ایک کام تھا، 6 مہینے سے کرنا تھا۔ کوئی بڑا کام نہیں، ایک پرانے دوست کی کتاب پر 4 صفحے کا ریویو لکھنا تھا۔ سیدھا سا حساب لگائیں تو زیادہ سے زیادہ 3،4 گھنٹے کا کام، مگر 6 مہینے گزر گئے۔ ہر ہفتے ارادہ باندھتا کہ اس بار ضرور لکھ دوں گا اور ہر ہفتے کوئی نہ کوئی بہانہ خود چل کر سامنے آ جاتا۔ کبھی آفس کا بوجھ، کبھی طبیعت کی ناسازی، کبھی گھر میں مہمان، کبھی یوٹیوب پر کوئی پرانی فلم، کبھی فیس بک پر کوئی نئی بحث، کبھی واٹس ایپ پر کوئی ایسا میسج جس کا جواب دینا اسی وقت ضروری لگا۔ یوں ایک ایک ہفتہ ٹلتا گیا۔ پیارے دوست ہیں، اللہ انہیں آسانیاں دے، خاموشی سے انتظار کرتے رہے، ایک بار بھی شکوہ نہیں کیا۔
آخر ایک رات مجھے نیند نہیں آ رہی تھی، اٹھ کر لیپ ٹاپ کھولا اور 2 گھنٹے میں تقریظ مکمل ہو گئی۔ صبح ای میل کر دی۔ شام کو جواب آیا، صرف 3 لفظ، جزاک اللہ خاکوانی صاحب۔
یہ 3 لفظ پڑھ کر مجھے خاصی شرمندگی ہوئی۔ 6 مہینے کی تاخیر اتنی آسانی سے معاف ہو گئی، کوئی طعنہ، نہ کوئی گلہ۔ تب مگر یہ بات کھلی کہ اس سارے قصے میں دشمن کوئی باہر کا نہیں تھا۔ میں خود اپنا حریف تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟
سچ پوچھیں تو ہم سب کا معاملہ کم وبیش یہی ہے۔ ہمارے ہاں طعنہ دینا، الزام دھرنا، حالات کو کوسنا، حکومت کو برا بھلا کہنا، باس کو نااہل ثابت کرنا، ساس کا ذکر چھیڑنا ، بیگم پر طنز کرنا اور موسم کو گالی دینا روزمرہ کے مشغلے بن چکے ہیں۔ ہر خرابی میں قصور کسی اور کا ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس چیز میں قصور سب سے زیادہ ہمارا اپنا ہوتا ہے، اس کا ذکر سب سے کم ہوتا ہے۔ سستی، خوف، دوسروں سے موازنہ، ٹالنے کی عادت اور یہ انتظار کہ کبھی صحیح وقت آئے گا، یہ سب وہ دشمن ہیں جو ہمارے اپنے گھر میں رہتے، ہمارا کھانا کھاتے ہیں اور دیمک کی طرح اندر ہی اندر ہماری زندگی چاٹتے رہتے ہیں۔
ان میں سے ہر ایک نے مگر ایک خوب صورت ماسک پہن رکھا ہے۔ سستی کا ماسک ہے، تھوڑا آرام کر لوں، پھر کرتا ہوں۔ خوف کا ماسک ہے، یہ کام میرے بس کا نہیں۔ موازنے کا ماسک ہے، فلاں نے کر لیا، میں کیوں نہ کر سکا۔ تاخیر کا ماسک سب سے دلکش ہے، اگلے مہینے سے، نئے سال سے، اس رمضان سے۔ ماسک الگ الگ ہیں، اصل چہرہ ایک ہی ہے، اپنے آپ سے ایمان داری کی کمی۔
اقبال کے فلسفۂ خودی پر بہت بحثیں ہوتی ہیں، برسوں پہلے ایک دانشور نے اس کا ایک نہایت اہم عملی پہلو یہ سمجھایا کہ انسان اپنی داخلی کمزوریوں کے آگے ہتھیار نہ ڈالے۔ سنہ 1915 میں اسرارِ خودی شائع ہوئی، اقبال کی پہلی فارسی مثنوی، جس نے ان کے تصورِ خودی کو باقاعدہ فلسفیانہ شکل دی۔ اقبال کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ انسان کو باہر کی رکاوٹوں سے پہلے اپنے اندر کی پستی سے لڑنا پڑتا ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ہم نے یہ شعر اسکول کی اسمبلیوں، ٹاک شوز اور بینروں پر اتنا سنا کہ اس کی روح سے دور ہو گئے۔ یہ محض شاعرانہ بات نہیں، ایک عملی نسخہ بھی ہے۔ بندہ جب اپنے اندر کے خوف، سستی اور احساسِ کمتری کو قابو میں لے تو اپنے امکانات بدلنے لگتا ہے۔ اس شعر کا عملی سبق یہی ہے کہ فتح کی ابتدا باہر سے نہیں، اپنے اندر موجود شکست خوردگی سے ہوتی ہے۔
اسی سلسلے میں امریکی ماہر نفسیات انجیلا ڈک ورتھ یاد آتی ہیں۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بعض لوگ مشکل حالات کے باوجود کامیاب کیوں رہتے ہیں۔ انہوں نے فوجی کیڈٹس، اساتذہ، سیلز کے شعبے سے وابستہ افراد اور نیشنل اسپیلنگ بی کے طلبہ سمیت مختلف گروہوں کا مطالعہ کیا۔ ان کی تحقیق میں ذہانت، تعلیم اور حالات کے ساتھ ایک اور اہم خوبی بار بار سامنے آئی۔ اسے انگریزی میں گرِٹ(Grit) کہتے ہیں، یعنی طویل عرصے تک کسی مقصد سے وابستہ رہنے اور مشکل کے باوجود ٹکے رہنے کی صلاحیت۔
کامیاب آدمی لازماً وہ نہیں جسے سب کچھ آسانی سے مل گیا، بلکہ اکثر وہ شخص آگے نکلتا ہے جو مشکل کے باوجود رکا نہیں۔ جو اپنے اندر کے خوف، سستی اور موازنے کی آواز کو بار بار شکست دے کر واپس اپنے کام پر آ جاتا ہے۔ ڈک ورتھ نے سنہ 2016 میں اسی نام سے کتاب لکھی۔ بات بہت سادہ ہے، مگر اس پر عمل بہت مشکل۔
اب ذرا 1800 برس پیچھے چلیں۔ رومی شہنشاہ مارکس آریلیس نے اپنے لیے ذاتی نوٹس لکھے تھے۔ یہ کسی قاری یا اشاعت کے لیے نہیں، خود اپنے آپ سے مکالمہ تھا۔ بعد میں یہی نوٹس میڈی ٹیشنز یعنی خود کلامی کے نام سے معروف ہوئے اور آج بھی دنیا بھر میں پڑھے جاتے ہیں۔ ایک جگہ وہ خود کو سمجھاتے ہیں کہ صبح اٹھتے ہی تیار رہو، آج ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے گا جو ناشکرے، متکبر، بے انصاف اور تنگ نظر ہوں گے۔ مگر یہ لوگ تم پر اسی وقت اثر انداز ہوں گے جب تم اپنے ردعمل کا اختیار انہیں دے دو گے۔
مزید پڑھیے: کیا آپ کا بچہ دوست بنا رہا ہے؟
سوچیں، ایک بادشاہ، جس کے پاس اپنی دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی، اصل جنگ اپنے اندر لڑ رہا تھا۔ ہمارے ہاں مارکس آریلیس کے تراجم اور اس کی فکر کا تعارف نسبتاً کم ہوا، حالانکہ یہ کتاب ہر بالغ پاکستانی کو ایک بار ضرور پڑھنی چاہیے۔
قدرت کا یہ فیصلہ ہے کہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ اپنی حالت خود نہ بدلے۔ یہ قوم کی سطح پر بھی سچ ہے اور فرد کی سطح پر بھی۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ اللہ پاک نے ہر شخص کے لیے امکانات کے دروازے رکھے ہیں، مگر ان دروازوں کی طرف قدم اسے خود اٹھانا پڑتا ہے۔ چابی گھمانی ہے یا نہیں، یہ فیصلہ بندے کا ہے۔ بیشتر لوگ چابی کو دیکھ کر کہتے ہیں، یہ تو شاید میری قسمت میں نہیں، کسی اور کے لیے ہو گی، اور اسے کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیں۔ پھر ساری زندگی شکایت کرتے ہیں کہ دروازہ نہیں کھلتا۔ بھائی، دروازہ کیسے کھلے، چابی کہاں ہے؟
ہمارا قومی مزاج بھی یہی بن چکا ہے۔ ہر چیز کا قصور باہر ڈھونڈتے ہیں۔ ٹیم ہار جائے تو امپائر، حکومت ناکام ہو تو سازش، کاروبار نہ چلے تو ٹیکس، بچہ پیچھے رہ جائے تو اسکول اور ٹیچر، نوکری نہ ملے تو سفارش کلچر، شادی ٹوٹ جائے تو ساس۔
ہو سکتا ہے ان سب میں کچھ سچائی بھی ہو۔ ہمارے معاشرے میں ناانصافی، خراب نظام، سفارش، ناقص تعلیم اور معاشی رکاوٹیں واقعی موجود ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ایک سوال ہر جگہ اٹھانا پڑے گا کہ اس میں ہمارا اپنا حصہ کیا ہے؟
ہم نے کیا کیا؟ ہم نے کب اپنے وقت کا حساب رکھا؟ ہم نے کب وہ کام مکمل کیا جسے کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا؟ ہم نے کب اپنی غلطی تسلیم کی؟ ہم نے کب اپنی نیت کو صاف کیا؟ یہ سوال تلخ ہیں، مگر ان کا ایمان داری سے جواب دینا ہی پہلا قدم ہے۔ اس کے بغیر ہر اصلاحی تحریک، ہر سیاسی نعرہ اور ہر وعظ محض شور ہے۔
ایک اور بات جو خاکسار نے برسوں کے مشاہدے میں سیکھی۔ بظاہر کامیاب لوگ بھی اپنے اندر کے اس حریف سے روزانہ لڑتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جسے کبھی سستی نہ ستاتی ہو، جسے خوف نہ آتا ہو یا جس کے دل میں دوسروں کو دیکھ کر موازنے اور جلن کا خیال نہ ابھرتا ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کامیاب لوگ اپنی اس کمزوری کو تسلیم کرتے اور دوبارہ کام پر لگ جاتے ہیں، جبکہ پیچھے رہ جانے والے اکثر اسے چھپانے کے لیے نئے بہانے تراشتے رہتے ہیں۔ یہ فرق کبھی کبھی چند سیکنڈ کے فیصلے کا ہوتا ہے، مگر اس کا اثر برسوں پر پھیل جاتا ہے۔
امریکی مصنف اسٹیون پریس فیلڈ نے اپنی کتاب دی وار آف آرٹ میں اس اندرونی دشمن کو ریزسٹنس یعنی مزاحمت کا نام دیا ہے۔ یہ وہ خفیہ آواز ہے جو ہر اچھا کام شروع کرتے وقت کان میں کوئی نیا بہانہ ڈال دیتی ہے۔ آپ اسے نفس کہیں، سستی کہیں یا مزاحمت، اصل فن اسے پہچان کر کام کی طرف واپس آنا ہے۔
ایک اور امریکی مصنف جیمز کلیئر نے سنہ 2018 میں اٹامک ہیبٹس(ایٹمی عادات) لکھی، جو اب تک دنیا بھر میں 3 کروڑ سے زیادہ کاپیوں میں فروخت ہو چکی ہے۔ کلیئر کی بات بہت سادہ ہے۔ بڑی تبدیلی ہمیشہ بڑے فیصلوں سے نہیں آتی، روزانہ کی معمولی بہتری سے آتی ہے۔ آپ روزانہ صرف ایک فی صد بہتر ہوتے جائیں تو ایک سال میں 27 نہیں، تقریباً 37 گنا بہتر ہو سکتے ہیں۔
حساب کا یہ سادہ سا فارمولا اپنے اندر ایک گہرا فلسفہ رکھتا ہے۔ بڑے کام چھوٹے قدموں سے ہوتے ہیں۔ آج صبح کسی کتاب کے دس صفحے پڑھ لیں، کل پھر دس، پرسوں پھر 10۔ سال کے آخر میں ساڑھے 3 ہزار سے زیادہ صفحے، یعنی پندرہ بیس کتابیں۔ تبدیلی روز نظر نہیں آتی، مگر ایک سال بعد آدمی خود اپنی پہچان میں نہیں آتا۔
ہمارے ہاں کام ٹالنے کا سب سے مقبول بہانہ یہ ہے کہ ابھی صحیح وقت نہیں آیا۔ سچ یہ ہے کہ صحیح وقت اکثر کبھی نہیں آتا۔ برائن ٹریسی نے دو ہزار ایک میں ایک کتاب لکھی، ایٹ دیٹ فراگ، یعنی مینڈک کھا لو۔ عجیب سا نام ہے، مگر مطلب گہرا ہے۔ صبح سب سے پہلے وہ کام کرو جسے کرنے کو دل سب سے کم چاہتا ہے، باقی دن خود بخود ہلکا ہو جائے گا۔
میں اس میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کرتا ہوں کہ صبح اٹھ کر، چائے کے پہلے گھونٹ سے پہلے، آدمی پانچ منٹ سوچ لے کہ آج میں نے ایک کام لازمی مکمل کرنا ہے۔ چھوٹا سا، چاہے دس منٹ کا ہو، مگر شام تک ہر حال میں مکمل کرنا ہے۔ یہ معمول بنا لیا جائے تو دو مہینوں میں زندگی کا نقشہ بدلنے لگتا ہے۔ ایک کام، روزانہ، چھوٹا سا، مگر مکمل۔
مزید پڑھیں: کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟
ہم سب کا کوئی نہ کوئی ادھورا کام ہمارے انتظار میں بیٹھا ہے۔ کسی کو فون کرنا، کسی سے معافی مانگنا، کسی پرانے دوست کا حال احوال پوچھنا، کوئی کتاب پڑھنا، کوئی ہنر سیکھنا، کسی خواب کی طرف پہلا قدم اٹھانا۔ وہ کام وہیں بیٹھا ہے اور اس کے ساتھ آپ کا اصلی آپ بھی۔
صحیح وقت کا انتظار چھوڑ دیں۔ آج، ابھی، ایک چھوٹا سا قدم اٹھائیں، کسی ادھورے کام کو مکمل کر ڈالیں۔
اللہ ہم سب کو اپنے اندر کے اس حریف کو پہچاننے اور اسے شکست دینے کی توفیق دے۔ آپ بھی سوچیے گا۔













