سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک استعفیٰ پر مبنی خط نے چند ہی دنوں میں 10 کروڑ سے زائد ویوز حاصل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ایک دہائی سے جاری سماعتیں، فورمز اور مسترد کیے جانے والے قانون سازی کے مسودے بھی نہ کر سکے۔
اس خط کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے مستقبل اور اس کے ضابطہ کار سے متعلق مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے 3 امریکی سینیٹرز ایک ہی قانون سازی کی حمایت پر متفق ہوگئے۔
اینتھروپک اور اوپن اے آئی میں پری ٹریننگ ریسرچ پر تقریباً 3 سال کام کرنے والے جیکب کوکسن نے رواں ماہ اینتھروپک سے استعفیٰ دیا، وہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے خبردار کرنے والے پہلے اندرونی ماہر نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی دوڑ انسانیت کو تباہی کے قریب لے جا رہی ہے، اینتھروپک کے محقق مستعفی
2023 کے بعد جیفری ہنٹن، جان لیک اور ایلیا سٹسکیور سمیت دیگر معروف ماہرین بھی مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔
تاہم امریکی کانگریس نے ان انتباہات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی، کوکسن کی جانب سے خطرے کی گھنٹی بجانے کا اثر اس لیے نمایاں ہوا کہ ان کے ساتھی اور اینتھروپک میں ’الائنمنٹ لیڈ‘ کے منصب پر فائز ایون ہوبنگر نے چند ہی گھنٹوں میں ان کے الزامات کی تائید کردی۔
ہوبنگر نے اپنے خدشات کے اظہار میں کسی قسم کی مصلحت سے کام نہیں لیا، ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ایک دہائی کے دوران مصنوعی ذہانت کے باعث انسانوں کے ناپید ہونے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔
A researcher at Anthropic publicly resigned Tuesday over concerns that the company and the broader AI industry were “gambling with our lives” by racing to build AI with self-improving superintelligence. https://t.co/otPot2CtXl
— The Washington Post (@washingtonpost) September 9, 2026
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اینتھروپک کے پاس ایسے اے آئی سسٹمز کو قابو میں رکھنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہیں جو انہیں تیار کرنے والے انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں۔
اینتھروپک کے مزید 2 محققین نے بھی ان خدشات کی حمایت کی، ایک ایسی کمپنی کے اندر سے، جو خود کو اے آئی سیفٹی کے حوالے سے نمایاں کرتی ہے، اس نوعیت کے اعترافات نے قانون سازوں کے لیے ان خدشات کو محض کارکنوں یا ناقدین کا شور قرار دے کر نظرانداز کرنا مشکل بنا دیا۔
امریکی کانگریس اس معاملے میں اس سے قبل بھی کئی مواقع گنوا چکی ہے، اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے 2023 میں اے آئی کے لیے ضابطہ سازی کی ضرورت پر زور دیا تھا، تاہم اس کے جواب میں کوئی باقاعدہ قانون سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے 4 اے آئی کمپنیوں کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے دیا
سینیٹر چک شومر کی جانب سے منعقد کیے گئے نجی ’اے آئی انسائٹ فورمز‘ میں 60 سے زائد سینیٹرز نے شرکت کی، لیکن یہ اجلاس بھی کسی قانون کے بجائے محض ایک فریم ورک تک محدود رہے۔
اسی طرح کیلیفورنیا کا مصنوعی ذہانت سے متعلق بل ریاستی مقننہ سے منظور ہونے کے باوجود گورنر گیون نیوسم کے دفتر میں مسترد ہوگیا، حالیہ عرصے میں صرف ایک کانگریسی مدت کے دوران اے آئی سے متعلق 150 سے زائد بل سامنے آئے، لیکن ان میں سے ایک بھی قانون کی شکل اختیار نہ کرسکا۔
اب صورتحال میں ایک اہم تبدیلی دکھائی دے رہی ہے، سینیٹر ٹیڈ کروز، جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ریاستوں کو مصنوعی ذہانت کو ضابطے میں لانے سے روکنے کی کوشش کی تھی اور اس معاملے پر 99-1 کے فرق سے شکست کھائی، اب سینیٹر ایمی کلبوچر اور سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون کے ساتھ ایک نئے قانون کے شریک اسپانسر بن گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: جدید اے آئی ماڈلز چند ماہ میں سنگین سائبر خطرہ بن سکتے ہیں، خطرناک انتباہ جاری
مجوزہ قانون کے تحت وفاقی ریگولیٹرز کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی حفاظتی جانچ کا مطالبہ کرسکیں اور ایسے ماڈلز کی تعیناتی روک سکیں جو تباہ کن خطرات کا باعث بن سکتے ہوں، جن میں حیاتیاتی ہتھیاروں یا جوہری خطرات جیسے ممکنہ نقصانات بھی شامل ہیں۔
یہ پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی کے ممکنہ تباہ کن اثرات کے بارے میں صنعت کے اندر سے سامنے آنے والی تشویش اب امریکی قانون سازوں کے لیے نظرانداز کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل بنا رہی ہے۔













