ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ ڈبلن، متحدہ آئرلینڈ کے متنازع بیان پر نئی بحث چھڑ گئی

اتوار 13 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ آئرلینڈ کے دوران متحدہ آئرلینڈ کی کھلی حمایت کر کے ایک نیا سفارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے، جبکہ ان کے دورے کے دوسرے روز کی تمام تر توجہ ڈونبیگ میں اپنے خاندانی گولف ریزورٹ اور ذاتی کاروباری مفادات کے فروغ پر مرکوز رہی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت اپنے آئرش میزبانوں اور پڑوسی ملک برطانیہ کو حیرت میں ڈال دیا جب انہوں نے ایک انتہائی حساس سیاسی معاملے پر بات کرتے ہوئے متحدہ آئرلینڈ کی خواہش کا اظہار کیا۔

واشنگٹن کی روایتی غیر جانبداری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ٹرمپ نے ڈبلن میں آئرش وزیرِ اعظم مائیکل مارٹن سے ملاقات کے دوران کہا کہ آئرلینڈ کا دوبارہ انضمام بالآخر ہو کر رہے گا اور بہتر ہے کہ یہ ابھی ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا ’پیس پیکیج‘ محض جنگ بندی نہیں، مستقل قیامِ امن کے لیے ہے، امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر

صدر ٹرمپ کے اس غیر متوقع بیان پر شمالی آئرلینڈ کے حامیوں اور برطانوی سیاستدانوں کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

برطانوی وزیر انجیلا رینر نے واضح کیا کہ برطانیہ 1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہے، جس نے شمالی آئرلینڈ میں دہائیوں پر محیط فرقہ وارانہ تنازعے کا خاتمہ کیا تھا۔

ڈونبیگ گولف ریزورٹ اور کاروباری مفادات

اپنے متنازع بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ آئرلینڈ کے مغربی ساحل پر واقع ڈونبیگ پہنچ گئے، جہاں ان کی کمپنی ‘ٹرمپ آرگنائزیشن’ کی ملکیت میں موجود گولف کورس آئرش اوپن کی میزبانی کر رہا ہے۔

اس دورے میں ان کے دونوں بیٹے، ایرک اور ڈون جونیئر بھی ان کے ہمراہ ہیں جو ان کے خاندانی کاروبار کو سنبھال رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ہر موقع پر اپنے کاروبار کی تشہیر کرتے ہوئے ڈونبیگ کو دنیا کے بہترین گولف کورسز میں سے ایک قرار دیا۔

مزید پڑھیں:کینیڈا کے ساتھ ریاست جیسا سلوک ختم، اب 50 فیصد ٹیرف لگے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ملاقات میں آئرش وزیر اعظم نے بھی انہیں یقین دہانی کرائی کہ ڈونبیگ کے 784 رہائشی 2014 میں کی گئی ‘ٹرمپ آرگنائزیشن’ کی سرمایہ کاری پر ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔

توقع ہے کہ ویک اینڈ پر اس ٹورنامنٹ میں 40000 کے قریب شائقین شرکت کریں گے۔

انتہائی سخت سیکیورٹی اور احتجاج

امریکی صدر کے دورے کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں جن پر آئرلینڈ کے 20 ملین یورو یعنی 23 ملین ڈالر اخراجات آ رہے ہیں۔

اس سیکیورٹی آپریشن میں 4000 آئرش اور امریکی اہلکار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی جیسی جدید سہولیات بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

گولف کورس کے اطراف سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ڈونبیگ کے قریب ٹرمپ کے دورے کے خلاف تقریباً 30 افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جبکہ پولیس نے 3 خواتین کو دراندازی اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران اس گولف کورس کو دو بار فلسطین حامی کارکنوں کی جانب سے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

صدارتی عہدے اور مفادات کے ٹکراؤ پر تنقید

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو اپوزیشن کی جانب سے اپنے صدارتی عہدے اور ذاتی کاروباری مفادات کو آپس میں ملانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

قانونی مالیاتی گوشواروں کے مطابق سال 2025 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ کی آمدنی 2 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس کا بڑا حصہ کرپٹو کرنسی کی سرگرمیوں سے حاصل ہوا، جبکہ 2024 میں یہ آمدنی محض 600 ملین ڈالر تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے جوابی کارروائی کی تو مزید سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

اس کے علاوہ ٹرمپ کو قطر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا نیا ‘ایئر فورس ون’ طیارہ قبول کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر سوار ہو کر وہ آئرلینڈ پہنچے۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ صدر اپنے عہدے کو ذاتی دولت اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ایک سابق وائٹ ہاؤس ایتھکس وکیل نے متنبہ کیا ہے کہ صدر کے اس طرزِ عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کی خوشنودی حاصل کرنے کا واحد راستہ ان کی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp