سہیل آفریدی حکومت لانگ مارچ میں مصروف، خیبرپختونخوا کے بنیادی مسائل کون حل کرےگا؟

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

احتجاج کرنا پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی آئینی و قانونی حق ہے اور اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا، جو کرک، کوہاٹ اور پشاور سے ہوتا ہوا قبائلی ضلع خیبر تک پہنچ چکا ہے۔

تاہم، پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں برسراقتدار بھی ہے اور حکومت میں ہونے کے ناتے اس پر بعض آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے کے عوام لانگ مارچ اور احتجاج کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق بھی کئی بنیادی سوالات اٹھا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: عدالتی پابندی کے باوجود پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات

1۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟

خیبرپختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اب تک کون سے مؤثر اور عملی اقدامات کیے ہیں؟

کیا اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے بھی لانگ مارچ کی طرز پر کوئی واضح حکمتِ عملی یا سیاسی جدوجہد سامنے آئی ہے؟

2۔ گڈ گورننس کہاں ہے؟

صوبائی حکومت کی گورننس پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انتظامی معاملات میں بہتری، سرکاری اداروں کی کارکردگی، شفافیت اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے صوبائی حکومت نے اب تک کون سے ٹھوس اقدامات کیے ہیں؟ کیا حکومت کی ترجیحات میں صوبے کا انتظامی بحران بھی شامل ہے؟

3۔ صنعتیں بند، روزگار کے مواقع محدود

خیبرپختونخوا میں گزشتہ 20 سال کے دوران امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 530 سے زیادہ چھوٹے بڑے صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ صوبے میں ایک بھی لارج مینوفیکچرنگ انڈسٹری موجود نہیں، جبکہ امن و امان کی خراب صورتحال اور مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث سرحد چیمبر آف کامرس کے مطابق 20 ہزار سے زیادہ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ صوبے میں صنعت، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے حکومت کی عملی حکمت عملی کیا ہے؟

4۔ سرکاری جامعات مالی بحران کا شکار

خیبرپختونخوا کی 34 سرکاری یونیورسٹیوں میں سے آدھے سے زیادہ شدید مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ یہ بحران محض جامعات کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبے کے مستقبل اور نوجوان نسل کے تعلیمی مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بحران کے حل کے لیے صوبائی حکومت نے اب تک کیا سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے ہیں؟

5۔ وفاق سے اربوں روپے کے بقایاجات، عملی پیشرفت کہاں ہے؟

وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا حکومت کے صرف پن بجلی کی مد میں 80 ارب روپے سے زیادہ کے بقایاجات ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان واجبات کی وصولی کے لیے صوبائی حکومت نے خط و کتابت کے علاوہ کیا عملی اور مؤثر اقدامات کیے ہیں؟

کیا صوبے کے مالی حقوق کے حصول کے لیے کوئی واضح اور نتیجہ خیز حکمت عملی موجود ہے؟

6۔ قبائلی اضلاع کے لیے وعدہ کیے گئے 100 ارب روپے کہاں ہیں؟

2018 میں قبائلی اضلاع کے انضمام کے وقت یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ قبائلی اضلاع کے لیے وفاق سالانہ 100 ارب روپے ترقیاتی فنڈ کی مد میں فراہم کرےگا۔ قبائلی اضلاع آج بھی بنیادی سہولیات، ترقی اور روزگار کے حوالے سے شدید مسائل کا شکار ہیں۔

سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے اس اہم معاملے کو وفاق کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھانے اور اپنے حق کے حصول کے لیے اب تک کیا عملی پیشرفت کی ہے؟

7۔ 49 لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر

مختلف سرکاری رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ سے زیادہ بچے، جنہیں اسکول میں ہونا چاہیے، اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ تعداد صوبے کے مستقبل کے حوالے سے ایک انتہائی تشویش ناک صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ان بچوں کو اسکولوں میں لانے اور داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی حکومت نے کیا مؤثر اقدامات کیے ہیں؟

یہ تمام مسائل کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے مستقبل، امن، معیشت، تعلیم، صنعت اور گورننس سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔

ایک طرف صوبائی حکومت لانگ مارچ میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف صوبے کے یہ بنیادی مسائل بدستور موجود ہیں۔

احتجاج اور سیاسی جدوجہد ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے، لیکن حکومت میں رہتے ہوئے عوام کو گورننس، امن، تعلیم، روزگار اور معیشت کے حوالے سے نتائج دینا بھی اسی قدر ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کون سے قانونی آپشن ہیں؟

موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے حقیقی اور بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا کر سیاسی سرگرمیوں کو اپنی ترجیح بنا چکی ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp