نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو ) کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے واضح کیا ہے کہ دفاعی اتحاد روس کے سائبر حملوں اور ’ہائبرڈ جنگ‘ کے تمام طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ ماسکو کے ان خطرات کا مؤثر جواب دینے کے لیے یوکرین کی فوجی و مالی امداد میں مزید اضافہ کیا جائے۔
NATO Secretary General Mark Rutte:
Article 5 is deliberately ambiguous, so we will never exactly tell anyone when Article 5 is exactly triggered or not, because we don’t want to make our adversaries any wiser.
But when it comes to hybrid, let me assure you, we have all the… pic.twitter.com/wdgjWoiFUd
— Anton Gerashchenko (@Gerashchenko_en) September 23, 2026
11 ستمبر 2001 کے واقعات کی یادگار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے کہا کہ روس سائبر اور غیر روایتی جنگ کے میدان میں اپنی تحریبی سرگرمیاں مسلسل بڑھا رہا ہے، لیکن مغربی اتحاد ان چالوں سے نپٹنے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مزید امریکی حملوں کے جواب میں یورپ کو نشانہ بنانے کی ایرانی دھمکی، نیٹو ہائی الرٹ، کشیدگی میں اضافہ
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نیٹو کے پاس کسی بھی ہائبرڈ حملے کی صورت میں مضبوط جوابی اقدامات کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔
یوکرین کے لیے عالمی امداد کا مطالبہ
سیکریٹری جنرل نے اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مغرب روس کے ہر ہائبرڈ واقعے اور اکسانے کی کوشش کا واضح اور تگڑا جواب دینا چاہتا ہے، تو اس کا بہترین طریقہ یوکرین کو مزید امداد فراہم کرنا ہے۔
یورپی ممالک اس خدشے کے تحت مسلسل ہائی الرٹ پر ہیں کہ یوکرین پر حملہ طویل ہونے کی صورت میں ماسکو کی جانب سے کیئو کے مغربی حامیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹس اور یورپی خدشات
مارک روٹے کا یہ بیان ڈنمارک کی ملٹری انٹیلی جنس سروس کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ روس مغرب کے خلاف ہائبرڈ حملوں کی شدت میں اضافہ کر سکتا ہے، اگرچہ سیکیورٹی اداروں کے مطابق روس کا براہ راست حملے کا امکان کم ہے لیکن اس کے خطرے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں:نیٹو سربراہی اجلاس، صرف 48 گھنٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سفارت کاری کا رخ بدل دیا
اس سے قبل پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے بھی یوکرین کے اتحادیوں پر روس کی جانب سے ڈرون، میزائل اور دیگر ہائبرڈ حملوں کے بڑھتے خطرات کی نشاندہی کی تھی۔
2022 میں یوکرین پر روس کے ہمہ گیر حملے کے بعد سے نیٹو کے مشرقی کنارے پر واقع ملک پولینڈ متعدد بار ماسکو پر اپنے دفاعی اور شہری انفراسٹرکچر کے خلاف ’تخریب کاری‘ کا الزام عائد کر چکا ہے۔














