یمن میں حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار فورسز کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے، جبکہ ہزاروں افراد جان جوکھوں میں ڈال کر باب المندب عبور کرکے جبوتی پہنچ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) نے منگل کو جاری بیان میں کہا ہے کہ یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں تیزی سے شدت اختیار کرتی لڑائی کے نتیجے میں ملک کے اندر ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ مزید ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی تلاش میں بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی آبنائے باب المندب کے راستے جبوتی جانے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیے یمن: حوثی باغیوں کا اقوام متحدہ کے دفتر پر چھاپہ، 20 ملازمین کو حراست میں لے لیا
یو این ایچ سی آر نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی نقل مکانی محدود وسائل رکھنے والی مقامی آبادیوں پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے اور صورتحال ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق یمن میں بے گھر خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر درکار ہیں، جبکہ جبوتی پہنچنے والے افراد کے لیے بھی اضافی امداد کی ضرورت ہے۔ بہت سے خاندان مختصر نوٹس پر چند ضروری سامان کے ساتھ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور انہیں خوراک، صاف پانی، رہائش، طبی سہولیات اور تحفظ کی فوری ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے یمنی وزیر دفاع کے قافلے کو الضالع میں روک لیا گیا، یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات
یو این ایچ سی آر کے مطابق یمن میں رجسٹرڈ 65 ہزار سے زائد پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی افراد بھی لڑائی کے باعث خطرے سے دوچار ہیں، جن میں زیادہ تر صومالیہ اور ایتھوپیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ 4 روز کے دوران 2 ہزار 400 سے زائد افراد باب المندب عبور کرکے جبوتی پہنچے، جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔
یو این ایچ سی آر کی جبوتی میں نمائندہ سینڈرین ڈیسامورز کے مطابق سمندری سفر انتہائی مشکل ہونے کے باعث کئی افراد تھکے ہوئے، ذہنی دباؤ کا شکار اور اپنے ساتھ انتہائی کم سامان لیے پہنچ رہے ہیں۔














