پمز سانحہ: پارلیمنٹ کا کام صرف قانون سازی نہیں، احتساب بھی ہے، خواجہ آصف

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پمز سانحے کے معاملے پر اپوزیشن کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات محض طویل کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ انہیں 10 روز کے اندر مکمل کرکے نتائج قوم کے سامنے لائے جائیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ بائیکاٹ ختم کرکے پیر کو ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرے تاکہ معاملے کی مؤثر تحقیقات ممکن ہوسکیں۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کا کوئی نعم البدل نہیں، حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور والدین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سانحے کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی اور انہیں قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پمز سانحے کی تحقیقات شفاف اور اوپن ہونی چاہئیں تاکہ عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کو غیر ضروری طور پر طول دینے کے بجائے مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور اس کے نتائج سامنے لائے جائیں۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو بھی پمز اسپتال سانحہ پر بول پڑے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ

خواجہ آصف نے بیرسٹر گوہر کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا کردار صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ احتساب بھی اس کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے درست نشاندہی کی ہے کہ گل پلازہ سانحے کی تحقیقات کا بھی تاحال کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے پمز واقعے کے معاملے میں بھی ایسی صورت حال سے گریز کیا جانا چاہیے۔

قائم مقام اسپیکر نے تجویز دی کہ پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے قائمہ کمیٹی صحت کے ارکان کے علاوہ دیگر اراکین کو بھی شامل کیا جائے تو تحقیقات زیادہ مؤثر ہوسکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ، نواز شریف کا ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

خواجہ آصف نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں 10، 12 یا اس سے زیادہ سینیئر ارکان کو شامل کیا جاسکتا ہے تاکہ تحقیقات کو وسیع اور قابل اعتماد بنایا جاسکے۔

دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پمز سانحے کو ٹیسٹ کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ دار کسی بھی شخص سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ عباسی کمیٹی کی رپورٹ آج رات تک سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ پمز کے معیار اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لینے کے لیے اظہر کیانی کی سربراہی میں ایک دوسری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہاکی ورلڈ کپ: 4 مرتبہ کا عالمی چیمپیئن پاکستان جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن لینے میں کامیاب

’آج اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری منتقل ہونے جارہی ہے‘، فیصل ممتاز راٹھور کا بطور وزیراعظم آزاد کشمیر آخری خطاب

دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو انتقال کرگئے

بھارت جان لے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی آبی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسحاق ڈار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرول 58پیسے، ڈیزل 17پیسے سستا

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ