آبنائے ہرمز کے اعصابی مرکز لارک جزیرے پر امریکی حملہ، محدود کارروائی یا نئی جنگ کا آغاز؟

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی ایک ایسے نہ رکنے والے دائرے کی شکل اختیار کر چکی ہے کہ امن کی پیدا ہوتی امیدیں یکدم کسی نئے غیر متوقع حملے سے معدوم پڑ جاتی ہیں، گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کا دورہ کیا، جہاں ایرانی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

اسی ہفتے پیر کو ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کا معاملہ طے پا گیا تو امید پیدا ہوئی کہ اب کشیدگی میں کمی اور امن کی جانب پیشرفت ہوگی۔

لیکن گزشتہ روز، یعنی 30 اگست کو، ایک بار پھر صورتحال نے خطرناک موڑ اس وقت اختیار کیا جب امریکی افواج نے ایران کے اہم تزویراتی جزیرے لارک پر حملہ کرکے پاسداران انقلاب کے 2 راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا خارگ جزیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ، لارک پر حملے کے بعد ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی

ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے میں اپنے متعدد اہلکاروں اور شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم اب تک ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی۔

امریکی حکام کے مطابق کارروائی میں 2 ایرانی راکٹ لانچرز تباہ کیے گئے، جو مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں پہنچانے یا نصب کرنے کی تیاری میں استعمال ہونے والے تھے۔

امریکی مؤقف ہے کہ یہ اقدام تجارتی جہاز رانی کو لاحق فوری خطرے کو روکنے کے لیے کیا گیا۔

ایران نے اس حملے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی اور چند ہی گھنٹوں بعد اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، یوں لارک پر حملہ محض ایک محدود فضائی کارروائی نہیں رہا بلکہ اس نے ایران، امریکا اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے درمیان ایک نئے براہِ راست تصادم کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

ایرانی جزیرے لارک کی کیا اہمیت ہے؟

سوال یہ ہے کہ ایران کے ہزاروں مربع کلومیٹر پر پھیلے علاقے میں امریکا نے ایک چھوٹے سے جزیرے لارک کو کیوں نشانہ بنایا؟ اس کا جواب اس جزیرے کی جغرافیائی اہمیت میں پوشیدہ ہے۔

لارک جزیرہ آبنائے ہرمز کے انتہائی اہم حصے کے قریب واقع ہے، آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے، لارک بظاہر ایک چھوٹا جزیرہ ہونے کے باوجود ایران اور امریکا کی بحری حکمت عملی میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

بحری بارودی سرنگیں اصل مسئلہ

لارک پر امریکی کارروائی کا سب سے اہم پہلو میزائل لانچرز سے زیادہ بحری بارودی سرنگیں ہیں، امریکی حکومتی ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار ایسے راکٹ لانچرز تیار کر رہے تھے جن کے ذریعے بارودی سرنگیں آبنائے ہرمز میں پہنچائی جا سکتی تھیں۔

اگر یہ کارروائی کامیاب ہو جاتی تو تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے خطرہ کئی گنا بڑھ سکتا تھا، ایران کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو وہ آبنائے کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے صرف چند مقامات پر بارودی سرنگوں کا خطرہ پیدا کرکے بھی عالمی جہاز رانی کو سست، محدود یا انتہائی مہنگا بنا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ لارک جزیرے کی فوجی اہمیت بھی خاصی ہے۔ اگر ایران کے جنوبی ساحلی جغرافیے کو دیکھا جائے تو ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے آس پاس کئی جزائر موجود ہیں، جن میں قشم، ہرمز اور لارک خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ جزائر ایران کو آبنائے کے اندر اور اس کے اطراف بحری سرگرمیوں کی نگرانی، میزائلوں کی تعیناتی اور بحری کارروائیوں کے لیے موزوں مقامات فراہم کرتے ہیں۔

لارک کی خاص اہمیت اس لیے ہے کہ یہ آبنائے کے ایسے حصے کے قریب ہے جہاں سے گزرنے والے بحری جہاز ایران کی دفاعی صلاحیتوں کی زد میں آ سکتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران مخالف کسی طاقت کے لیے مخصوص سمندری علاقے میں آزادانہ کارروائی کرنا مشکل، خطرناک اور مہنگا بنایا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ

آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کے نظام میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے، دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک سے نکلنے والی توانائی کی ایک بڑی مقدار آبنائے ہرمز سے گزر کر عالمی منڈی تک پہنچتی ہے۔

اسی لیے اگر ایران اس آبی راستے کو مکمل یا جزوی طور پر بند کر دے تو اس کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک سمیت پوری عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایرانی جزیرے پر امریکی حملہ، تیل کی قیمت 89 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی

پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان پہلے ہی مشکل صورت حال سے دوچار ہے، مزید بندش کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، پاکستان کا درآمدی بل بڑھ سکتا ہے، پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں، عالمی شپنگ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، خلیجی ممالک سے پاکستان آنے والی تجارت متاثر ہو سکتی ہے اور پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی توانائی مارکیٹ میں مزید بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔

کیا امریکی حملہ پھر سے جنگ کا آغاز ہے؟

30 اگست کا حملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ جولائی کے بعد ایران کے خلاف امریکا کی پہلی براہِ راست فوجی کارروائی ہے، امریکا بظاہر اس کارروائی کو محدود رکھنا چاہتا ہے۔ 2 لانچرز کو نشانہ بنانے کا مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش برداشت نہیں کرے گا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایران اس کارروائی کو اپنے خلاف ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ پاسداران انقلاب نے واضح طور پر کہا ہے کہ حملے کا جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کیلئے امریکا کا ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ

اس کے بعد اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے شروع ہونے والی کشیدگی اب پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔

یہ صورتِ حال خطے کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج پیدا کرتی ہے۔

لارک کے بعد اگلا ہدف کیا ہوگا؟

لارک حملے کے بعد ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکا محدود کارروائیوں تک رہے گا یا ایران کے مزید جزائر اور ساحلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اس سوال کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

دوسری طرف ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے اطراف متعدد فوجی تنصیبات اور میزائل صلاحیتیں موجود ہیں، اس لیے ایک حملہ دوسرے حملے کو جنم دے سکتا ہے۔

اصل جنگ لارک پر نہیں، آبنائے ہرمز پر ہے

لارک پر ہونے والا حملہ بظاہر صرف 2 راکٹ لانچرز کو تباہ کرنے کی کارروائی ہے، لیکن اس کے پیچھے اصل مقابلہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا ہے۔

ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کے ساحلوں اور جزائر کے قریب کوئی طاقت بلا روک ٹوک کارروائی نہیں کر سکتی، امریکا دوسری طرف یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ عالمی تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ لارک کی اہمیت اس کے رقبے سے کہیں زیادہ ہے، یہ جزیرہ آبنائے ہرمز کے اس تزویراتی کھیل کا ایک اہم مہرہ ہے، جس میں داؤ صرف ایران اور امریکا کی عسکری برتری کا نہیں بلکہ عالمی توانائی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے مستقبل کا بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسمارٹ چشمے اور خواتین کی پرائیویسی: پاکستان میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نیا خطرہ؟

وزیرِاعظم شہباز شریف کی ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں

محبوبہ کو بھیجا گیا پرانا میسج والدہ کو مل گیا: گوگل نجی گفتگو نئے پیغامات کے ساتھ بھیجنے لگا، صارفین شرمندہ

سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی اہم سفارتی فتح ہے، وزیر توانائی اویس لغاری

’شیروز‘ کا ٹریلر جاری، کنزہ ہاشمی، زارا نور عباس اور اشنہ شاہ نئے روپ میں

ویڈیو

سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پمز آتشزدگی: 1122 پر کال موصول ہوتے ہی ریسکیو فائر بریگیڈ کی گاڑی 6 منٹ میں اسپتال کیسے پہنچی؟

بلوچستان کی پہلی خاتون کرکٹ کوچ نوجوان لڑکیوں کے لیے امید اور حوصلے کی مثال بن گئیں

کالم / تجزیہ

پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوگا؟

سلام سسٹر رضیہ نورین!

قبض، گٹر اور انقلاب