امریکی حکومت نے مائیکروسافٹ، ایڈوب اور دیگر بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ سے متعلق لیبر سرٹیفکیشن درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی ہے۔
دوسری جانب ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت 9 بڑی امریکی جامعات کے خلاف بھی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں غیر ملکی طلبا کے ویزے اچانک منسوخ، طلبا خوف و ہراس کا شکار
امریکی انتظامیہ کے مطابق اس کارروائی کا مقصد امیگریشن نظام کے مبینہ غلط استعمال کو روکنا اور امریکی شہریوں کی ملازمتوں اور اجرتوں کا تحفظ کرنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پہلے ہی غیر ملکیوں کی آمد اور مستقل رہائش کے حصول کے طریقہ کار کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
The US is suspending Microsoft and other major IT firms from a green card program for skilled foreign workers, with Vice President JD Vance citing alleged fraud and a push to prioritize American workers https://t.co/1bybgb8UCl pic.twitter.com/zWgVkWGHgr
— Reuters (@Reuters) October 8, 2026
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران مائیکروسافٹ پر امیگریشن نظام کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے گزشتہ سال 6 ہزار امریکی ملازمین کو فارغ کیا، جبکہ اسے 6 ہزار 300 ایچ ون بی عارضی ورک ویزوں اور تقریباً 3 ہزار گرین کارڈز سے فائدہ پہنچا۔
امریکی وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ کے مطابق پابندی کا اطلاق مائیکروسافٹ اور ایڈوب کے علاوہ کوگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وِپرو، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور کیپجیمینی پر بھی ہوگا۔
مزید پڑھیں: امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل
ان کمپنیوں سے متعلق لیبر سرٹیفکیشن کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی اور زیرِ التوا درخواستوں پر بھی کارروائی روک دی جائے گی۔
سونڈرلنگ نے کہا کہ ان کمپنیوں نے 2009 سے اب تک تقریباً 30 لاکھ غیر ملکی کارکنوں کے لیے درخواستیں دی ہیں۔
انہیں ایچ ون بی ویزوں کی 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد منظوریوں اور ایک لاکھ سے زیادہ مستقل لیبر سرٹیفکیشن کی منظوریوں سے فائدہ پہنچا۔
مزید پڑھیں: مائیکروسوفٹ کا پاکستان میں کاروبار بند کرنے کا فیصلہ
مائیکروسافٹ نے اپنے مؤقف میں کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اس کی جانب سے جمع کرائی گئی ایچ ون بی درخواستوں میں تقریباً 80 فیصد موجودہ ملازمین کے ویزوں میں توسیع یا حیثیت کی تبدیلی سے متعلق تھیں، نہ کہ نئی بھرتیوں کے لیے۔
کمپنی کے مطابق غیر ملکی ملازمین کو مساوی نوعیت کے کام پر دیگر ملازمین کے برابر تنخواہیں دی جاتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے ہارورڈ، ییل، اسٹینفورڈ، براؤن یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سمیت 9 جامعات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
10/08/26
H1B1 Fraud
"The Trump admin. is suspending Microsoft, Adobe, & several other technology companies from a program that helps skilled foreign workers obtain permanent residency in the United States, accusing the companies of fraud."
–https://t.co/jf2wpvCfE4
–— Uriel (@ElizabethEntre2) October 8, 2026
حکام کے مطابق تحقیقات میں ایکسچینج وزیٹر ویزوں کے ممکنہ غلط استعمال، غیر ملکی اثرورسوخ، مالی بے ضابطگیوں اور وفاقی فنڈز سے ہونے والی تحقیق پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
محکمہ محنت کے انسپکٹر جنرل انتھونی ڈی ایسپوزیٹو نے بتایا کہ تحقیقات کے سلسلے میں بعض جامعات کو طلبی کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
امریکن کونسل آن ایجوکیشن کی نائب صدر سارہ اسپریٹزر نے خبردار کیا کہ ان اقدامات سے امریکی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: مائیکروسوفٹ کا آؤٹ لک لائٹ بند کرنے کا اعلان، مرکزی ایپ پر منتقل ہونے کا مشورہ
ان کے مطابق بین الاقوامی طلبہ امریکا میں تاریخی طور پر سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر خرچ کرتے رہے ہیں۔
یہ کارروائی غیر ملکی ہنرمند کارکنوں اور بین الاقوامی طلبہ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر پالیسی کا تازہ مرحلہ ہے۔














