پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں اور اس کے ساتھ ہی پارٹی نے اپنی اسٹریٹ موومنٹ کا دائرہ بھی دیگر صوبوں تک بھی وسیع کر دیا ہے۔تاہم مارچ کے حوالے سے مشاورت کے فقدان اور دیگر تنظیمی معاملات پر پارٹی کے اندر شدید اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مارچ پر کارکنان اور قائدین اصولی طور پر متفق ہیں۔ دوسری جانب، ضلعی رہنماؤں اور بیشتر منتخب اراکین نے مرکزی قیادت اور سہیل آفریدی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں اس کا موقع نہیں دیا جا رہا۔
مشاورت نہیں ہو رہی؟
پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور منتخب اراکین نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے پشاور جلسے اور پھر اسلام آباد مارچ کا اعلان تو کر دیا، مگر اس حوالے سے کسی سے کوئی باقاعدہ مشاورت نہیں کی گئی۔
ان کا ماننا ہے کہ کارکنان کو متحرک کر کے نکالنا متعلقہ ضلعی قیادت اور منتخب اراکین کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:24 نومبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان، پی ٹی آئی قیادت عمران خان سے ناخوش کیوں؟
پشاور سے منتخب رکنِ خیبر پختونخوا اسمبلی فضل الٰہی نے اس بات کی تصدیق کی کہ لانگ مارچ کے حوالے سے تاحال کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ ماضی میں پارٹی تمام معاملات پر تفصیلی مشاورت کرتی تھی اور قیادت سمیت اراکین کی رائے لی جاتی تھی، لیکن اب صرف احکامات صادر کیے جا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران قائدین نے یک طرفہ فیصلہ سنا دیا۔ اس موقع پر یہ تک جاننے کی زحمت نہیں کی گئی کہ کارکنان کو کس طرح نکالا جائے گا۔
فضل الٰہی نے کہا کہ ’کسی بھی احتجاج یا لانگ مارچ کی کامیابی کے لیے مشاورت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ جو لوگ عملی کردار ادا کریں گے، ان کی رائے لینا انتہائی ضروری ہے، مگر اب تک ایسا نہیں ہوا’۔
جنوبی اضلاع سے منتخب پی ٹی آئی کے ایک اور رکنِ اسمبلی نے بتایا کہ اس وقت سہیل آفریدی اور جنید اکبر مل کر تمام فیصلے کر رہے ہیں اور کسی دوسرے سے مشاورت کی زحمت گوارا نہیں کر رہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پارٹی اس وقت شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہے، اور مارچ سے قبل ان تحفظات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔
رکنِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ جب فنڈز مانگنے کی باری آتی ہے تو اراکین سے رجوع کیا جاتا ہے، لیکن فیصلوں میں انہیں شامل نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’ ہم بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں کہ صبح اٹھ کر بس اسلام آباد چل پڑیں۔ اس کے لیے مکمل منصوبہ بندی اور ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے’۔
فنڈز کے مطالبے پر تحفظات
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پشاور میں تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے دوران واضح کیا کہ مارچ کے لیے خطیر فنڈز درکار ہیں، لہٰذا منتخب اراکین اور حامیوں کو آگے آنا چاہیے۔
جنید اکبر کے مطابق مارچ کے پہلے دن کا متوقع خرچہ 45 کروڑ روپے تک ہے۔ ان کی جانب سے فنڈز کے اس مطالبے پر پارٹی قیادت اور اراکین میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو استعمال کررہے ہیں، اپوزیشن اتحاد نہیں چل پائے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی کو فی حلقہ 45 لاکھ روپے جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے اور اتنی بڑی رقم اکٹھا کرنا ان کے لیے ہرگز آسان نہیں ہے۔
ایک رہنما نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے اندر کرپشن کے حوالے سے بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ صوبائی حکومت کے نام پر اربوں روپے کمانے والے افراد اب چندہ دیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ‘اگر کسی نے واقعی کرپشن کی ہے تو ان کے نام منظرِ عام پر کیوں نہیں لائے جا رہے؟’ حاجی فضل الٰہی نے بھی فنڈز جمع کرنے کے موجودہ طریقہ کار پر اعتراض کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ کے دن بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر ہوں گے اور انہیں منظم کرنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے تجویز دی، ‘بہتر ہوگا کہ جن حلقوں سے جتنے بھی کارکنان نکلیں، ان کی ٹرانسپورٹ سے لے کر کھانے پینے تک کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ رکنِ اسمبلی کے سپرد کر دی جائے، اس طرح انتظامات زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم نے کون سا فائیو اسٹار ہوٹل میں کھانا پینا ہے، یہ ایک احتجاج ہے اور ہم اپنی استطاعت کے مطابق جو کچھ کر سکتے ہیں، کریں گے’۔
ورکرز کا اعتماد نہیں ہے
پی ٹی آئی پشاور کے ایک ضلعی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موجودہ حالات میں کارکنان کو اعتماد میں لینے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہر بار پشاور سے سب سے زیادہ لوگ احتجاج کے لیے نکلتے ہیں، مگر ہر بار انہیں مایوس ہو کر واپس لوٹنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مارچ میں علی امین گنڈاپور کارکنان کو لے کر اسلام آباد گئے تھے، تاہم اندرونی اختلافات کے باعث پارٹی اور کارکنان کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
رہنما نے شکوہ کیا کہ ‘علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی تو خیریت سے واپس آ گئے، لیکن نقصان غریب کارکنان کا ہوا’۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت علی امین اور بشریٰ بی بی کے مبینہ اندرونی اختلافات نے تحریک کو نقصان پہنچایا، جس پر اب تک مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اراکین اور قائدین تو موقع دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں، جبکہ پولیس کے سامنے صرف بے بس کارکنان رہ جاتے ہیں‘۔
ایک اور رہنما نے توجہ دلائی کہ پارٹی کے کئی کارکنان تاحال جیلوں میں ہیں جبکہ کچھ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، لیکن آج کوئی ان کا یا ان کے اہلِ خانہ کا پرسانِ حال نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ‘ایسے حالات میں کون دوبارہ نکلنے کے لیے تیار ہوگا؟’
علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ہونے والے پچھلے مارچ کے دوران گرفتار ہونے والے ایک کارکن نے بتایا کہ وہ کئی ماہ تک جیل میں قید رہے۔ انہوں نے اپنے خرچے پر وکیل کیا اور خود اپنی ضمانت کروائی۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ پارٹی کی جانب سے صرف تسلیاں دی گئیں، لیکن عملی طور پر کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔
اس کارکن نے مزید بتایا کہ رہائی کے بعد ان کی وزیراعلیٰ ہاؤس میں اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے ملاقات بھی ہوئی تھی، جہاں وزیراعلیٰ نے انہیں مالی امداد اور نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا۔
مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘وہ دن اور آج کا دن، کسی نے پلٹ کر ہمارا حال تک نہیں پوچھا’۔ ان کا کہنا تھا کہ اب دوبارہ کارکنان کو فعال کرنے کی کوششیں تو ہو رہی ہیں، لیکن جو پرانے اور ناراض ورکرز ہیں، انہیں منانے کے لیے کوئی ان کے پاس نہیں جا رہا۔
کارکن کے مطابق انہیں بھی ترجیحی بنیادوں پر سرکاری نوکری دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر علی امین کے جانے کے بعد وہ بات بھی آئی گئی ہو گئی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ قیادت کی باہمی چپقلش کا خمیازہ نچلی سطح کے ورکرز بھگت رہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہونے کے باوجود کارکنان کے جائز کام تک نہیں ہو رہے۔
پنجاب اور سندھ سے لوگ کیوں نہیں نکل رہے؟
خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے رہنما پنجاب اور دیگر صوبوں سے کارکنان کے باہر نہ نکلنے پر بھی شاکی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہر بار احتجاج کا سارا بوجھ خیبر پختونخوا کے کارکنان نے ہی اٹھایا ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک صوبائی رہنما نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ لاہور سے لے کر اسلام آباد تک جہاں بھی احتجاج ہو، اس کی کامیابی کا دارومدار صرف خیبر پختونخوا پر ہوتا ہے۔ ان کے بقول، ‘سندھ اور پنجاب سے کارکنان تو درکنار، رہنما بھی باہر نہیں نکلتے’۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت کو اس صورتحال پر شدید تحفظات ہیں اور اس مسئلے کو پارٹی کے ہر فورم پر اٹھایا بھی گیا ہے۔
رہنما کا کہنا تھا کہ صرف ریاستی سختیوں کا بہانہ بنا کر گھروں میں بیٹھ جانا زیادتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اسلام آباد اور لاہور تک گئے ہیں اور ہر طرح کے کٹھن حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
ان کے مطابق وجودہ مایوس کن حالات میں آئندہ لانگ مارچ کے لیے کارکنان کو سڑکوں پر لانا کسی صورت آسان نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟
پارٹی کے اندرونی اختلافات کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنما اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات، شفیع جان کا موقف اس سے یکسر مختلف ہے۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ خود اسلام آباد مارچ کی اسٹریٹ مہم کی قیادت کر رہے ہیں اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے دوروں کے بعد اب انہوں نے سندھ کے دورے کا بھی آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی بھی دیگر صوبوں کا دورہ کریں گے اور مارچ کے لیے کارکنان کو متحرک کریں گے۔
شفیع جان نے پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے اختلافات کی سختی سے تردید کی اور عزم ظاہر کیا کہ، ‘قیادت سے لے کر نچلی سطح تک تمام کارکنان تیار ہیں اور 27 ستمبر کو ہر صورت اسلام آباد میں داخل ہوں گے’۔
یہ بھی پڑھیں:ضرورت سے زیادہ اعتماد نقصان دیتا ہے، 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کو 2 سال پیچھے دھکیل دے گا، رانا ثنااللہ
پنجاب سے کارکنان کے نہ نکلنے کے سوال پر، پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان شیخ وقاص اکرم نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے حالات میں واضح فرق ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے، جبکہ پنجاب میں سیاسی مخالفین برسرِ اقتدار ہیں۔ ان کے مطابق، پنجاب میں ریاستی مشینری کے ذریعے پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔
تاہم شیخ وقاص اکرم نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پنجاب سے کارکنان بالکل نہیں نکلتے۔انہوں نے وضاحت کی، ‘یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ پنجاب سے لوگ باہر نہیں آتے، ورکرز نکلتے ہیں البتہ ان کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے’۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ پنجاب سے بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آئیں گے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق اسلام آباد کا رخ کریں گے۔













