وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے فسکل فلو میں کمی کو ان کی مالی کارکردگی میں خرابی سمجھنا درست نہیں۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں منافع بخش سرکاری اداروں نے 423.3 ارب روپے کمائے جبکہ خسارے میں مبتلا اداروں کا نقصان بھی قابو میں رہا۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ میڈیا کے بعض حلقوں نے فسکل فلو میں کمی کو سرکاری اداروں کی مالی صحت کی خرابی سے جوڑا، جو درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
حکام کے مطابق فسکل فلو دراصل حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان مالی لین دین کی عکاسی کرتا ہے، جس میں حکومتی امداد اور ٹیکس، ڈیویڈنڈ، لیویز اور دیگر مدات میں وصولیاں شامل ہیں۔ اس کے برعکس اداروں کی مالی کارکردگی کا تعین منافع اور دیگر مالیاتی و آپریشنل اشاریوں سے کیا جاتا ہے۔
منافع میں اضافہ، خسارہ محدود
مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی کے دوران منافع بخش سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے کا منافع کمایا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کا نقصان بھی 342.8 ارب روپے تک محدود رہا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق خسارے پر یہ قابو جاری اصلاحاتی اور نگرانی کے فریم ورک کی کامیابی کی واضح علامت ہے۔
رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں منافع بخش سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے کا منافع کمایا، جبکہ خسارے میں مبتلا اداروں کا نقصان بھی 342.8 ارب روپے تک محدود رہا۔ اسی دوران حکومت کو ان اداروں سے خالص آمدن حاصل ہوئی اور فسکل فلو مثبت رہا، جو 35.8 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق زیرِ جائزہ مدت میں سرکاری ادارے حکومت کے لیے خالص طور پر فائدہ مند رہے۔ اداروں کی جانب سے حکومت کو 839.8 ارب روپے کی آمدن موصول ہوئی جبکہ حکومت نے 804.0 ارب روپے خرچ کیے، جس کے نتیجے میں 35.8 ارب روپے کا مثبت خالص فسکل فلو سامنے آیا۔
حکومتی اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ ادارہ جاتی تنظیمِ نو اور گردشی قرضے کے انتظام سے جڑی ایکویٹی انجیکشنز اور فنانسنگ رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کی جانب سے ڈیویڈنڈ کی ادائیگیوں میں 26 فیصد جبکہ ٹیکس مدات میں حصہ ڈالنے میں 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے، منظوری مئی میں متوقع، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وزارتِ خزانہ نے زور دیا کہ خالص فسکل فلو میں تبدیلی کو حکومت اور اداروں کے درمیان لین دین کی نوعیت اور وقت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ اسے سرکاری اداروں کے منافع یا مالی کارکردگی کا آزاد پیمانہ سمجھا جائے۔
اصلاحاتی عمل جاری، صرف 6 ماہ کے اعداد کافی نہیں
وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ محض چھ ماہ کے فسکل فلو کے موازنے سے سرکاری اداروں میں جاری ساختی اصلاحات کا اندازہ لگانا نامناسب ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کا کام مکمل طور پر بند کیا جا چکا ہے، پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو تحلیل کیا جا رہا ہے، فرسٹ ویمن بینک نجی شعبے کے حوالے کیا جا چکا ہے، جبکہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری بھی مکمل ہو چکی ہے۔
بجلی کی نو تقسیم کار کمپنیاں نجکاری کے عمل میں
بجلی کے شعبے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو)، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت 9 تقسیم کار کمپنیاں نجکاری پروگرام کا حصہ ہیں اور لین دین کے مختلف مراحل میں ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق پہلے مرحلے کے لیے مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور دلچسپی سامنے آئی ہے۔
گورننس اصلاحات اور مستقبل کا لائحہ عمل
وزارتِ خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں میں آزاد و پیشہ ور بورڈز کی تشکیل، بزنس پلان پر عملدرآمد کی جوابدہی، کارکردگی کی نگرانی اور شفاف، اعداد و شمار پر مبنی احتساب کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر خزانہ محمد اورنگزیب امریکا پہنچ گئے، اہم ملاقاتیں
اصلاحات کا مقصد سرکاری اداروں کے حجم کو محدود کرنا، گورننس اور جوابدہی کو مضبوط بنانا، شفافیت بڑھانا، کاروباری نظم و ضبط بہتر کرنا اور مالی خطرات کو بتدریج کم کرنا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے تسلیم کیا کہ سرکاری اداروں کے کچھ حصوں میں چیلنجز بدستور موجود ہیں، تاہم حکومت ہر ادارے کی نوعیت کے مطابق تنظیمِ نو، بندش، نجکاری اور کارکردگی کے بہتر انتظام کے ذریعے ان کا حل نکال رہی ہے۔














