گوگل اور ایمیزون کے ماہرین کی اہم رائے، باس کو ’نہ‘ کہہ کر بھی عزت اور اعتماد کیسے حاصل کریں؟

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیریئر ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاتر میں کام کاج کے دوران برن آؤٹ اور ذہنی دباؤ سے بچنے کے لیے اپنے باس کو احترام کے ساتھ ’نہ‘ کہنا ممکن ہے، جس سے ملازم کے تشخص پر منفی اثر پڑے بغیر پیشہ ورانہ اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

دفتر میں عین چھٹی کے وقت اچانک نیا کام مل جانا یا مسلسل اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھنا ملازمین کو تھکا دیتا ہے۔

عالمی ماہرینِ کارپوریٹ کے مطابق ہر کام پر فوری ’ہاں‘ کہہ دینا جہاں انسان کو شدید تھکن کا شکار بناتا ہے، وہیں ہر بات پر بار بار یا سختی سے انکار کرنا ملازم کا عدم تعاون ظاہر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موڈ بہتر بنانے کے لیے صرف 30 سیکنڈ کافی، روزمرہ کی چند آسان عادتیں

تاہم اگر انکار صحیح اور مہذب انداز میں کیا جائے تو یہ انتظامیہ کی نظر میں آپ کی صلاحیت اور ساکھ کو مضبوط کرتا ہے۔

پہلا طریقہ: ’تبادلہ‘ کی حکمتِ عملی

گوگل اور ایمیزون جیسی دنیا کی 50 بڑی کمپنیوں کے سینیئر کوچز اور معروف کتاب ’میَنیجنگ اپ‘ کے مصنف کے مطابق کسی نئے کام پر فوری انکار کے بجائے کاموں کے ’تبادلے‘ کا طریقہ اپنانا چاہیے۔

چونکہ وقت محدود ہوتا ہے، اس لیے نیا کام قبول کرنے کا مطلب پرانے کام کی رفتار کو سست کرنا ہے۔

اس طریقہ کار میں باس سے یہ بات چیت کی جاتی ہے کہ نیا کام شروع کرنے کے لیے کس پرانے کام کو مؤخر کیا جائے۔ اس طرح باس کو کام کے حجم کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے اور وہ خود ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔

دوسرا طریقہ: ’مشروط ہاں‘ کی شرط

یہ طریقہ کار ہنگامی اور شدید دباؤ والی صورتحال کے لیے بہترین ہے، جہاں فوری انکار کا نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔

اس حکمتِ عملی کے تحت اس بار کام کرنے کی حامی بھری جاتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک بار کا استثنیٰ کا اقدام ہے۔

مثال کے طور پر ملازم کہہ سکتا ہے کہ ’میں یہ کام کل تک مکمل کر دوں گا، لیکن آئندہ اچھے معیار کے لیے مجھے کم از کم 48 گھنٹے کا پیشگی نوٹس درکار ہو گا‘۔ اس طرح آئندہ کے لیے حدود متعین ہو جاتی ہیں۔

تیسرا طریقہ: ’مثبت انکار‘ کا فریم ورک

ہارورڈ پروگرام آن نیگوشی ایشن کے شریک بانی ولیم یوری کے تیار کردہ ’مثبت انکار‘ کے 3 بنیادی مراحل ہیں۔

پہلا مرحلہ ٹیم کی کامیابی سے وفاداری کا اظہار، دوسرا مرحلہ اپنی حد یا مجبوری بتانا اور تیسرا مرحلہ متبادل حل پیش کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:چھٹیوں سے زیادہ سکون کیسے حاصل کریں؟ ماہرین نے خوشگوار سفر کے 4 آسان راز بتا دیے

اس کی مثال یوں ہے کہ ’میں پروجیکٹ کے لیے مکمل پرعزم ہوں لیکن ہر ہفتے کی طویل میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکتا، تاہم ہر 2 ہفتے بعد رپورٹ جمع کروا سکتا ہوں‘۔

پیشہ ورانہ تعلقات میں بہتری

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان طریقوں کو اپنا کر ملازمین نہ صرف اپنے وقت کی حدود طے کر سکتے ہیں بلکہ اپنے افسران اور انتظامیہ کی نظر میں ایک ذمہ دار اور مسئلہ حل کرنے والے باصلاحیت فرد کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیمار ہونے کے باوجود چھٹی لینے میں ہچکچاہٹ کیوں ہوتی ہے؟ ماہرین نے اہم وجہ بتادی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل، ڈیزل 3.47 روپے فی لیٹر مہنگا، پیٹرول 43 پیسے سستا

پاکستان سے یورپ غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی لاچکے، وزیر داخلہ محسن نقوی

فلاڈیلفیا میں 5 خواتین کی ہلاکت کا خدشہ، گھر سے پریشان کن تصاویر اور ویڈیوز برآمد

مریم نواز کا سرکاری جہاز استعمال کرنا درست نہیں تھا، مگر دوسرے لوگوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، عمار مسعود

ویڈیو

لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا اور رشتہ تڑوانے میں کس کا ہاتھ تھا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟