بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل مقامی سطح پر تیار کیے گئے ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا گیا ہے، جن کے ذریعے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو درست نشاندہی کے ساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
کوئٹہ میں صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ کے دوران ایک سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور ٹھکانوں کا سراغ لگا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرونز نہ صرف مقامی سطح پر تیار کیے جارہے ہیں بلکہ مالی طور پر بھی اس کا بوجھ انتہائی کم پڑ رہا ہے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کسی شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جس نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے، اس کے ساتھ آخری سانس تک جنگ رہے گی اور ہر دہشتگرد کو اس کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔
🚨 BALOCHISTAN | NO TALKS WITH TERRORISTS 🇵🇰
CM Sarfraz Bugti: The fight against terrorism will continue until the last terrorist is eliminated.
🤝 Civil + military leadership stand united.
🏗️ Security, peace & development will move forward—together. 🇵🇰 pic.twitter.com/L8aiiSINJq— Strategic Vanguard ⚔️ (@StrategicVang) September 13, 2026
سینیئر عہدیدار نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف طاقت کا استعمال ضروری ہے، تاہم بلوچستان کے مجموعی مسئلے کو صرف سیکیورٹی کارروائیوں سے حل نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عام شہریوں کے حقیقی مسائل، سیاسی محرومی اور شکایات کو سننا اور انہیں قومی سیاسی دھارے کا فعال حصہ بنانا بھی طویل المدتی امن کے لیے ضروری ہے۔
سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق بلوچستان کے 99.9 فیصد لوگ محب وطن ہیں اور انہیں دہشتگرد عناصر سے الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی توجہ عام بلوچ شہریوں کے ساتھ رابطے پر مرکوز ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان میں مختلف سطحوں پر تقریباً 54 ہزار عوامی رابطے کیے گئے جبکہ رواں سال اب تک مزید 34 ہزار رابطے ہوچکے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان میں سیاسی نمائندگی کے مسئلے کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صرف 16 نشستیں ہیں۔ بعض حلقوں میں ایک قومی اسمبلی کی نشست 4 اضلاع تک پھیلی ہوئی ہے۔
عہدیدار کے مطابق مرکزی سیاسی جماعتوں کی بلوچستان میں محدود سرگرمی نے بھی ایک سیاسی خلا پیدا کیا ہے، جسے مختلف سماجی تحریکیں اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے بیانیے پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے بلوچستان کو پاکستان کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا جغرافیائی محل وقوع، سی پیک، معدنی ذخائر، گیس، ماہی گیری اور دیگر قدرتی وسائل اسے خطے میں غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی کے خلاف ہر محاذ پر ایک قدم آگے رہیں گے، محسن نقوی اور سرفراز بگٹی کا اعلان
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں سونے، تانبے اور نایاب معدنیات کے ذخائر کی ممکنہ مالیت تقریباً 6 کھرب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی وسائل بلوچستان کو علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز بھی بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کن بیانیے، غیر ریاستی عناصر اور دیگر غیر روایتی حربے بھی صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
عہدیدار نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد دہشتگردی میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال بلوچستان میں دہشتگردی کی صورتحال گزشتہ کئی برس کے مقابلے میں زیادہ سنگین رہی ہے۔ انہوں نے سرکاری سیکیورٹی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال 1,263 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے سرحدی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات میں بھی نمایاں کامیابی کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق ماضی میں بلوچستان کے راستے تقریباً 1.2 کھرب روپے کی اسمگلنگ ہوتی تھی، جس میں اب تقریباً 90 فیصد تک کمی لائی جا چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی تیل کی غیر قانونی اسمگلنگ بھی تقریباً 2 کروڑ لیٹر یومیہ سے کم ہوکر 10 لاکھ لیٹر یومیہ کے قریب رہ گئی ہے۔
اینکرز اور سینیئر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں سے کسی صورت بات نہیں ہوگی اور اس معاملے میں حکومت اور ریاست متفق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز مشکل حالات میں کام کررہی ہیں اور دہشتگردوں کو قابل کرنے کے لیے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی اور ریاست مخالف پروپیگنڈا ناکام ہوگا، بلوچستان میں امن ہر صورت قائم کریں گے، سرفراز بگٹی
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم ایک عام بلوچ کے مسائل سننے اور انہیں حل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں لیکن جس نے بھی ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی اس کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بریفننگ مین صوبے میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں ہونے والے کاموں پر بھی روشنی ڈالی اور صوبے میں اے آئی کے ذریعے ہونے والے کاموں پر بھی روشنی ڈالی۔
سرفراز بگٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ صوبے میں کوئی ایک علاقہ بھی نو گو ایریا نہیں ہے اور صوبے کے چپے چپے پر سیکیورٹی فورسز نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کی رٹ بھی مکمل طور پر قائم ہے۔
سرفراز بگٹی نے بلوچستان سے متعلق غیر مصدقہ اعداد و شمار اور یکطرفہ بیانیے کی بنیاد پر رپورٹنگ کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں بجٹ بحث کے دوران ایک سینیٹر نے بلوچستان میں ایک لاکھ لوگ مارے جانے کا دعویٰ کیا، جو کسی مستند ڈیٹا یا ثبوت کے بغیر پورا دن میڈیا پر چلتا رہا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق صحافت میں ریاستی پالیسیوں پر تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن غیر مصدقہ اعداد و شمار، جھوٹی خبروں اور یکطرفہ پروگراموں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں اور میڈیا دونوں کو اپنا احتساب کرنا ہوگا اور پاکستان مخالف یا گمراہ کن بیانیوں کو بغیر جانچ پڑتال آگے بڑھانے کے بجائے حقائق اور مستند معلومات کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگرد عناصر کو کسی صورت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا : سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ میڈیا اور سیاسی بیانیے میں بلوچستان کے حوالے سے دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے اور صوبے سے متعلق معاملات کو حقائق کے بجائے یکطرفہ انداز میں پیش کرنا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کے مسئلے کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ صرف بلوچستان تک محدود ہو، حالانکہ یہ مسئلہ خیبرپختونخوا سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی موجود ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں لاپتا افراد کے مسئلے پر بات کیوں نہیں کی جاتی اور صرف بلوچستان کو ہی کیوں نمایاں کیا جاتا ہے؟ یہ واضح طور پر دوہرا معیار ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے شخص کو فوری طور پر دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے، لیکن بلوچستان میں بعض عناصر کو حقوق کے نام پر سیاسی اور قانون سازی کے عمل میں آواز دینے کے ساتھ ان کے بیانیے کو قابل قبول بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرز عمل کی مخالفت کرتے ہیں۔
انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ انتخابات 100 فیصد آزادانہ اور منصفانہ تھے، تاہم یہ سوال ضرور ہونا چاہیے کہ آیا انتخابی عمل میں مبینہ انتظام یا مداخلت صرف بلوچستان میں ہوتی ہے یا پورے پاکستان میں ایسے الزامات سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے 51 ارکان میں سے صرف 11 ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں۔ باقی ارکان یا تو دوسری اور تیسری مرتبہ اسمبلی میں پہنچے ہیں یا ان کے خاندان طویل عرصے سے سیاست سے وابستہ ہیں۔
سرفراز بگٹی کے مطابق یہ تاثر حقائق کے منافی ہے کہ بلوچستان میں کوئی سیاسی ڈھانچہ موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے متعدد سیاستدانوں اور منتخب نمائندوں نے دہشتگردی کے باعث بھاری جانی قربانیاں بھی دی ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے ایک رکن نے اپنے چھوٹے بھائی اور 6 چچاؤں کو کھویا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں آزادانہ انتخابی سرگرمیوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوم پرست جماعتوں کے امیدوار عوام کے درمیان جاکر آزادانہ طور پر انتخابی مہم بھی نہیں چلا سکتے۔
یہ بھی پڑھیں:سراج رئیسانی کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے، دہشتگرد امن و استحکام کا راستہ نہیں روک سکتے : سرفراز بگٹی
انہوں نے کہا کہ جو آواز اٹھاتا ہے اسے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرے اپنے ووٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ دہشتگردوں کے ساتھ کھڑے عناصر سے سوال تک نہیں کیا جاتا۔ ایسے حالات میں ووٹرز کو متحرک کرنے اور امیدواروں کو عوام تک پہنچنے کا مناسب موقع نہیں ملتا۔
سرفراز بگٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر 51 رکنی بلوچستان اسمبلی میں صرف 11 نئے افراد منتخب ہوکر آئے ہیں تو کیا یہ کہنا منطقی ہے کہ اداروں کے لیے پورے انتخابی عمل کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا اتنا آسان تھا؟
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کو یکطرفہ بیانیے کی بنیاد پر ہدف بنانے کے بجائے صوبے کے سیاسی، سیکیورٹی اور سماجی معاملات پر گفتگو مستند حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
بلوچستان میں حکومت بننے سے متعلق سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کے بارے میں نہیں جانتے جس میں یہ طے ہوا ہو کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن صوبے میں ڈھائی، ڈھائی سال حکومت کریں گی۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مستقل امن کے لیے دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے ساتھ سیاسی شرکت، ترقی، عوامی رابطے اور علاقائی سفارت کاری کو بھی بیک وقت آگے بڑھانا ہوگا۔
عہدیدار نے کہا کہ کامیابی کا اصل پیمانہ صرف دہشتگردوں کا خاتمہ نہیں بلکہ عام بلوچ شہری کا اعتماد حاصل کرنا ہے اور ہم اس وقت جیتیں گے جب عام بلوچ کو جیت لیں گے۔














