صبح کا آغاز کافی کے کپ سے ہو یا دن بھر سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کے استعمال کی عادت پڑچکی ہے یہ صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی کیفیت پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہت زیادہ گرم چائے یا کافی غذائی نالی کو نقصان پہنچا کر کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے
ایک نئی تحقیق میں روزانہ استعمال کیے جانے والے مختلف مشروبات اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر مشروبات کا زیادہ استعمال ڈپریشن کے خطرے میں اضافے سے منسلک پایا گیا تاہم سادہ کافی اس حوالے سے ایک مختلف رجحان رکھتی ہے۔
اگست میں طبی جریدے ’ڈپریشن اینڈ اینگزائٹی‘ میں شائع ہونے والی ایک جامع تجزیاتی تحقیق میں 22 ممالک کے 20 لاکھ سے زائد افراد سے متعلق 59 مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ زیادہ مقدار میں کافی پینے والے افراد میں کم یا بالکل کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں ڈپریشن کی علامات کا امکان تقریباً 13 فیصد کم تھا۔
مزید پڑھیے: رات کا کھانا کب کھانا چاہیے؟ صرف غذا نہیں وقت بھی اہم ہے
تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کافی پینا ڈپریشن سے بچاؤ یا اس کے علاج کا سبب بنتا ہے۔ تحقیق میں صرف دونوں عوامل کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔
میٹھے مشروبات موڈ پر کیسے اثر انداز ہوسکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق چینی سے بھرپور مشروبات اور مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کے زیادہ استعمال کو ذہنی صحت کے مسائل اور ڈپریشن کی زیادہ علامات سے جوڑنے والی متعدد تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔
ماہر غذائیت جینیفر پیلیئن کے مطابق زیادہ مقدار میں چینی کا استعمال جسم میں سوزش بڑھا سکتا ہے جس سے دماغ کے ان حصوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے جو بے چینی اور تناؤ کے ردعمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔
زیادہ چینی خون میں گلوکوز کی سطح میں اتار چڑھاؤ اور انسولین کے خلاف مزاحمت کا باعث بھی بن سکتی ہے جو دماغ میں موجود ایک اہم پروٹین بی ڈی این ایف کی سطح اور دماغی خلیوں کے درمیان رابطے کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں
بی ڈی این ایف دماغی خلیوں کی نشوونما اور انہیں برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ اس کی کم سطح کو ڈپریشن کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ چینی جسم میں تناؤ سے متعلق ہارمون کورٹیسول کے معمول کے نظام کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ مقدار میں چینی اور زیادہ گلیسیمک غذاؤں کو جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹو اسٹریس سے متعلق عوامل میں اضافے کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے۔
کیا ذہنی صحت کے لیے چینی کی کوئی محفوظ مقدار مقرر ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال ذہنی صحت کے حوالے سے چینی کی کوئی ایسی مخصوص مقدار مقرر نہیں جسے ’محفوظ حد‘ قرار دیا جاسکے۔
ایک ماہر کے مطابق دستیاب بیشتر تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ زیادہ چینی ذہنی مسائل کا سبب بنتی ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے سے ذہنی دباؤ یا بے چینی کا شکار افراد میٹھی اشیا اور مشروبات کی طرف زیادہ مائل ہوں۔
ایک تحقیق میں یہ ضرور دیکھا گیا کہ سافٹ ڈرنکس سے روزانہ 25 گرام سے زیادہ چینی استعمال کرنے والے نوجوانوں میں بے چینی اور ڈپریشن کی علامات زیادہ تھیں تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ 25 گرام یا اس سے کم مقدار ہر شخص کے لیے ذہنی صحت کے حوالے سے محفوظ حد ہے۔
کافی اور ڈپریشن کے درمیان کیا تعلق سامنے آیا؟
کافی کے حوالے سے ماضی میں بھی متعدد تحقیقات میں اس کے استعمال اور ڈپریشن کی کم شرح کے درمیان تعلق سامنے آچکا ہے۔
ایک سابقہ تحقیق میں روزانہ چار کپ کافی پینے والی خواتین میں ڈپریشن کا خطرہ تقریباً 20 فیصد کم پایا گیا تھا جبکہ نئی جامع تحقیق نے بھی کافی کے زیادہ استعمال اور ڈپریشن کی کم علامات کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت
ماہرین کے مطابق کافی میں موجود کیفین دماغ میں ایسے کیمیائی عمل کو متاثر کرتی ہے جو بیداری، توجہ اور توانائی سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیفین دماغ میں ایڈینوسین نامی نیورو ٹرانسمیٹر کے اثرات کو روکتی ہے جس کے نتیجے میں ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے کیمیائی مادوں کی سرگرمی متاثر ہوسکتی ہے۔
کافی میں موجود دیگر حیاتیاتی اجزا، خصوصاً اینٹی آکسیڈنٹس، بھی جسم اور دماغ میں سوزش کے عمل کو کم کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق کافی کے ممکنہ فوائد کو صرف کیفین سے منسوب نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کافی میں کئی دیگر حیاتیاتی مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔
کیا ہر کیفین والے مشروب کے فوائد بھی ایک جیسے ہیں؟
یہ ضروری نہیں۔ ماہرین کے مطابق چائے کے بعض مطالعات میں بھی ڈپریشن کے کم خطرے سے تعلق سامنے آیا ہے لیکن دیگر تحقیقات میں ایسا کوئی واضح تعلق نہیں ملا۔
اس کے برعکس انرجی ڈرنکس کے استعمال کو بعض تحقیقات میں ڈپریشن کی زیادہ علامات کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بچنے کے آسان طریقے، صحت بخش متبادل کونسے؟
اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مختلف مشروبات میں کیفین کے علاوہ چینی، مصنوعی مٹھاس اور دیگر اجزا کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے صرف کیفین کو ذہنی صحت پر اثر انداز ہونے والا واحد عنصر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کیا کیفین کی مقدار بھی اہم ہے؟
تحقیق سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ کیفین کی مقدار بھی اہم ہوسکتی ہے۔
ایک سابقہ تحقیق میں روزانہ 450 سے 600 ملی گرام کیفین استعمال کرنے والے افراد میں کم مقدار استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا خطرہ کم پایا گیا تاہم اس سے زیادہ مقدار پر یہی ممکنہ فائدہ برقرار نہیں رہا۔
ماہرین کے مطابق کیفین کی معتدل مقدار بعض افراد میں توجہ، بیداری اور توانائی بہتر کرسکتی ہے لیکن بہت زیادہ کیفین بے چینی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ بھی کرسکتی ہے۔
مزید پڑھیے: روزانہ کی خوراک میں اسنیکس سمیت الٹرا پراسیسڈ چیزیں کتنی خطرناک، 88 لاکھ افراد کے ڈیٹا سے اہم انکشاف
یعنی کیفین کے ممکنہ اثرات کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ اسے استعمال کیا جارہا ہے بلکہ کتنی مقدار میں اور کس مشروب کے ذریعے استعمال کیا جارہا ہے یہ بھی اہم ہے۔
کیا شوگر فری مشروبات بہتر انتخاب ہیں؟
ضروری نہیں کہ چینی کی جگہ مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے سے ذہنی صحت کے حوالے سے مشروب زیادہ بہتر ہوجائے۔
تحقیق میں مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کا استعمال بھی ڈپریشن کے زیادہ خطرے سے منسلک پایا گیا۔ اسی طرح میٹھے مشروبات، سافٹ ڈرنکس، ببل ٹی اور انرجی ڈرنکس کے استعمال کے ساتھ بھی ڈپریشن کی علامات کا تعلق سامنے آیا۔
اس لیے صرف چینی سے پاک یا شوگر فری لکھا ہونا کسی مشروب کو ذہنی صحت کے لیے لازماً بہتر انتخاب ثابت نہیں کرتا۔
اصل بات اعتدال ہے
ماہرین کے مطابق ذہنی صحت کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے جن میں جینیاتی عوامل، طرز زندگی، نیند، جسمانی سرگرمی، خوراک اور دیگر سماجی و ماحولیاتی عوامل شامل ہیں۔ اس لیے کسی ایک مشروب کو ذہنی صحت کا واحد ذمہ دار یا واحد حل قرار دینا درست نہیں۔
موجودہ تحقیق سے اتنا ضرور اشارہ ملتا ہے کہ سادہ، کم یا بغیر چینی والی کافی کا استعمال ڈپریشن کی کم علامات کے ساتھ منسلک ہوسکتا ہے جبکہ زیادہ میٹھے مشروبات کا استعمال ذہنی صحت کے لیے ناموافق نتائج سے منسلک پایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دانتوں کی صحت کا راز صرف برش نہیں، آپ کی خوراک بھی اہم ہے
تاہم کافی کو ڈپریشن کے علاج یا اس سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھنے کے لیے مزید ایسی تحقیق کی ضرورت ہے جو صرف تعلق نہیں بلکہ وجہ اور اثر کو بھی واضح کرسکے۔














