اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر درجنوں ممالک کے وفود احتجاجاً ہال سے باہر نکل گئے، جبکہ ایرانی وفد بھی اجلاس میں موجود نہیں تھا اور اس کی نشستوں پر پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصویر رکھی گئی۔
رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو کے روسٹرم پر پہنچتے ہی متعدد وفود نے ہال سے واک آؤٹ کیا، جس پر اسرائیلی وزیراعظم نے باہر جانے والے مندوبین کو ’اخلاقی بزدل‘ قرار دیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق 77 وفود اجلاس سے غیر حاضر یا واک آؤٹ میں شامل تھے، تاہم رائٹرز نے اس تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ فلوٹیلا پر حملہ کیس، ترکیہ کا نیتن یاہو سمیت 35 افراد کے خلاف بڑا اقدام
نیتن یاہو نے تقریباً 40 منٹ کی تقریر میں ایران، غزہ، قطر، ترکیہ اور نیویارک کے میئر ظہران ممدانی سمیت اپنے ناقدین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایران کے بارے میں دعویٰ کیا کہ اس کی حکومت کا خاتمہ زیادہ دور نہیں اور ایرانی عوام بالآخر حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے خطاب کے دوران اسٹارلنک کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائس بھی دکھایا اور کہا کہ وہ اسے ایرانی وفد کے لیے اقوام متحدہ کے صدر کے پاس چھوڑ رہے ہیں تاکہ ایرانی حکام کے ’انحراف‘ کی صورت میں وہ سوشل میڈیا پر اپنی بات دنیا تک پہنچا سکیں۔
انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک پیجر بھی دکھایا، جبکہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘ قرار دیا۔
Orthodox Jewish protesters gathered outside the U.N. headquarters ahead of Israeli Prime Minister Netanyahu’s speech shared a friendly exchange with the Palestinian permanent observer to the United Nations, Riyad Mansour. pic.twitter.com/undXxN5GAl
— The Washington Post (@washingtonpost) September 24, 2026
نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے قطر اور ترکیہ پر بھی اسرائیل کے خلاف جھوٹ پھیلانے کے الزامات عائد کیے۔
بعد ازاں اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینون نے مبینہ طور پر ایرانی وفد کو اسٹارلنک ڈیوائس دینے کی کوشش کی، تاہم ایرانی نمائندے نے اسے قبول نہیں کیا۔













