26 اگست پاکستان کے لیے ایک اور اندوہناک دن ثابت ہوا جب وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: پمز سانحہ، جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان
بلال زبیری پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینیئر اور پاکستان ہیٹنگ، وینٹیلیشن اینڈ ایئر کنڈیشننگ سوسائٹی کے فنانس سیکریٹری ہیں۔ وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پمز اسپتال میں آگ بجھانے کا جدید اور خودکار نظام موجود ہوتا تو شاید آج ملک کو اس طرح کے اندوہناک سانحے سے نہ گزرنا پڑتا۔
واضح رہے کہ پاکستان ہیٹنگ، وینٹیلیشن اینڈ ایئر کنڈیشننگ سوسائٹی الیکٹریکل اور مکینیکل انجینیئرز پر مشتمل ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو مرکزی ہیٹنگ اور مرکزی ایئر کنڈیشننگ سمیت متعلقہ شعبوں سے وابستہ انجینیئرز کی نمائندگی کرتی ہے۔
بلال زبیری نے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات اگرچہ اب تک سامنے نہیں آئی ہیں تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ آگ ایئر کنڈیشننگ سسٹم میں لگی۔ ان کے مطابق ایئر کنڈیشننگ سسٹم میں ایک مقام ایسا ہوتا ہے جہاں بلاسٹ ہوسکتا ہے اور وہ کمپریسر ہوتا ہے لیکن کمپریسر عمارت کے باہر نصب ہوتا ہے اس لیے وہاں سے آگ لگنے کا امکان بیحد کم ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: سانحہ پمز کے بعد گائنی کے پیچیدہ کیسز راولپنڈی اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ
انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ہوگی اور نرسری میں موجود آکسیجن کی وجہ سے تیزی سے پھیل گئی ہو۔
’ایک منٹ میں آگ پھیل گئی‘، مصطفیٰ کمال کا بیان ناقابل یقین ہے
گزشتہ روز وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام 6 بج کر 38 منٹ پر شعلہ دیکھا گیا اور 6 بج کر 39 منٹ پر آگ نے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یعنی ان کے بیان کے مطابق صرف ایک منٹ میں آگ انتہائی شدت اختیار کرگئی۔
اس حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے بلال زبیری نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ کسی نے پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی اور وہ ایک منٹ میں پھیل گئی تو وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہیں لیکن شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ کا صرف ایک منٹ میں اس رفتار سے پھیل جانا ناقابل یقین ہے۔
مزید پڑھیں: سانحہ پمز : تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل، ذمہ داران کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، مصطفیٰ کمال
ان کے مطابق شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ عموماً اتنی تیزی سے نہیں پھیلتی۔
’شارٹ سرکٹ کی صورت میں خودکار فائر سسٹم ہونا چاہیے تھا‘
بلال زبیری نے کہا کہ اگر آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تو وہاں آگ بجھانے کا خودکار نظام موجود ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید فائر سیفٹی نظام میں اسموک الارم فوری طور پر دھویں یا آگ کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے بعد سپرنکلرز خودکار طور پر پانی کا چھڑکاؤ شروع کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا پمز کی نرسری میں ایسا نظام موجود تھا یا نہیں۔ ان کے مطابق جو معلومات سامنے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں آگ بجھانے کا خودکار نظام موجود نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پمز حادثہ: وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے شواہد حاصل کر لیے، متاثرہ خاندانوں سے بھی معلومات لینے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں کی نرسری جیسے حساس مقامات پر آگ بجھانے کا جدید اور خودکار نظام نہ صرف نصب ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت مکمل طور پر فعال اور آپریشنل بھی رہنا چاہیے۔
شارٹ سرکٹ سے آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے جدید طریقے موجود ہیں
بلال زبیری نے کہا کہ مارکیٹ میں ایسے جدید آلات اور حفاظتی نظام دستیاب ہیں جو آگ کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اور بجلی کے نظام کو فائر پروف بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسی تاریں بھی موجود ہیں جنہیں آگ لگنے کی صورت میں شعلے کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کو ہمیشہ ہمارے بس میں نہیں سمجھا جا سکتا لیکن اس پر بروقت قابو پانا ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: پمز نرسری واقعہ: آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں، سربراہ قائمہ کمیٹی صحت ڈاکٹر مہیش کمار کا انکشاف
بلال زبیری کے مطابق اگر پمز نرسری میں آگ بجھانے کا جدید اور خودکار نظام موجود ہوتا تو ممکن ہے کہ آگ پر بروقت قابو پا لیا جاتا اور اتنا بڑا جانی نقصان نہ ہوتا۔













