نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی راولپنڈی سرکل نے غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی فارن لون ریکوری اسکیم میں مبینہ طور پر ملوث 61 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ کارروائی کے دوران 155 لیپ ٹاپس اور 71 موبائل فونز برآمد کیے گئے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق راولپنڈی کے علاقے کمرشل مارکیٹ، سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک غیر قانونی کال سینٹر قائم ہونے کی اطلاع خفیہ ذرائع سے موصول ہوئی تھی، جہاں مبینہ طور پر بیرونِ ملک شہریوں کو غیر قانونی قرضوں کی وصولی کے نام پر دھمکایا اور ہراساں کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ارمغان کا کال سینٹر شہر کے 70 غیر قانونی کال سینٹر کا سہولت کار نکلا
اطلاع ملنے پر این سی سی آئی اے راولپنڈی سرکل کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ کال سینٹر پر چھاپہ مارا، جس کے دوران 61 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
NCCIA Rawalpindi conducted a raid on an alleged illegal call centre in Commercial Market, Satellite Town, Rawalpindi, resulting in the arrest of 61 suspects and recovery of 155 laptops and 71 mobile phones.
Preliminary examination revealed alleged involvement in illegal… pic.twitter.com/shE20IByjG— NCCIA (@NCCIAOFFICIAL) September 28, 2026
حکام کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 71 موبائل فونز اور 155 لیپ ٹاپس بھی برآمد ہوئے، جبکہ تمام ڈیجیٹل آلات اور ان میں موجود ڈیٹا کو فورینزک تجزیے کے لیے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ گرفتار افراد مبینہ طور پر جعلی ریکوری ایجنٹس بن کر غیر ملکی شہریوں سے قرضوں کی وصولی کے نام پر رابطہ کرتے اور انہیں دھمکیاں دے کر رقوم وصول کرتے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس مبینہ سرگرمی کے باعث متاثرہ شہریوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جبکہ ایسے غیر قانونی کال سینٹرز کی سرگرمیوں سے پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ مومنہ اقبال ہراسگی کیس: این سی سی آئی اے نے لیگی رکن اسمبلی کو اہلیہ سمیت طلب کرلیا
این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش کے ساتھ ساتھ قبضے میں لیے گئے ڈیجیٹل آلات اور ڈیٹا کا تکنیکی و فرانزک تجزیہ جاری ہے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ غیر قانونی کال سینٹرز ملک کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے کی کارروائی، اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث گروہ کی مرکزی ملزمہ سمیت 2 افراد گرفتار
ان کے مطابق این سی سی آئی اے سائبر کرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور غیر قانونی کال سینٹرز اور سائبر فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی شہریوں کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت متحرک ہے۔ ’شہری کسی بھی سائبر جرم کی اطلاع سائبر ہیلپ لائن 1799 پر یا قریبی این سی سی آئی اے سرکل میں دے سکتے ہیں۔‘











