستاویزات اور ثبوت حاصل کر کے سوئس تعزیراتی کوڈ کی دفعہ ‘158’ کے تحت انفینٹینو کے خلاف فوجداری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
فیفا کی گورننس اور آئینی اختیارات
فیفا کے ضوابط کے مطابق تنظیم کے تمام تجارتی اور تجارتی حقوق کے فروغ یا فروخت کا حتمی اختیار صرف فیفا کونسل کے پاس ہے، جبکہ تمام 211 رکن ممالک اور علاقائی کنفیڈریشنز کے ساتھ مشاورت قانونی تقاضا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا فیفا ورلڈ کپ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سو گئے تھے؟ حقیقت سامنے آگئی
عالمی فٹبال کی تاریخ میں اس سے قبل بھی اعلیٰ عہدیداروں پر مالیاتی شفافیت کے عدم وجود اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
یوئیفا اور دیگر بین الاقوامی اداروں کا یہ حالیہ سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھیلوں کی سب سے بڑی عالمی تنظیم میں انتظامی شفافیت قائم رکھنے کے لیے آئندہ دنوں میں قانونی معرکہ آرائی مزید شدید ہو سکتی ہے۔














