بیمار ہونے کے باوجود چھٹی لینے میں ہچکچاہٹ کیوں ہوتی ہے؟ ماہرین نے اہم وجہ بتادی

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صبح آنکھ کھلے، طبیعت خراب ہو اور سامنے کام کا ایک اہم دن ہو تو اکثر لوگ اس کشمکش میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ دفتر جائیں یا بیماری کی چھٹی لے لیں۔

یہ بھی پڑھیں: شنگلز کیا بیماری ہے اور اس سے کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ ویکسین کے دل کے لیے بھی فوائد سامنے آگئے

اگر آپ بھی طبیعت خراب ہونے کے باوجود دفتر جانے یا گھر سے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تو آپ اکیلے نہیں۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ایک تہائی سے نصف افراد ایسے ہیں جو بیمار ہونے کے باوجود کام کرتے رہتے ہیں۔ ماہرین اس رویے کو ’پریزنٹیزم‘ کہتے ہیں یعنی بیماری یا طبیعت کی خرابی کے باوجود کام پر موجود رہنا۔

ماہرین کے مطابق بیماری کے دوران چھٹی لینے یا کام جاری رکھنے کا فیصلہ صرف بیماری کی شدت پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس سے کسی فرد کی شخصیت، کام سے وابستگی اور اس کے دفتر کے ماحول کے بارے میں بھی بہت کچھ پتا چل سکتا ہے۔

نوجوان ملازمین کم چھٹی کیوں کرتے ہیں؟

مانچیسٹر یونیورسٹی کے ماہر نفسیات پروفیسر سر کیری کوپر کہتے ہیں کہ نوجوان نسل کو اکثر ’نازک‘ یا کام سے جلد اکتا جانے والی نسل قرار دیا جاتا ہے لیکن اعداد و شمار اس تاثر کی مکمل تائید نہیں کرتے۔

برطانیہ کے قومی شماریاتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 16 سے 24 سال عمر کے ملازمین نے اوسطاً 2.4 دن بیماری کی چھٹی لی جبکہ 50 سے 64 سال کے ملازمین میں یہ اوسط 6.2 دن تھی۔

پروفیسر کیری کوپر کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

مزید پڑھیے: بیماریوں سے بچاؤ اور صحتمند زندگی کے لیے روزانہ صرف 5 منٹ نکال لیں

نوجوان ملازمین زیادہ تر ایسی ملازمتوں میں ہوتے ہیں جہاں ملازمت کا تحفظ نسبتاً کم ہوتا ہے مثلاً ایسی ملازمتیں جن میں کام کے اوقات مستقل نہ ہوں۔

اس کے علاوہ عمر بڑھنے کے ساتھ طویل مدتی بیماریوں اور جوڑوں کے مسائل کا امکان بھی بڑھتا ہے جو بیماری کی وجہ سے چھٹی لینے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

تاہم پروفیسر کوپر کے مطابق نوجوان نسل کی سوچ میں ایک اہم تبدیلی بھی آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نوجوان ملازمین اپنے آجروں سے اپنے ساتھ بہتر برتاؤ اور اپنی فلاح و بہبود کو زیادہ اہمیت دینے کی توقع رکھتے ہیں۔

پرانے دور کے ملازمین شاید بہت سی مشکلات کو برداشت کرکے کام جاری رکھتے رہے ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا رویہ صحت مند تھا۔

نوجوان ملازمین ذہنی صحت کو بھی مجموعی صحت کا حصہ سمجھنے اور اسے نظرانداز کرکے کام جاری رکھنے کے بجائے آرام کرنے کو زیادہ قابل قبول سمجھتے ہیں۔

بیماری کی چھٹی لینے میں احساسِ جرم کیوں ہوتا ہے؟

کسی شخص کے بیماری کی صورت میں کام سے چھٹی لینے یا کام جاری رکھنے کے رویے پر کئی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

ماہرین نفسیات کے مطابق کچھ لوگوں کے لیے کام ان کی شناخت کا بہت اہم حصہ بن جاتا ہے۔ نفسیات میں اسے کام کی مرکزیت کہا جاتا ہے۔

تحقیق میں کام کو زندگی کا مرکزی حصہ سمجھنے والے افراد میں اپنے کام سے زیادہ وابستگی، ذمہ داری اور اضافی کوشش کرنے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

ایسے افراد کے لیے کام سے غیر حاضر ہونا محض ایک دن کی چھٹی نہیں ہوتا بلکہ انہیں یوں محسوس ہوسکتا ہے جیسے وہ عارضی طور پر اپنی شخصیت کا ایک حصہ کھو رہے ہوں۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر آڈری ٹینگ کے مطابق ایسے لوگوں میں بیماری کے باوجود کام پر موجود رہنے کی خواہش بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق طب، نرسنگ اور تدریس جیسے دوسروں کی دیکھ بھال سے متعلق شعبوں میں کام کرنے والے افراد میں یہ رجحان خاص طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دانتوں کی صحت کا راز صرف برش نہیں، آپ کی خوراک بھی اہم ہے

کچھ افراد کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ بیماری کی چھٹی لینے کے بجائے کسی حادثے کا شکار ہونا پسند کریں گے تاکہ ان کے پاس کام پر نہ آنے کی واضح وجہ موجود ہو۔

کہیں لوگ کمزور یا سست نہ سمجھیں

بیماری کے باوجود کام کرنے کی ایک اور وجہ یہ خوف ہے کہ کہیں دوسرے لوگ انہیں کمزور، سست یا کام سے بچنے والا نہ سمجھیں۔

ماہر نفسیات آڈری ٹینگ کے مطابق نوجوان ملازمین اس احساس کا خاص طور پر شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہوتے ہیں اور اپنے ساتھیوں یا افسران پر منفی تاثر چھوڑنا نہیں چاہتے۔

چنانچہ طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ کام پر جانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔

اصل مسئلہ دفتر کا ماحول بھی ہوسکتا ہے

ماہر نفسیات ڈاکٹر تارا کوئن سِریلو کے مطابق بیماری کی صورت میں چھٹی لینے کے فیصلے پر کام کی جگہ کا ماحول بھی بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔

اگر کسی دفتر میں عملہ پہلے ہی کم ہو اور کسی ملازم کی غیر موجودگی میں اس کا کام ساتھیوں پر منتقل ہوجائے تو ملازم کے اندر احساسِ جرم پیدا ہوسکتا ہے۔

اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نہ آنے سے باقی ساتھیوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

مزید پڑھیں: سانس پھولنے کو معمولی نہ سمجھیں، سی او پی ڈی کے بارے میں اہم باتیں، خطرہ کن کو زیادہ؟

ماہر نفسیات کے مطابق ایسے اداروں میں جہاں صحت اور ذہنی سکون کے بجائے صرف کارکردگی اور زیادہ سے زیادہ کام کو ترجیح دی جاتی ہو، احساسِ جرم اور شرمندگی کا کردار خاصا اہم ہوجاتا ہے۔

کچھ دفاتر میں ایک ایسی ثقافت بن جاتی ہے جس میں ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بیماری کے باوجود کام جاری رکھیں۔

اگر کسی ملازم کو بیماری میں بھی کام کرنے پر سراہا جائے تو دوسرے ملازمین بھی جلد یہ پیغام قبول کرلیتے ہیں کہ بیمار ہونے کے باوجود کام کرنا ایک اچھی بات ہے۔

صحت مند دفتر میں کیا ہونا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق ایک صحت مند کام کی جگہ پر ملازمین کو اپنی صحت، ذہنی کیفیت اور بیماری کی چھٹی کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی سہولت ہونی چاہیے۔

اعتماد بھی بہت اہم ہے۔

اگر کسی ملازم کی بیماری کی چھٹی پر بار بار سوال اٹھائے جائیں یا اسے منفی نظر سے دیکھا جائے تو وہ مستقبل میں حقیقی بیماری کے باوجود چھٹی لینے سے گریز کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر تارا کوئن سِریلو کے مطابق ایسا ماحول ایک اہم خطرے کی علامت ہے۔

کیسے معلوم ہو کہ آپ کام کرنے کے قابل نہیں؟

بیماری کی صورت میں یہ فیصلہ کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا کہ کام پر جانا چاہیے یا چھٹی لے لینی چاہیے۔

مزید پڑھیے: کیا نوعمری 32 سال تک جاری رہتی ہے؟ نئی تحقیق نے دماغ کی 5 اہم ارتقائی منزلیں بیان کر دیں

جسمانی بیماریوں کے معاملے میں بعض واضح علامات موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو الٹی یا اسہال ہو تو علامات ختم ہونے کے بعد کم از کم 48 گھنٹے گھر پر رہنا بہتر ہے جبکہ بخار کی صورت میں علامات ختم ہونے کے بعد کم از کم 24 گھنٹے آرام کرنا چاہیے۔

ایسی حالت میں مؤثر انداز میں کام کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور دفتر جانے کی صورت میں بیماری دوسروں تک منتقل ہونے کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔

تاہم کھانسی اور نزلہ زکام جیسی علامات میں فیصلہ کچھ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کووڈ کے بعد دفاتر میں بیماری سے متعلق رویوں میں تبدیلی آئی ہے اور اب نزلہ، زکام یا کھانسی کی صورت میں گھر سے کام کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے، جہاں یہ ممکن ہو۔

ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے معاملے میں بھی وہی اصول لاگو ہونا چاہیے جو جسمانی صحت پر ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص ذہنی طور پر اتنا پریشان یا تھکا ہوا ہے کہ وہ کام کرنے کے قابل نہیں تو اسے بھی بیماری ہی سمجھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر تارا کوئن سِریلو کے مطابق بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا آپ جسمانی یا ذہنی طور پر اپنا کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

ایک اور اہم علامت یہ ہے کہ کیا کام آپ کی بنیادی ذاتی دیکھ بھال کو متاثر کرنا شروع ہوگیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: بڑھتی عمر کا چہرہ قبول کرنا مشکل کیوں، اس کو جاذب نظر کیسے بنایا جائے؟

مثلاً کیا آپ اپنی دیکھ بھال پہلے کی طرح نہیں کر پا رہے، کیا آپ کام ختم ہونے کے بعد ذہنی طور پر خود کو پرسکون نہیں کر پاتے، کیا آپ کی نیند متاثر ہورہی ہے اور کیا کام سے دور ہونے کے باوجود ذہن مسلسل کام میں الجھا رہتا ہے؟

اگر ان سوالات کا جواب ’ ہاں‘ میں ہے تو ماہرین کے مطابق شاید جسم اور ذہن کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید کام نہیں بلکہ آرام ہے۔

بیماری میں کام کرنا ہمیشہ ذمہ داری کی علامت نہیں

ماہرین کی گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بیماری کے باوجود کام جاری رکھنا بظاہر ذمہ داری، محنت یا کام سے وابستگی کی علامت محسوس ہوسکتا ہے لیکن بعض اوقات اس کے پیچھے ملازمت کھونے کا خوف، دوسروں کے سامنے اچھا ثابت ہونے کی خواہش، احساسِ جرم یا غیر صحت مند دفتری ماحول بھی ہوسکتا ہے۔

اس لیے بیماری کی صورت میں خود سے یہ پوچھنا زیادہ اہم ہے کہ ’کیا میں کام کرنا چاہتا ہوں؟‘ کے بجائے ’کیا میں اس وقت کام کرنے کے قابل ہوں؟‘

مزید پڑھیے: ’اسنیکٹویٹی‘: بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرات ٹالنے والی یہ ترکیب کیا ہے؟

اگر جواب نفی میں ہو تو آرام کرنا کام سے فرار نہیں بلکہ صحت یابی کا حصہ ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp