سپریم کورٹ نے پاکستان بیت المال کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے 2 کم سن ہندو بچیوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔
عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کی لاڑکانہ سرکٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان بیت المال کو دونوں بچیوں، جیسیکا اور سانیکا، کو باقاعدہ مستحقین کے طور پر رجسٹر کرنے اور انہیں ماہانہ 10،10 ہزار روپے مالی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت برقرار رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست، سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے وصول کرنے سے انکار کردیا
اس رقم میں ہر سال 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا اور معاونت کا سلسلہ بچیوں کی شادی تک جاری رہے گا۔
سپریم کورٹ نے کم سن بچیوں کی فلاح و بہبود کے لیے سندھ ہائیکورٹ کی تشویش کو سراہتے ہوئے آئندہ ایسے مقدمات کے لیے ایک طریقہ کار بھی وضع کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی مقدمے کے حالات پاکستان بیت المال سے معاونت کے متقاضی ہوں تو متعلقہ عدالت کیس ادارے کو غور کے لیے بھجوا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: قتل مقدمات کے اندراج میں تاخیر، سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ کو طلب کرلیا
فیصلے کے مطابق پاکستان بیت المال درخواست گزار کے حالات کا اپنی متعلقہ پالیسی اور اہلیت کے مقررہ معیار کے تحت جائزہ لے گا اور اس کے بعد مالی معاونت کی نوعیت اور مقدار کا تعین کرے گا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ عدالتوں کو بعض اوقات ایسے مقدمات کا سامنا ہوتا ہے جہاں قانونی سوال کا فیصلہ فریقین کے بنیادی مسائل کو مکمل طور پر حل نہیں کرتا۔
’ایسی صورتحال میں عدالت اپنے عدالتی فرائض کی تکمیل کے لیے فوری قانونی معاملے سے آگے بڑھ کر فریقین کی اصل مشکلات کے ازالے کی کوشش کرسکتی ہے۔‘
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے اغوا برائے تاوان کے ملزم کو 12 سال بعد بری کردیا
فیصلے میں کہا گیا کہ جب ریاست کا کوئی ادارہ کسی مخصوص فلاحی مقصد کے لیے قائم ہو تو عدالت اس کی معاونت حاصل کرسکتی ہے۔ موجودہ مقدمہ اسی امر کی واضح مثال ہے۔
مقدمے کے مطابق ہندو خاتون شریمتی ریتا نے 2012 میں روی کمار سے شادی کی، جن سے ان کی 2 بیٹیاں جیسیکا اور سانیکا پیدا ہوئیں۔
روی کمار نے 20 مئی 2017 کو خودکشی کرلی تھی۔ شوہر کی وفات کے بعد ریتا کے پاس اپنی اور بیٹیوں کی کفالت کے لیے آمدن کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں تھا، جس پر انہوں نے جیکب آباد کی فیملی کورٹ سے رجوع کیا۔
بچیوں کے دادا رام راج کی مالی حالت بھی انتہائی خراب تھی۔ وہ عمر رسیدہ اور کمزور تھے، ان کے پاس آمدن اور اپنی رہائش کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور وہ ایک دھرم شالا میں مقیم تھے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں پاکستان کے پہلے کورٹ اینکسڈ میڈی ایشن سینٹر کا افتتاح
اس کے باوجود فیملی کورٹ نے رام راج کو ہر بچی کے لیے ماہانہ 3 ہزار روپے نان نفقہ ادا کرنے کا حکم دیا، جس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ بھی مقرر کیا گیا۔
اپیل میں فیصلہ برقرار رہنے کے بعد معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دونوں بچیاں مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی ہیں اور غربت، خاندانی معاونت سے محرومی سمیت دیگر مشکلات کا شکار ہیں۔
عدالت کے مطابق اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر سماجی اور معاشی مشکلات کے اثرات زیادہ شدید ہوسکتے ہیں، اس لیے ریاستی اداروں کو ایسے حالات کا خصوصی طور پر ادراک رکھنا چاہیے۔














