جمعرات کے روز چین نے صحت کی عہدیدار سونگ لی کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سربراہی کے لیے نامزد کر دیا انہیں موجودہ ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئس کی جگہ لینے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک تیر سے دو شکار: سیاح اب جنوبی کوریا صرف گھومنے نہیں جارہے، دوسرا اہم مقصد کیا ہے؟
وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کے مطابق اگر سونگ لی منتخب ہو جاتی ہیں تو اس سے ڈبلیو ایچ او کو عالمی صحت اور انسانیت کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرنے میں مدد ملے گی۔
بیجنگ نے اقوام متحدہ کے اداروں اور دیگر کثیرالجہتی اداروں میں اپنے دائرہ کار کو فعال طور پر بڑھایا ہے جبکہ ٹرمپ کے تحت امریکہ اقوام متحدہ اور اس کے بعض ذیلی اداروں کے ساتھ اپنی شمولیت کو مرحلہ وار ختم کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے: کوئی ملک سگریٹ کمپنیوں کے فنڈز، شراکت داری قبول نہ کرے، ڈبلیو ایچ او
ڈاکٹر سونگ زچہ و بچہ کی صحت کی پالیسی اور بین الاقوامی تعاون میں بیس سال کے تجربے کے ساتھ ایک سینئر پبلک ہیلتھ عہدیدار ہیں۔ انہوں نے سارس، برڈ فلو کے پھیلاؤ اور کووڈ-19 سمیت ملکی سطح پر صحت کے بحران کے انتظام میں فعال کردار ادا کیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ سنہ 2020 میں کوویڈ 19 کی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایک مقالے کی ایڈیٹر ان چیف بھی تھیں تاکہ وبائی امراض کے دوران زچہ و بچہ کی دیکھ بھال کی نگرانی کے لیے وفاقی رہنما خطوط قائم کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: انفلوئنزا اور کووڈ-19 سے بچاؤ پر ویڈیو، عالمی ادارہ صحت نے مقابلے کا اعلان کردیا
ٹرمپ انتظامیہ نے وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے طرز عمل کی مسلسل مذمت کی ہے اور اس پر چین کی جانب داری کا الزام لگایا ہے جہاں سے کوویڈ 19 کی ابتدا ہوئی تھی۔ ڈبلیو ایچ او نومبر کے اوائل میں ایگزیکٹو بورڈ کے بعد نامزد افراد کی حتمی فہرست جاری کرے گا۔














