حکومت کا ڈریپ کی ادویات قیمتوں کے فارمولے پر نظرثانی کا فیصلہ

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزارت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو ہدایت کی ہے کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک پر فوری نظرثانی کی جائے جس میں ہارڈ شپ پالیسی اور ڈریپ پالیسی بورڈ کی تشکیل میں تبدیلیاں بھی شامل ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فارما ایکسپو: ڈریپ کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، ادویات پر بارکوڈ کا اعلان

آج ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر احد چیمہ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے تعین کے لیے ڈریپ کے موجودہ فارمولے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ طریقہ کار پر جامع نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قیمت میں تبدیلی کو شفاف، شواہد پر مبنی اور مکمل طور پر جواز کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے ڈریپ کو ہدایت دی کہ قیمتوں میں اضافے کے فارمولے کا جائزہ لے کر اسے مضبوط بنایا جائے اور اس میں سخت نگرانی اور آزادانہ چیکس شامل کیے جائیں تاکہ لاگت کے دباؤ کا بوجھ خودکار طور پر ادویات کی زائد قیمتوں کی صورت میں صارفین پر منتقل نہ ہو۔

انہوں نے سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز اور سی ای او ڈریپ کو ہدایت کی کہ ہارڈ شپ پالیسی سے متعلق نظرثانی شدہ قواعد جلد از جلد حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے متعلقہ فورم میں پیش کیے جائیں تاکہ اس معاملے میں مزید تاخیر نہ ہو۔

وزیر نے زور دیا کہ نظرثانی شدہ فریم ورک اس بات کو یقینی بنائے کہ ہارڈ شپ کی شقیں صرف حقیقی معاملات میں ریلیف فراہم کریں اور یہ غیر متناسب کمرشل لاگت مریضوں پر منتقل کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔

مزید پڑھیے: ایک ہی دوا مختلف قیمتوں پر کیوں فروخت ہوتی ہے؟ ڈریپ نے وجہ بتا دی

وزیر نے مزید ہدایت دی کہ ڈریپ پالیسی بورڈ کی تشکیل پر بھی نظرثانی کی جائے تاکہ مہارت اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

سینیٹر چیمہ نے خاص طور پر پالیسی بورڈ میں ایک ہیلتھ اکانومسٹ اور ایک پبلک ہیلتھ ماہر کو شامل کرنے کی ہدایت دی۔

اجلاس کے دوران نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزارت اور ڈریپ نے اس تجویز پر اتفاق کیا اور سینیٹر چیمہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضروری عمل کا آغاز کیا جائے اور تجویز کردہ تبدیلیوں کو جلد از جلد منظوری کے لیے متعلقہ فورم میں پیش کیا جائے۔

سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے لاکھوں گھرانوں کو براہ راست متاثر کرتے ہیں اس لیے ہمارا ریگولیٹری فریم ورک ایسا ہونا چاہیے جو فارماسیوٹیکل شعبے کی پائیداری کو استطاعت اور صارفین کے مضبوط تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔

اجلاس کے دوران ڈریپ حکام نے وفاقی وزیر کو موجودہ ہارڈ شپ پالیسی اور ضروری ادویات پر اس کے اطلاق سے متعلق بریفنگ دی۔

سینیٹر چیمہ نے مشاہدہ کیا کہ ضروری ادویات درآمد کرنے والے اکثر ہارڈ شپ پالیسی کے تحت ریلیف حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد قیمتوں میں اضافے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ قواعد میں اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے اور یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ہارڈ شپ پالیسی کے تحت دی جانے والی مراعات قیمتوں کے ڈھانچے میں مناسب طور پر ظاہر ہوں، نہ کہ یہ صارفین پر اضافی بوجھ کا باعث بنیں۔

وزیر نے کہا کہ اگر کوئی درآمد کنندہ ہارڈ شپ پالیسی کے تحت حکومت کی جانب سے دی گئی ٹیکس مراعات یا کسی اور ریلیف سے پہلے ہی مستفید ہو رہا ہے تو اسے پوری لاگت صارف پر منتقل کرنے کے بجائے اپنے مارجن کو بھی معقول بنانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے ڈریپ کو ہدایت دی کہ درآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے موجودہ مارجن کا جائزہ لیا جائے جو بعض معاملات میں تقریباً 40 فیصد تک ہو سکتے ہیں اور نظرثانی شدہ ہارڈ شپ قواعد میں ان کے معقول تعین کی گنجائش رکھی جائے۔

سینیٹر چیمہ نے زور دیا کہ درآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے مارجن کے درمیان ضروری ایڈجسٹمنٹ کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہارڈ شپ پالیسی کے تحت ریلیف فراہم کر رہی ہے تو درآمد کنندگان اور ریٹیلرز کو بھی اپنے مارجن میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اس بوجھ میں حصہ دار بننا ہوگا۔ یہ ایڈجسٹمنٹ سپلائی چین کے اندر ہونی چاہیے اور کسی بھی صورت میں صارف پر منتقل نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز اور سی ای او ڈریپ کو ہدایت کی کہ تجویز کردہ ہارڈ شپ رولز میں درآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے مارجن کو معقول بنانے کا مناسب طریقہ کار شامل کیا جائے اور نظرثانی شدہ فریم ورک جلد از جلد متعلقہ فورم کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔

مزید پڑھیں: ڈریپ نے ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں کی تردید کردی

وزیر نے زور دیا کہ ریگولیٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مارکیٹ میں منصفانہ توازن برقرار رکھے یعنی ضروری ادویات کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنائے اور ساتھ ہی مریضوں کو غیر منصفانہ قیمتوں میں اضافے سے بھی محفوظ رکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمرشل استحکام اہم ہے لیکن یہ صارفین کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس میں اوریجینیٹر اور موجودہ برانڈز کے لیے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ڈریپ حکام نے اجلاس کو بریفنگ دی کہ اوریجینیٹر برانڈز کے لیے فی الوقت ہمسایہ اور دیگر متعلقہ ممالک کی قیمتوں پر مبنی ریفرنس پرائسنگ استعمال کی جاتی ہے۔

سینیٹر چیمہ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ریفرنس پرائسنگ کو ایک آزاد تصدیقی طریقہ کار کی معاونت حاصل ہونی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قیمتوں سے متعلق فیصلے معتبر ڈیٹا پر مبنی ہوں اور مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کی درست عکاسی کریں۔

انہوں نے ڈریپ کو ہدایت دی کہ ادویات کی قیمتوں کے فریم ورک کے اندر ایک مضبوط اور زیادہ آزادانہ چیکنگ کا نظام تشکیل دیا جائے، تاکہ شفافیت، انصاف اور مؤثر ریگولیٹری نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: ڈریپ نے 2 ادویات کو جعلی قرار دے کر ضبطی کے احکامات جاری کر دیے

پریس ریلیز کے مطابق وزیر نے زور دیا کہ سستی ادویات تک رسائی براہ راست عوامی فلاح سے جڑی ہوئی ہے، اور حکومت فارماسیوٹیکل شعبے کی جائز ضروریات اور صارفین کے مفادات کے درمیان منصفانہ توازن یقینی بنانے کے لیے ریگولیٹری میکانزم کو مسلسل مضبوط بناتی رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہاکی ورلڈ کپ: 4 مرتبہ کا عالمی چیمپیئن پاکستان جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن لینے میں کامیاب

’آج اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری منتقل ہونے جارہی ہے‘، فیصل ممتاز راٹھور کا بطور وزیراعظم آزاد کشمیر آخری خطاب

دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو انتقال کرگئے

بھارت جان لے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی آبی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسحاق ڈار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرول 58پیسے، ڈیزل 17پیسے سستا

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ