سابق سفارتکار اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق حالیہ فیصلوں نے پاکستان کے مؤقف کو مضبوط کیا ہے اور بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کرسکتا اور نہ ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی منصوبے تعمیر کرسکتا ہے۔ اعزاز چوہدری کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران مسلسل ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن سے پاکستان کا یہ مؤقف درست ثابت ہوا کہ بھارت کو اپنے آبی منصوبوں کے ڈیزائن اور تعمیر میں سندھ طاس معاہدے کی شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔
وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سے چار سال سے اس معاملے پر عدالتی کارروائی جاری تھی۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ بنانے اور اس کے بعد رتلے منصوبے کو ڈیزائن کرنے پر پاکستان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ ان منصوبوں کے ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی ضروریات پوری نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو ثالثی عدالت میں لے جانا چاہتا تھا جبکہ بھارت کا مؤقف تھا کہ معاملے کے لیے نیوٹرل ایکسپرٹ مقرر کیا جائے۔ تاہم ثالثی عدالت نے 2023 میں فیصلہ دیا کہ وہ اس تنازع کو سننے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔
اعزاز چوہدری کے مطابق اس کے بعد 2025 میں بھی دو اہم فیصلے سامنے آئے۔ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد بھارت نے اپنی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے اسے ‘abeyance’ میں رکھنے کا اعلان کیا، تاہم ثالثی عدالت نے واضح کیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر ایسا نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ مئی اور اگست میں آنے والے فیصلوں میں بھی بھارت کے آبی منصوبوں، ان کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی حدود سے متعلق معاہدے کی شرائط واضح کی گئیں۔ ان کے مطابق اگست کے فیصلے میں عدالت نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت کا یہ مؤقف درست نہیں کہ معاہدہ مؤثر نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیے عالمی ثالثی عدالت: سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی بڑی کامیابی، بھارت کو بدترین شکست، ڈیم پر کام روکنے کا حکم مل گیا
اعزاز چوہدری نے کہا کہ 31 اگست کو سامنے آنے والے تازہ فیصلے میں معاملہ مزید واضح ہوگیا اور بھارت سے کہا گیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائے جانے والے منصوبوں کی تعمیر روک دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے ذریعے بھارت کو ایک انتہائی واضح پیغام ملا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے اور سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو بھارت کے اقدامات کو جائز قرار دے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود مودی حکومت اس ضد پر قائم دکھائی دیتی ہے کہ اسے اس بات کی پروا نہیں کہ دنیا یا بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے اور وہ وہی کرے گی جو خود چاہتی ہے۔
پانی کی تقسیم کے عالمی نظام کے لیے خطرناک مثال
بھارت کے خلاف فیصلے اور آبی معاملات میں اس کے رویے سے متعلق سوال پر اعزاز چوہدری نے کہا کہ جب وہ نیدرلینڈز میں تعینات تھے تو کشن گنگا کیس کے حوالے سے رائے لینے اور معاملے کا مطالعہ کرنے کے لیے ثالثی عدالت سے متعلق امور کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً لاطینی امریکا میں پانی سے متعلق متعدد تنازعات باہمی رضامندی اور طے شدہ قانونی انتظامات کے ذریعے حل ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بدقسمتی سے بھارت اس معاملے میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے، حالانکہ عدالتی کارروائی اور فیصلوں سے اسے مسلسل واضح اشارے مل رہے ہیں کہ پانی کی تقسیم اور اس کی مقدار طے کرنے کے لیے متعلقہ معاہداتی نظام کی پابندی ضروری ہے۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ دنیا بھر میں پانی کی تقسیم کے معاہدوں سے متعلق انتہائی حساسیت پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر زیریں علاقوں میں واقع ممالک کے لیے ایسے معاہدے سب سے اہم ہوتے ہیں اور دنیا کے ممالک نہیں چاہتے کہ سندھ طاس معاہدے کے معاملے میں کوئی ایسا غلط نظیر قائم ہو جس سے دوسرے بین الاقوامی آبی معاہدے بھی متاثر ہوں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، عالمی ثالثی عدالت کا پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب سندھ طاس معاہدے کی مثال دنیا بھر میں دی جاتی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں ہونے کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا، لیکن اب مودی حکومت کے اقدامات کے باعث ایک ایسی منفی مثال سامنے آئی ہے جس نے دنیا بھر میں پانی کی تقسیم کے معاہدوں اور انتظامات سے وابستہ ممالک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
پاکستان کے مؤقف کی کامیابی سے متعلق انہوں نے کہا کہ جب کوئی ملک قانون اور اپنے معاہدوں کے ساتھ دیانت دار اور مخلص ہو تو نتائج بھی اس کے مؤقف کو درست ثابت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے ان بیانیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جو بھارتی حلقوں کی جانب سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے حالیہ مضمون ‘Water Coercion’ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے بھارت کے چار اہم بیانیوں کا جائزہ لیا تھا۔
اعزاز چوہدری کے مطابق پہلا بھارتی بیانیہ یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک ’غیر مساوی معاہدہ‘ ہے اور مودی حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے معاہدے میں غلطی کی اور پاکستان کو زیادہ جبکہ بھارت کو کم پانی دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ چھ دریاؤں میں سے دریائے سندھ اور دریائے جہلم کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے کہ بھارت چاہے بھی تو وہاں سے زیادہ پانی نہیں لے سکتا کیونکہ قدرتی جغرافیہ ان دریاؤں کے بہاؤ کو پاکستان کی طرف لے آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باقی دریاؤں میں چناب، راوی، بیاس اور ستلج شامل ہیں۔ راوی، بیاس اور ستلج کا سو فیصد پانی بھارت کو دیا گیا جبکہ چناب کے حوالے سے بھی بھارت کو مجموعی سندھ آبی نظام میں تقریباً 20 فیصد تک استعمال کی گنجائش حاصل ہے۔ بھارت چناب، جہلم اور سندھ پر معاہدے کے تحت رن آف دی ریور منصوبے بھی بنا سکتا ہے اور کئی منصوبے بنا بھی رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو غیر مساوی معاہدہ قرار دینا درست نہیں۔ یہ معاہدہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے، اس لیے اچانک اسے غیر مساوی قرار دینا سیاسی معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے پانی کو سیاسی مسئلہ بنا دیا اور ’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے‘ جیسے بیانیے اختیار کیے کیونکہ پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگانا بھارت کی داخلی سیاست میں ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ ان کے نزدیک سندھ طاس معاہدہ کوئی غیر مساوی سودا نہیں تھا اور پنڈت نہرو نے سوچ سمجھ کر اس معاہدے کو قبول کیا تھا۔
بھارت کے دوسرے بیانیے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان معاہدے کی شرائط پر بہت زیادہ زور دیتا ہے جس کے نتیجے میں بھارت آبی منصوبے نہیں بنا پاتا اور کشمیر کے لوگوں کو نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ نہیں کہتا کہ بھارت منصوبے نہ بنائے۔ پاکستان صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ منصوبے سندھ طاس معاہدے میں درج شرائط کے مطابق بنائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت بڑی تعداد میں ڈیم بناتا رہے اور پاکستان کو یہ اطلاع بھی نہ دے کہ کتنے منصوبے تعمیر کیے جارہے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ دریا کا پورا پانی روکنا بہاؤ کے موسم میں آسان نہیں، لیکن اگر بھارت بڑی تعداد میں ذخائر بنالے اور بوائی کے اہم سیزن میں صرف 24 یا 48 گھنٹوں کے لیے بھی پانی روک لے تو پاکستان کی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کا حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ منصوبے معاہدے کے مطابق تعمیر ہورہے ہیں یا نہیں۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت کا تیسرا بیانیہ یہ ہے کہ اسے تقریباً 3.6 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال کرنے کی اجازت حاصل تھی لیکن اس نے اس پانی کو بھی مکمل طور پر استعمال نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بھارت کو اس پانی کے استعمال سے نہیں روکا۔ یہ پانی بھارت کو زراعت اور دیگر ضروریات کے لیے دیا گیا تھا اور اگر بھارت نے اسے استعمال نہیں کیا تو اس کی بنیاد پر معاہدے سے ہٹ کر اقدامات کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ چناب کے اوپری حصے میں دو معاون ندیاں آتی ہیں، جن میں چندرا بھی شامل ہے، اور بھارت چندرا سے بیاس کی جانب ایک سرنگ بنانے پر کام کررہا ہے۔ بھارتی مؤقف کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً 0.6 ملین ایکڑ فٹ پانی منتقل کیا جائے گا، جبکہ ان کے مطابق پاکستانی حلقوں کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر اس سے زیادہ پانی منتقل کیا جاسکتا ہے۔
اعزاز چوہدری نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے اس طرح کے ڈائیورژن کی سندھ طاس معاہدے میں اجازت نہیں۔
بھارت کے چوتھے بیانیے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پانی کے معاملے کو پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات سے جوڑتا ہے، حالانکہ دنیا میں اب پاکستان کا نام دہشتگردی کے بجائے امن اور پیس میکنگ کے ساتھ منسلک ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے جبکہ عجیب معاملہ یہ ہے کہ بھارت پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا ہے اور دوسری جانب افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشتگردی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوششیں جاری رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ چاروں بیانیے بے بنیاد ہیں، پاکستان کا مقدمہ مضبوط ہے اور پاکستان کو یہ تمام حقائق دنیا کے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔
پانی روکا گیا تو خطے کے لیے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں
بھارت کی جانب سے بین الاقوامی عدالتی فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے اور پاکستان کی جانب سے پانی کو ریڈ لائن قرار دینے سے متعلق سوال پر اعزاز چوہدری نے کہا کہ خطے کی سیاست کا پانی کے ساتھ انتہائی گہرا تعلق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز سطح کی طرف سے واضح کیا جاچکا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی ڈائیورٹ کیا یا روکا تو معاملہ جنگ تک جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو دونوں ممالک کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ایسی صورتحال میں ایک دوسرے کے ڈیم بھی نشانہ بن سکتے ہیں اور معاملہ خدا نخواستہ جوہری حد تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت جو معاشی ترقی کے بڑے دعوے کرتا ہے، کسی بڑی جنگ کی صورت میں اس کی معیشت بھی رک سکتی ہے اور سرمایہ کاری بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے بھارت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اس راستے پر آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
چین کے کردار سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کے مقابلے میں بالائی دریا والا ملک ہے تو چین کے مقابلے میں بھارت زیریں دریا والا ملک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرنا چاہیے جسے آپ اپنے ساتھ ہونا پسند نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ تبت کی سطح مرتفع سے تقریباً دس بڑے دریا نکلتے ہیں جن میں سندھ کا نظام بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق چین واضح کرچکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ پانی کے معاملے میں زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی بھارت پر ایک دباؤ ہے اور پاکستان کو اس دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے قانونی محاذ پر درست اقدامات کیے ہیں اور چین کے ساتھ مشاورت بھی جاری رہنی چاہیے۔ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ براہ راست بات چیت کے تمام راستے بند رکھتا ہے تو کم از کم چین کے ذریعے اسے یہ پیغام پہنچایا جاسکتا ہے کہ پانی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے عالمی ثالثی عدالت کا سندھ طاس معاہدے کے حق میں فیصلہ، پاکستان کا خیرمقدم
بھارت کے اندر مودی حکومت کی پالیسی کے خلاف ممکنہ ردعمل سے متعلق انہوں نے کہا کہ پانی کا معاملہ انسانی اور بنیادی حقوق کے زاویے سے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ کسی ملک کا پانی روکنے کی دھمکی دینا براہ راست عام انسانوں کی زندگی سے متعلق ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام واقعے کے دو روز بعد بھارت کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا تھا کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں جانے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیان تقریباً اسی مؤقف کا تسلسل تھا جو نریندر مودی نے 2016 میں اختیار کیا تھا کہ ’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘
اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت ایک طرف پاکستان پر خون بہانے کا الزام لگاتا ہے اور دوسری طرف پانی روکنے کی بات کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں بھارت کا مقدمہ کمزور ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے بھارت کے چاروں بیانیے، ان کے اصل حقائق اور پاکستان کے جوابات واضح طور پر پیش کرنے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے اندر بھی یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ کس طرح عالمی طاقت بننے کا خواہش مند ہے جبکہ اپنے ہی خطے کے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مسائل پیدا کررہا ہے، بنگلہ دیش کے ساتھ بھی اختلافات ہیں، نیپال پر دو مرتبہ اقتصادی پابندیوں جیسی صورتحال پیدا کی گئی اور مالدیپ میں بھی ’انڈیا آؤٹ‘ اور بھارتی فوجیوں سے متعلق مہم سامنے آئی۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ اگر بھارت اپنے خطے کے تمام ممالک کو ناراض رکھے گا تو اس کے لیے عالمی سطح پر وہ پروفائل حاصل کرنا مشکل ہوگا جس کا وہ خواہش مند ہے۔ بھارت کے اہل فکر کو ان معاملات پر غور کرنا چاہیے۔
آبی جارحیت اور ’آبی دہشتگردی‘ کی اصطلاح سے متعلق سوال پر اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت کے اقدامات کے لیے آبی دہشتگردی کی اصطلاح بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ معصوم اور عام لوگوں کی زندگیوں پر حملہ کیا جائے۔ پانی پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے زندگی ہے، اس لیے اگر عام پاکستانیوں کی زندگی اور روزگار کو نشانہ بنایا جائے تو اسے ایک لحاظ سے دہشتگردی کے دائرے میں دیکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبی جارحیت اور آبی دہشتگردی، دونوں اصطلاحات بھارت کے موجودہ طرز عمل پر لاگو ہوسکتی ہیں۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور جو ملک بین الاقوامی قوانین کی عزت نہ کرے یا انہیں تسلیم نہ کرے، اسے انگریزی میں ’روگ اسٹیٹ‘ کہا جاتا ہے، یعنی ایسا ملک جو کسی ضابطے کی پروا نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو سوچنا چاہیے کہ نریندر مودی اسے کس راستے پر لے جارہے ہیں۔
پاکستان کو عالمی ثالثی عدالت میں حاصل ہونے والی کامیابی کے بعد آئندہ کے اقدامات سے متعلق اعزاز چوہدری نے کہا کہ سب سے پہلے سفارتی محاذ پر بھرپور کام جاری رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارت کار یقیناً اس حوالے سے کام کررہے ہوں گے اور متعلقہ وزرا بھی بات کررہے ہیں، لیکن ملک میں بیشتر وقت داخلی سیاست پر صرف ہوجاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی پروگراموں میں زیادہ تر داخلی سیاست زیر بحث رہتی ہے جبکہ پانی پاکستان کے مستقبل اور پاکستانی عوام کی زندگی سے متعلق معاملہ ہے، اس لیے اس پر زیادہ توجہ ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے بیانیوں کو عالمی سطح پر رد کیا جانا چاہیے تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے کہ بھارتی مؤقف مفروضوں پر مبنی اور غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ پاکستان کو اپنا مقدمہ سفارتی سطح پر بھرپور انداز میں پیش کرنا ہوگا۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ دوسرا اہم محاذ قانونی ہے اور انہیں یقین ہے کہ پاکستانی قانون دان مزید ایسے فورمز تلاش کریں گے جہاں یہ معاملہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سندھ طاس معاہدہ پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ بھارت کے لیے شرمندگی کے سوا کچھ نہیں، عطااللہ تارڑ
انہوں نے ایک ایسے بین الاقوامی نظام یا کنونشن کا بھی ذکر کیا جو بین الاقوامی معاہدوں کے معاملات دیکھتا ہے اور کہا کہ ممکنہ طور پر وہاں بھی معاملہ لے جایا جاسکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس قانونی پہلو کی مکمل تفصیلات نہیں رکھتے اور پاکستان کے قانونی ماہرین اس حوالے سے بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی دباؤ بھی برقرار رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تیسرا راستہ چین کے ذریعے بھارت تک پیغام رسانی کا ہے۔ پاکستان کو چین کے ذریعے بھی بھارت تک یہ واضح پیغام پہنچانا چاہیے کہ پانی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکا کے ذریعے بھی بھارت تک پیغام پہنچایا جاسکتا ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات خاصے اچھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت گزشتہ کئی برسوں سے امریکا کے ساتھ قربت بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہے، اس لیے امریکا سے بھی بھارت کو یہ پیغام ملنا چاہیے کہ وہ پانی کے معاملے میں ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی اپنی واضح ریڈ لائن بتا چکا ہے کہ اگر بھارت پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی طرف گیا تو اس کے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
اعزاز چوہدری کے مطابق پاکستان کو اس معاملے پر ایک جامع اور کثیرالجہتی حکمت عملی اپنانی چاہیے جس میں سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی رابطوں کے تمام ذرائع شامل ہوں کیونکہ پاکستان کی زندگی اور بقا کا دارومدار ان دریاؤں کے پانی کے بہاؤ پر ہے۔













