تقریباً 80 ممالک نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے اور اس اہم بحری گزرگاہ سے جہازوں کی محفوظ و بلا رکاوٹ آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں مشترکہ بیان بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات عالمی سلامتی اور بحری آمدورفت کے حقوق و آزادیوں کے لیے خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرونز پر ایران کی نظریں، امریکی ماہرین کا انتباہ
مشترکہ بیان کے مطابق آبنائے ہرمز کو فوری اور مکمل طور پر کھولا جائے اور تمام بحری جہازوں کو محفوظ، پُرامن اور بلا رکاوٹ گزرنے کی اجازت دی جائے۔ بیان میں اس حوالے سے ٹولز، شرائط یا غیر قانونی فیس عائد نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
بیان کے حمایت کنندگان میں خلیجی ممالک اور بڑی مغربی طاقتیں شامل ہیں۔ ممالک نے خطے میں بین الاقوامی تجارت اور توانائی کے تحفظ کو درپیش خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
At UN, 80 countries demand reopening of Hormuz, condemn Iran, Houthi attacks https://t.co/5Xco56IMUz
— The Straits Times (@straits_times) September 24, 2026
بیان میں کہا گیا کہ باب المندب کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی سے بین الاقوامی بحری تجارت، سمندری سلامتی اور عالمی تجارت کو مزید خطرات لاحق ہوں گے۔
دوسری جانب ایران اور حوثی اپنے اقدامات کو دفاعی نوعیت کے قرار دیتے ہیں۔













