میر رضا قتل کیس: سندھ ہائیکورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کردی

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا قتل کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کیس کی تحقیقات غیر جانبدارانہ، منصفانہ اور تیزی سے مکمل کی جائیں۔

میر رضا کے اہلخانہ نے وکیل جبران ناصر کے ذریعے درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں سنگین خامیاں رہیں، شواہد سے مناسب طریقے سے نمٹا نہیں گیا، بعض شواہد ضائع ہوئے اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی محفوظ نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سندھ حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ میر رضا کی موت کی تحقیقات کے لیے پہلے ہی عدالتی کمیشن تشکیل دیا جاچکا ہے۔

عدالت کے تحریری حکم کے مطابق تفتیشی افسر نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات قانون کے مطابق مکمل کی جائیں گی اور ضرورت پڑنے پر دیگر تحقیقاتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی معاونت حاصل کی جائے گی۔

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار شفاف اور منصفانہ تحقیقات یقینی بنانے کے لیے دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کرسکتا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے وکلا سے یہ بھی استفسار کیا کہ جاری تحقیقات کی نگرانی کرنے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دینے کے لیے عدالت کے پاس کیا اختیار ہے۔

سرکاری وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت جاری تحقیقات میں مداخلت یا اس کی نگرانی نہیں کرسکتی، خصوصاً اس وقت جب پولیس نے مقدمے کا چالان ابھی جمع نہیں کرایا۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: شاہراہ فیصل بلاک کرنے پر 100 کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج

عدالت نے بالآخر درخواست مسترد کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو تحقیقات شفاف، منصفانہ اور تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل ناصر نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست عدالت سے قتل کی تحقیقات، قاتلوں کی شناخت یا کسی کی مجرمانہ ذمہ داری طے کرنے کے لیے نہیں تھی بلکہ تحقیقات میں سامنے آنے والی دستاویزی خامیوں کا عدالتی جائزہ لینے اور یہ طے کرنے کے لیے تھی کہ آیا آزاد اور مختلف اداروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی ضرورت ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق عدالت کے فیصلے میں دو مختلف امور کو ایک سمجھا گیا، ایک آئینی عدالت کی جانب سے جاری تحقیقات کی نگرانی اور دوسرا یہ جائزہ لینا کہ آیا تحقیقات خود متاثر یا سمجھوتے کا شکار ہوچکی ہیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ تحقیقات میں جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی وہ محض الزامات نہیں بلکہ دستاویزی حقائق ہیں، جبکہ تحقیقات کے دوران ضائع یا متاثر ہونے والے شواہد بعد میں واپس حاصل نہیں کیے جاسکتے۔

میر رضا قتل کیس کا پس منظر

میر رضا کو مبینہ طور پر کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد 29 جولائی کو گلستانِ جوہر میں ایک شادی ہال کے قریب جھاڑیوں سے ان کی لاش ملی۔

ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں تھا کہ میر رضا کو قتل کیا گیا یا ان کی موت خودکشی سے ہوئی۔ پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیاں اور تضادات سامنے آنے کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا، جس میں موت کو قتل قرار دیا گیا۔

بعد ازاں تفتیشی افسر نے سندھ ہائیکورٹ کو بتایا تھا کہ پولیس نے خودکشی کے امکان کو مسترد کرکے کیس کو قتل کے طور پر تفتیش میں شامل کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: 19 روز بعد سندھ پولیس نے خاموشی توڑ دی، طبی اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ جاری

ڈی ایس پی سراج لاشاری کے مطابق 13 اگست سے تحقیقات نئے سرے سے شروع کی گئی تھیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ تفتیش کے دوران گولی کا خول بھی ملا، تاہم اسلحہ تاحال برآمد نہیں کیا جاسکا تھا جبکہ حتمی پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کا انتظار تھا۔

دوسری جانب میر رضا کی موت کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن نے یکم ستمبر کو دوسرے اجلاس میں پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں تضادات پر میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ سے سوالات کیے اور اسے مبینہ غفلت قرار دیا۔ کمیشن نے میر رضا کے اہلخانہ اور لاش منتقل کرنے والے ایدھی رضاکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔

عدالتی کمیشن کا آئندہ اجلاس کل ہوگا، جس میں 7افراد کو طلب کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp