وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئے صوبوں کی بات پر اختلاف کرنا ہے تو ذوالفقار علی بھٹو شہید سے اختلاف کیا جائے، کیونکہ صوبوں کے قیام کی بات پاکستان کے آئین میں ذوالفقار علی بھٹو شہید نے رکھوائی تھی۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 239 میں صوبوں کے قیام سے متعلق بات موجود ہے، یہ آرٹیکل انہوں نے نہیں بنایا بلکہ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے بنایا تھا۔
مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے بنانے کی بات کرنا نہ کفر ہے، نہ غیر آئینی اور نہ ہی غیر جمہوری، بلکہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ کے مطابق ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہاکہ جو بھی صوبے کے انتظامی یونٹ بنانے کی مخالفت کرتا ہے اور اس پر گالیاں دیتا ہے، وہ ہمیں نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگلی بات نئے صوبوں کے قیام کے طریقہ کار کی ہے۔ آئین کے مطابق صوبے میں اسمبلی کی دو تہائی اکثریت اور سینیٹ و قومی اسمبلی میں بھی دو تہائی اکثریت ہونی چاہیے، یہ بات تسلیم ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لیکن اگر ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے آئین کی کتاب میں ساری بات درست ہوتی تو اب تک آئین میں 27 ترامیم نہ کی جاچکی ہوتیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آئین میں کوئی کمی رہ گئی ہے اور صوبے بنانے کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی ایک کمی رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اب اس طریقہ کار کو درست کرنے کا وقت آگیا ہے اور آج کے زمانے میں اس کی ضرورت بھی پیدا ہوچکی ہے، کیونکہ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ موجودہ نظام میں ایک وفاق اور چار بڑے بڑے صوبے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اس سال بجٹ آنے کے پہلے دن وفاقی حکومت نے صوبوں کے حوالے 8 ہزار 884 ارب روپے کردیے۔
مزید پڑھیں: مجھے محسن نقوی کی قابلیت پر کوئی شک نہیں، اگر وہ چاہیں تو نئے صوبے بن جائیں گے، مفتاح اسماعیل
انہوں نے کہا کہ یہ رقم صوبوں کے لوگوں کے حوالے نہیں کی گئی بلکہ چار لوگوں کے حوالے کی گئی جنہیں وزیراعلیٰ کہا جاتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ ان کے صوبے کو 2 ہزار 263 ارب روپے دیے گئے، لیکن ان کی گلیوں میں 2 ہزار روپے بھی نہیں لگے۔













