امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھاتے ہوئے جمعے کے روز اس پر مزید نئی پابندیاں عائد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں ٹرمپ ایونیو کا نام تبدیل ہونے کا امکان، ’ٹیکو ایونیو‘ سمیت مختلف نام زیرِ غور
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ایران کی باقی معاشی شاہ رگوں کو کاٹنا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے یو اے ای میں قائم مصری بینک ‘بینک مصر’ کی برانچوں کی امریکی ڈالر تک رسائی منقطع کرنے کی تجویز دی ہے کیونکہ اس بینک پر ایران کے ساتھ مالی معاملات برقرار رکھنے کا الزام ہے۔
ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے ‘بینک ملی’ سے منسلک ایک فرد پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
U.S. Sanctions Sever Financial Lifelines of Iranian Regimehttps://t.co/3KmQNbDfHd
— U.S. State Dept – Near Eastern Affairs (@StateDept_NEA) August 28, 2026
امریکی سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاؤس کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کا معاشی آپریشن جاری ہے اور جو بھی ادارہ یا ملک ایران کی مدد کرے گا، اسے امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا
وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کی ایران کے خلاف ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
ایران کا ردعمل اور سفارتی مؤقف
ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکا کی اس مہم کو ریاستی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکا کا ڈالر کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا اقوام متحدہ کے ارکان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے اسے گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کا تسلسل قرار دیا۔
بیانیه وزارت امور خارجه درباره
تروریسم اقتصادی آمریکا علیه ایراناعلام جنگ اقتصادی علیه ایران در ادامه جنگ تجاوزکارانهای است که آمریکا و رژیم صهیونیستی در ۱.۵ سال اخیر به بهانههای واهی و بیاساس علیه ایران مرتکب شده و صلح و امنیت منطقهای و بینالمللی را به خطر انداختهاند pic.twitter.com/bhO6XJUEga
— وزارت امور خارجه (@IRIMFA) August 28, 2026
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے قطری ہم منصب سے بات چیت کے بعد ایکس پر لکھا کہ سفارتکاری کا راستہ اب بھی ممکن ہے بشرطیکہ امریکا یہ بات سمجھے کہ دباؤ کی پالیسی کام نہیں کرے گی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار، معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی مؤثر قرار
انہوں نے کہا کہ امریکا کو احترام سے بات کرنی ہوگی اور اپنے معاہدو ں کی پاسداری کرنی ہوگی۔














