ماہرین صحت اور عمر رسیدگی کے عمل پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 30 کی دہائی میں اپنائی جانے والی صحت مند عادات انسان کو 70 اور 80 کی دہائی میں بھی زیادہ مضبوط، متحرک اور خودمختار رہنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی طاقت، ہڈیوں کی کثافت، جسمانی لچک اور میٹابولک نظام میں بتدریج تبدیلیاں آنا شروع ہوجاتی ہیں، اس لیے 30 کی عمر ان صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اہم مرحلہ قرار دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اچھی نیند کا ایسا راز جو شکاری قبائل آج بھی جانتے ہیں لیکن جدید انسان بھول گیا، جانیے اہم گُر
امریکا کے بَک انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ آن ایجنگ کے سربراہ ایرک ورڈن کے مطابق عمر کے کسی بھی مرحلے پر طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں، تاہم جتنی جلدی صحت مند عادات اپنائی جائیں، اتنا ہی بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق 30 کی دہائی میں جسمانی فٹنس کو بہتر بنانے سے مستقبل میں جسم کے لیے اضافی قوت اور برداشت کا ذخیرہ پیدا کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر ٹانگوں کے پٹھوں کو مضبوط رکھنا اہم ہے کیونکہ 70 سال سے زائد عمر میں گرنے اور توازن کھونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ٹینس، بیڈمنٹن اور سائیکلنگ جیسی سرگرمیوں کو طویل مدتی صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہفتے میں 75 منٹ سے زائد دوڑنے سے عمر بڑھنے کے بعض اثرات سست ہوسکتے ہیں، تاہم انتہائی سخت ورزش کے اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے روزانہ انتہائی سخت ورزش ضروری نہیں، کھانے کے بعد صرف 15 منٹ کی تیز واک بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ روزانہ چند منٹ کی درمیانے سے تیز شدت والی جسمانی سرگرمی دماغی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: جنرل اینستھیزیا نے دماغ اور شعور کے بارے میں اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا
دماغی صحت کے لیے دانتوں کی صفائی اور باقاعدہ معائنہ، تمباکو نوشی سے گریز اور میٹھی غذاؤں کا محدود استعمال بھی اہم قرار دیا گیا ہے، مسوڑھوں کی بیماری کو بعد کی زندگی میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔
ماہرین باقاعدہ نیند کو بھی صحت مند بڑھاپے کے لیے بنیادی اہمیت دیتے ہیں، روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو منظم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

الکحل کا زیادہ استعمال نیند متاثر کرنے کے علاوہ عمر بڑھنے سے متعلق بعض حیاتیاتی تبدیلیوں سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
غذا کے حوالے سے پھلوں اور سبزیوں کے زیادہ استعمال، الٹرا پروسیسڈ غذاؤں میں کمی اور کیروٹینائڈز سے بھرپور غذاؤں کو مفید قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق 30 کی عمر میں صحت مند طرز زندگی اپنانے سے دل کی بیماری، ذہنی صلاحیتوں میں کمی اور بڑھاپے کی کمزوری کے خطرات کو مستقبل میں کم یا مؤخر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔













