خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گھر کے کام صرف وہ نہیں جو نظر آتے ہیں بلکہ انہیں یاد رکھنا، منصوبہ بندی کرنا اور ہر وقت آئندہ کی تیاری کرتے رہنا بھی ایک ذمہ داری ہے جس کا بوجھ اکثر خواتین خصوصاً ماؤں پر زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بچے کی پیدائش کے بعد کئی ماؤں میں ذہنی صدمے کی علامات، لیکن اکثر تشخیص نہیں ہو پاتی

3  بچوں کی ماں اسٹیسی میتھیاس کہتی ہیں کہ میرا ذہن ہمیشہ بھرا رہتا ہے اور وہ اکثر سونے کے وقت بھی اگلے دن کے کاموں کی ایک لمبی فہرست ذہن میں لیے لیٹتی ہیں۔

یہی کیفیت ماہرین ’ذہنی بوجھ‘ یا ’مینٹل لوڈ‘ کے نام سے بیان کرتے ہیں۔ اس سے مراد گھر کو چلانے کے لیے ضروری کاموں کی صرف انجام دہی نہیں بلکہ ان کی منصوبہ بندی، یاد رکھنا، انتظام کرنا اور پہلے سے اندازہ لگانا بھی ہے۔

مثلاً بچوں کے اسکول کے دوروں کی تاریخ یاد رکھنا، والدین کے واٹس ایپ گروپس میں پیغامات دیکھنا، یہ نوٹ کرنا کہ گھر میں کون سی چیز صاف کرنے کی ضرورت ہے، بچوں کی نیند پر نظر رکھنا، ڈاکٹر سے وقت لینا یا اسکول یونیفارم خریدنے کا انتظام کرنا۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ ہر گھر اور ہر رشتے کی صورتحال مختلف ہوتی ہے لیکن میاں بیوی پر مشتمل خاندانوں میں اس طرح کا ذہنی کام غیر متناسب طور پر خواتین بالخصوص ماؤں کے حصے میں آتا ہے۔

ماؤں کے حصے میں 71 فیصد ذہنی کام

امریکا میں 3 ہزار والدین پر ہونے والے ایک سروے میں یونیورسٹی آف باتھ اور یونیورسٹی آف میلبورن کے محققین نے پایا کہ ذہنی محنت درکار ہونے والے گھریلو کاموں میں ماؤں کا حصہ 71 فیصد تھا۔

مزید پڑھیے: نیند کو ’پرفیکٹ‘ بنانے کی کوشش کہیں اسے مزید خراب نہ کردے؟

ان کاموں میں یہ یاد رکھنا بھی شامل تھا کہ چادروں اور تولیوں کو کب دھونا ہے یا فریج میں موجود کھانے کو کب تک استعمال کر لینا چاہیے۔

اس کے مقابلے میں والد زیادہ تر ایسے کام کرتے تھے جنہیں محققین نے ’وقفے وقفے سے ہونے والے کام‘ قرار دیا مثلاً گاڑی کی سروس کب کرانی ہے۔

یونیورسٹی آف میلبورن کی پروفیسر لیہ روپانر کے مطابق ذہنی بوجھ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نظر نہیں آتا مسلسل جاری رہتا ہے اور اس کی کوئی واضح حد نہیں ہوتی۔

ان کے مطابق گھر کے برتن تو کام کی جگہ ساتھ نہیں لے جائے جاتے لیکن گھر کی ذمہ داریوں کا ذہنی بوجھ انسان ہر جگہ اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔

’یہ کام صرف چند منٹ کا نہیں‘

بہت سی ماؤں نے بتایا کہ انہیں بچوں کے اسکول کے واٹس ایپ گروپس میں ’ذمہ دار والدین‘ کے طور پر شامل کر دیا جاتا ہے جہاں یونیفارم سے متعلق ہدایات، اسکول ٹرپس، سالگرہ اور گم ہونے والی اشیا جیسی معلومات شیئر ہوتی ہیں جبکہ ان کے شوہر ان گروپس کا حصہ بھی نہیں بنتے۔

پورٹسماؤتھ سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ صوفیہ جو 3 بچوں کی ماں ہیں اسکول کے دوروں کی فیس ادا کرتی ہیں اور اسکول کی ایپ کے ذریعے بچوں کے لنچ کے آرڈر بھی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے شوہر نے اب تک وہ ایپ ہی ڈاؤن لوڈ نہیں کی۔

مزید پڑھیں: خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص میں برسوں کیوں لگ جاتے ہیں؟

صوفیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے کئی مرتبہ شوہر کو ’ذہنی بوجھ‘ کی وضاحت کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں یہ جواب ملا کہ یہ تو چند منٹ میں ہونے والے معمولی کام ہیں۔

ان کے مطابق مسئلہ صرف کام کرنے کا نہیں بلکہ اس کام کے بارے میں پہلے سے سوچنے، منصوبہ بندی کرنے اور کئی قدم آگے رہنے کا ہے۔

’میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟‘ بھی کافی نہیں

لندن میں 2 بچوں کے والد اور اسکول کے نائب سربراہ سیم بیری کہتے ہیں کہ جب ان کی اہلیہ نے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ’ذہنی بوجھ‘ کی بات کی تو ابتدا میں انہیں یہ تصور سمجھ نہیں آیا۔

وہ سمجھتے تھے کہ وہ بچوں کے ڈائپر تبدیل کرنے اور انہیں کھانا کھلانے سمیت بہت سے کام کر رہے ہیں۔ وہ اکثر اپنی اہلیہ سے پوچھتے تھے کہ ’میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟‘

لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ یہ سوال بھی بعض اوقات دوسرے شخص پر ایک اور ذمہ داری ڈال دیتا ہے کیونکہ اب اسے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ دوسرے فرد کو کیا کام کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق مسئلہ صرف کھانا پکانا نہیں بلکہ یہ سوچنا بھی ہے کہ گھر میں کون سی چیز موجود ہے، کیا پکانا ہے، سامان کب خریدنا ہے اور اس کے لیے کیا کچھ درکار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: حاملہ خواتین کے دماغ میں نمایاں تبدیلیاں، تحقیق میں اہم انکشافات

اسٹیسی میتھیاس کے مطابق اگر انہیں اپنے ساتھی سے کوئی کام کروانے کے لیے پہلے کہنا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کام کا کچھ ذہنی بوجھ اب بھی انہی پر ہے۔

مسلسل ذہنی دباؤ نیند اور مزاج کو متاثر کر سکتا ہے

طبی نفسیات کی ماہر نتاشا والیس کے مطابق بعض خواتین کسی ایک بہت بڑے مسئلے کی وجہ سے نہیں بلکہ سینکڑوں چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق بعض خواتین اتنے عرصے تک ’خودکار انداز‘ میں یہ کام کرتی رہتی ہیں کہ انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کتنا ذہنی بوجھ اٹھا رہی ہیں۔

مسلسل کم درجے کا یہ دباؤ اعصابی نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں نیند خراب ہونے، چڑچڑے پن اور مسلسل فیصلے کرنے سے پیدا ہونے والی ذہنی تھکن جیسی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔

والدین کی تربیت کی ماہر انیتا کلیئر کے مطابق یہ ذہنی تھکن کام کی زندگی تک بھی منتقل ہوتی ہے اور طویل مدت میں ناقابلِ برداشت تھکن یا ’برن آؤٹ‘ کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟

ایک تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ آمدن حاصل کرنے والے مرد گھر کے جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کے کام نسبتاً کم کرتے تھے۔ دوسری جانب خواتین کی آمدن بڑھنے کے بعد وہ جسمانی گھریلو کام تو کم کر دیتی تھیں لیکن ذہنی کام کا بوجھ تقریباً اتنا ہی برقرار رہتا تھا۔

یہ فرق پیدا کیوں ہوتا ہے؟

بہت سی خواتین نے بتایا کہ گھر کے ذہنی بوجھ میں عدم توازن کی ابتدا اکثر بچے کی پیدائش کے بعد ہوتی ہے۔

نتاشا والیس کے مطابق خواتین عام طور پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زچگی کی چھٹی لیتی ہیں جس کے باعث وہ بہت جلد بچوں کی ’بنیادی ذمہ دار‘ بن جاتی ہیں۔

ایک مرتبہ اگر گھر میں کوئی شخص یہ جاننے لگے کہ ہر چیز کہاں رکھی ہے، کس کام کی کب ضرورت ہے اور ماضی میں زیادہ تر کام اسی نے کیے ہیں تو خاندان کے دوسرے افراد بھی ہر معاملے میں اسی سے پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔

یوں ملازمت پر واپس آنے کے باوجود بھی وہ شخص گھر کے معاملات کا مرکزی ذمہ دار بنا رہتا ہے۔

خبر کے مطابق برطانیہ میں ماؤں کو قانونی طور پر 52 ہفتوں تک زچگی کی چھٹی مل سکتی ہے جن میں 39 ہفتے معاوضے کے ساتھ ہوتے ہیں جبکہ والدین کو مشترکہ والدین کی چھٹی کا اختیار بھی حاصل ہے۔ تاہم چھٹی کے دوران آمدن میں کمی بھی اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ والدین میں سے کون کتنی چھٹی لے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی صنفی کردار بھی اس فرق کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر گھر میں کھانا پکانے کی ذمہ داری ہمیشہ ایک ہی فرد کے پاس رہی ہو تو دوسرے فرد کا یہ پوچھنا کہ ’آج کیا پکاؤں؟‘ بھی بعض اوقات فیصلہ کرنے کا بوجھ اسی شخص پر واپس ڈال دیتا ہے۔

ذہنی بوجھ کم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

ماہرین اور ان افراد نے جن سے بات کی گئی، چند عملی تجاویز پیش کی ہیں کہ ذمہ داریوں کے بارے میں کھل کر بات کریں، اپنے ساتھی کو واضح طور پر بتائیں کہ کون سے کام اور ذمہ داریاں ذہنی دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ تاہم ایسی گفتگو غصے یا شدید تھکن کے وقت کرنے کے بجائے پرسکون ماحول میں کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ دوسرا فرد اسے الزام یا تنقید نہ سمجھے۔

ہر کام کرنا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر والدین کے ہر واٹس ایپ گروپ کو مسلسل دیکھنے کے بجائے صرف ضروری اسکول پیغامات پر توجہ دی جا سکتی ہے۔

بچوں کے اسکول کے پروگرام، ملاقاتیں، سالگرہیں اور دیگر اہم تاریخیں مشترکہ کیلنڈر میں درج کی جا سکتی ہیں تاکہ تمام ذمہ داریاں ایک ہی فرد کے ذہن میں نہ رہیں۔

کسی کام کو صرف انجام دینا کافی نہیں۔ اگر کسی ایک فرد نے بچوں کے اسکول سے متعلق ذمہ داری لی ہے تو اسے یاد رکھنے، معلومات حاصل کرنے، منصوبہ بندی کرنے اور بروقت کام مکمل کرنے کی ذمہ داری بھی خود اٹھانی چاہیے بغیر اس کے کہ دوسرا فرد بار بار یاد دہانی کروائے۔

باقاعدگی سے ایک دوسرے سے بات کریں

روزانہ، ہفتہ وار یا ضرورت کے مطابق باقاعدہ گفتگو سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ گھر کی ذمہ داریوں میں کہاں عدم توازن پیدا ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق گھر کے ہر کام کو انتہائی منظم اور مکمل انداز میں کرنے کی کوشش بھی اضافی ذہنی بوجھ پیدا کر سکتی ہے۔ والدین کے لیے بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزارنا اکثر اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ گھر کا ہر کام ایک خاص طریقے سے ہی انجام پائے۔

برابر تقسیم کا مطلب ہمیشہ 50، 50 نہیں

ماہرین کے مطابق گھر کی ذمہ داریوں میں انصاف کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ہر کام بالکل نصف، نصف تقسیم کیا جائے۔

مزید پڑھیں: دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

مثلاً ایک ساتھی اسکول سے متعلق تمام انتظامی کام سنبھال سکتا ہے جبکہ دوسرا کھانے اور خریداری کی ذمہ داری لے سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں افراد کے درمیان مجموعی ذمہ داریاں منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں اور ایک فرد مسلسل تمام منصوبہ بندی اور یاد رکھنے کا کام نہ کرتا رہے۔

اس کے لیے اس فرد کو یہ بھی قبول کرنا پڑ سکتا ہے جو طویل عرصے سے گھر کا ذہنی بوجھ زیادہ اٹھا رہا ہے کہ دوسرا ساتھی بعض کام اس کے طریقے سے مختلف انداز میں کرے گا۔ ہر چیز بالکل ایک ہی طریقے سے ہونا ضروری نہیں۔

آخرکار مقصد یہ نہیں کہ ہر گھر میں ہر کام کا حساب کتاب برابر ہو، بلکہ یہ ہے کہ گھر کی ذمہ داریاں کسی ایک فرد کے ذہن پر مسلسل سوار نہ رہیں اور دونوں ساتھی ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی طور پر ذمہ داری بانٹیں۔

پاکستان میں بھی بہت سے خاندانوں میں گھر کے انتظام سے متعلق یہ غیر محسوس ذمہ داریاں اکثر خواتین کے حصے میں آتی ہیں۔ بچوں کی تعلیم، اسکول کی سرگرمیوں، کھانے پینے، گھر کی صفائی، رشتہ داروں سے متعلق معاملات، بزرگوں کی ضروریات اور خاندان کے روزمرہ معمولات کو یاد رکھنا اور ان کی منصوبہ بندی کرنا ایسا کام ہے جو بظاہر چھوٹا دکھائی دیتا ہے لیکن مجموعی طور پر ذہنی دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے۔

مشترکہ خاندانی نظام میں یہ ذہنی بوجھ بعض خواتین کے لیے مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں صرف اپنے بچوں اور گھر ہی نہیں بلکہ خاندان کے دوسرے افراد کی ضروریات اور معمولات کو بھی ذہن میں رکھنا پڑ سکتا ہے۔ اگر خاتون ملازمت یا گھر سے باہر کی دوسری ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہو تو گھر اور کام دونوں کی منصوبہ بندی کی یہ مسلسل ذمہ داری تھکن اور ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

تاہم اس تحقیق کے 71 فیصد کا اعدادوشمار امریکا میں کیے گئے سروے سے متعلق ہے اسے پاکستانی خواتین کی صورت حال کا براہِ راست اعدادوشمار نہیں سمجھنا چاہیے۔ پاکستان میں بھی اس موضوع پر الگ تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ گھریلو اور ذہنی ذمہ داریوں کی تقسیم مختلف خاندانوں اور سماجی طبقات میں کس طرح ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp