امریکا میں جنگی طیاروں کی نئی ٹیکنالوجی آزمانے کے لیے تیار کیے جانے والے تجرباتی ’ایکس پلینز‘ کو ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے جنگی ماحول میں نئی اہمیت اور نئے سوالات کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں:افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، ایئر ڈیفنس نے تمام مار گرائے
ایکس پلینز ایسے تجرباتی طیارے ہیں جنہیں نئی ایوی ایشن ٹیکنالوجی، رفتار، ڈیزائن اور جنگی صلاحیتوں کو آزمانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم جدید جنگوں میں ڈرونز کے بڑھتے استعمال نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ مستقبل کی فضائی طاقت کے لیے انتہائی جدید اور مہنگے تجرباتی طیاروں میں سرمایہ کاری کس حد تک ضروری ہے۔
ڈرونز نسبتاً کم لاگت میں تیار کیے جاسکتے ہیں اور انہیں نگرانی، حملوں اور دیگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت نے ان کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اس کے برعکس جدید جنگی طیاروں کی تیاری میں طویل وقت اور بڑے وسائل درکار ہوتے ہیں۔
تاہم ایکس پلینز کے حامیوں کے مطابق ڈرونز روایتی جنگی طیاروں کا مکمل متبادل نہیں، کیونکہ پائلٹ والے طیارے اب بھی زیادہ رفتار، طویل فاصلے، پیچیدہ مشنز اور بھاری ہتھیار لے جانے سمیت متعدد اہم صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔
امریکی دفاعی حکمت عملی میں اب توجہ ایسے نظاموں کی تیاری پر بھی ہے جن میں انسان بردار جنگی طیارے جدید ڈرونز کے ساتھ مل کر کام کرسکیں۔ اس تناظر میں ایکس پلینز مستقبل کی فضائی جنگ کے لیے نئی ٹیکنالوجیز آزمانے کی تجربہ گاہ کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:روس کے 600 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار والے ڈرونز نے یوکرینی فضائی دفاع کو مشکل میں ڈال دیا
یوں ڈرونز کے دور میں سوال صرف یہ نہیں کہ ایکس پلینز کی ضرورت باقی ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ مستقبل کی فضائی طاقت میں انسان بردار طیاروں، خودکار ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کو کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا جائے۔













