لاڑکانہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کردی ہے جبکہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران متعدد افراد کے قتل سمیت جرائم کے مختلف واقعات نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کچے میں سندھ پولیس کا آپریشن جاری، خطرناک ڈاکو نے سرینڈر کردیا
شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کے پاس نہ مناسب اختیارات ہیں اور نہ ہی مطلوبہ وسائل جس کے باعث شہری خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔
ایڈووکیٹ عبد الستار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لاڑکانہ میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ یہاں قتل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز ڈکیتیوں کے واقعات پیش آتے ہیں اور مختلف نوعیت کے جھگڑے معمول بنتے جارہے ہیں مگر اس سب کے باوجود پولیس کہیں نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ کی سیاسی قیادت لندن اور پیرس میں موجود ہے اور اسے اپنے علاقے کے حالات کی خبر یا پرواہ نہیں۔
لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ رؤف کورائی نے کہا کہ لاڑکانہ کی صورتحال وانا اور وزیرستان جیسی ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیے: سندھ میں ڈاکوؤں سے مقابلہ کرنے والے میاں بیوی پولیس اہلکار کون ہیں؟
انہوں ے کہا کہ ہم نے فاٹا کے واقعات کے بارے میں سنا تھا، مگر لاڑکانہ کے موجودہ حالات کہا کہ سیاسی ارکان اپنی جیبیں بھر رہے ہیں جبکہ علاقے میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی منصوبے نہیں لگ رہے۔ ان کے مطابق اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور اب شہر میں امن و امان کی صورتحال بھی ابتر ہوچکی ہے۔
رؤف کورائی کا کہنا تھا کہ سندھ میں جب تک سیاسی نظام درست نہیں ہوگا حالات اسی طرح خراب رہیں گے۔
مقامی دکاندار عبداللہ عباسی نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے شہر لاڑکانہ کو ایک مثالی شہر ہونا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے یہاں دن دہاڑے قتل اور چوری کی وارداتیں ہورہی ہیں۔
مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان، قومی دھارے میں شامل ہونے کا آخری موقع
انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں میں امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں اور کاروبار تقریباً ٹھپ پڑا ہے۔
مقامی شہری فدا حسین کے مطابق لاڑکانہ میں ایک ہفتے کے دوران 8 افراد قتل ہوچکے ہیں جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن، آئی جی سندھ نے اہم احکامات دیدیے
انہوں نے کہا کہ مقامی مسائل کے حل کے لیے واحد راستہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔













