پاکستان اور مملکتِ بحرین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 55 سال مکمل ہونے کے موقع پر پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس کامیابی سے ہمکنار ہو گیا ہے، جس میں دونوں برادر ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے، تجارتی حجم کو دوگنا کرنے اور کثیرجہتی شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مابین 55 سالہ دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو نئے افق فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعتی ترقی، غذائی تحفظ، اعلیٰ تعلیم، آئی ٹی، لاجسٹکس، بحری امور، صحت اور کلچر و اسپورٹس جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دینے اور انہیں باقاعدگی سے فعال رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بحرین میں مقیم ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد پاکستانی دونوں برادر ممالک کے مابین مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کا فوکس اپنے ہنرمندوں اور پیشہ ور افراد کے لیے خلیجی ممالک میں نئے مواقع پیدا کرنا ہے، جس کے لیے لیبر موبیلٹی، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی میں باہمی تعاون بڑھایا جائے گا۔
علاقائی سیکیورٹی اور عالمی امور پر گفتگو
مذاکرات میں خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد اللطیف بن راشد الزیانی نے خطے میں تحمل، کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں عالمی غذائی و توانائی کی سلامتی کے پیشِ نظر بحری آمدورفت کی آزادی اور تحفظ یقینی بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔
یہ بھی پڑھیے بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزایانی پاکستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر شاندار استقبال
فلسطین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے اصولی موقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور القدس الشریف کی مذہبی و تاریخی حیثیت کی تبدیلی کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ کے مظلوم عوام تک بلا رکاوٹ انسانی امداد پہنچائی جائے اور مسئلہ فلسطین کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکالا جائے۔
جنوبی ایشیا اور سندھ طاس معاہدہ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغانستان اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی پر بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکا جانا ضروری ہے۔
بھارت کے رویے پر روشنی ڈالتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے‘ کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار بنانے کی یہ کوشش انتہائی خطرناک ہے، جس سے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی پانی، خوراک اور توانائی کی سلامتی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
بحرینی وزیر خارجہ کی گفتگو
بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد اللطیف بن راشد الزیانی نے اپنی اعلیٰ قیادت کی جانب سے صدر مملکت، وزیراعظم اور اعلیٰ ملٹری قیادت کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارتی حجم کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بحرین کا خیرمقدم
بحرینی وزیر خارجہ نے پاکستان میں مقیم محنتی پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحرین، پاکستان کی امن کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بحرین اور سویلین انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا ’ہم نے بہت کم وقت میں وسیع پیمانے پر اہم امور احاطہ کیا ہے، اور بحرین پاکستان کے ساتھ تعلقات اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شفاف اور مثبت سفارت کاری کا انتہائی احترام کرتا ہے۔‘














