وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پمز سانحے کے معاملے پر اپوزیشن کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات محض طویل کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ انہیں 10 روز کے اندر مکمل کرکے نتائج قوم کے سامنے لائے جائیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ بائیکاٹ ختم کرکے پیر کو ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرے تاکہ معاملے کی مؤثر تحقیقات ممکن ہوسکیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کا کوئی نعم البدل نہیں، حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور والدین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سانحے کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی اور انہیں قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پمز سانحے کی تحقیقات شفاف اور اوپن ہونی چاہئیں تاکہ عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کو غیر ضروری طور پر طول دینے کے بجائے مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور اس کے نتائج سامنے لائے جائیں۔
مزید پڑھیں: بلاول بھٹو بھی پمز اسپتال سانحہ پر بول پڑے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ
خواجہ آصف نے بیرسٹر گوہر کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا کردار صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ احتساب بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے درست نشاندہی کی ہے کہ گل پلازہ سانحے کی تحقیقات کا بھی تاحال کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے پمز واقعے کے معاملے میں بھی ایسی صورت حال سے گریز کیا جانا چاہیے۔
قائم مقام اسپیکر نے تجویز دی کہ پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے قائمہ کمیٹی صحت کے ارکان کے علاوہ دیگر اراکین کو بھی شامل کیا جائے تو تحقیقات زیادہ مؤثر ہوسکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ، نواز شریف کا ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
خواجہ آصف نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں 10، 12 یا اس سے زیادہ سینیئر ارکان کو شامل کیا جاسکتا ہے تاکہ تحقیقات کو وسیع اور قابل اعتماد بنایا جاسکے۔
دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پمز سانحے کو ٹیسٹ کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ دار کسی بھی شخص سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ عباسی کمیٹی کی رپورٹ آج رات تک سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ پمز کے معیار اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لینے کے لیے اظہر کیانی کی سربراہی میں ایک دوسری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔













