18 برس کی عمر میں اپنی ہم جماعت کے قتل کے جرم میں سزاۓ موت پانے والی 50 سالہ خاتون کرسٹا پائیک پر 30 ستمبر کو زہریلے انجکشن کے ذریعے عمل درآمد کی کوشش کی گئی، تاہم ‘پینٹو باربیٹل’ نامی زہریلی دوا کی دو مکمل خوراکیں دیے جانے کے باوجود وہ زندہ رہیں۔
چشم دید گواہوں کے مطابق، زہریلا ٹیکہ لگائے جانے کے بعد بھی قیدی کی سانسیں چلتی رہیں، وہ خراٹے لیتی رہی اور اپنے جسم کے حصے اس اسٹریچر سے اوپر اٹھاتی رہی جس سے وہ بندھی ہوئی تھی۔ پائیک کے وکلا کے مطابق وہ 6 اکتوبر کو اسپتال میں ہوش میں آ چکی ہیں، تاہم ان کی مکمل بحالی کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔
اس واقعے کے بعد ریاست ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں سزائے موت کے التوا کا اعلان کرتے ہوئے واقعے کی کسی ثالث سے ’جامع اور آزادانہ تحقیقات‘ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیے مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود زندہ بچ جانے والی خاتون ہوش میں آگئی، گفتگو کرنے لگی
رواں برس ٹینیسی میں یہ دوسرا موقع ہے جب زہریلا ٹیکہ ناکام ہونے کے بعد سزا پر عمل درآمد روکا گیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں واقع ‘ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر’ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر روبن ماہر کا کہنا ہے کہ یہ موقع تمام متعلقہ اداروں کے لیے رک کر سوچنے اور ان تمام وجوہات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا ہے کہ آخر سزا کے عمل میں کہاں اور کیوں غلطی ہوئی۔
زہریلا ٹیکہ: سب سے عام مگر سب سے نا قابلِ اعتماد طریقہ
امریکا میں سزاۓ موت کے مختلف طریقوں میں زہریلا انجکشن سب سے عام ہے، لیکن اعداد و شمار کے مطابق یہی طریقہ سب سے زیادہ نا قابلِ اعتماد ثابت ہوا ہے۔ 1890 سے 2010 کے درمیان سامنے آنے والے جائزوں سے معلوم ہوا کہ دیگر طریقوں کے مقابلے میں زہریلے ٹیکے کا طریقہ کار دوگنا سے بھی زیادہ ناکام رہا۔
ماہرین اس کی بنیادی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ جیل کے ماحول میں پیشہ ور طبی عملے کے بغیر ایک طبی طریقہ کار کو انجام دینا انتہائی دشوار ہے۔ دنیا بھر کی تمام بڑی طبی تنظیمیں اپنے اراکین کو سزاۓ موت میں معاونت سے روکتی ہیں کیونکہ یہ ’کسی کو نقصان نہ پہنچانے‘ کے طبی حلف کی خلاف ورزی ہے۔ نتیجے کے طور پر، جیل انتظامیہ غیر مصدقہ صلاحیتوں کے حامل عملے پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یونیورسٹی آف رچمنڈ اسکول آف لا کی پروفیسر کورینا بیریٹ لین کا کہنا ہے’زہریلا انجکشن تمام تر نازک طبی پیچیدگیوں، غلطی کے امکانات اور باریک بینی کا تقاضا کرتا ہے، لیکن اسے جیل کے جابرانہ ماحول کے مطابق ڈھال دیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی نازک طریقہ کار کا نامناسب انداز میں استعمال ہے۔‘
ادویات کی کمی اور مریضوں کی صحت کے مسائل
اس طریقہ کار کی ناکامی کی دیگر وجوہات میں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے سزاۓ موت کے لیے اپنی ادویات کی فراہمی پر پابندی بھی شامل ہے۔ جس کی وجہ سے کئی امریکی ریاستیں غیر معروف اور غیر معیاری ذرائع سے ادویات حاصل کرتی ہیں یا پرانی اور میعاد ختم ہو جانے والی ادویات کے ذخائر استعمال کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا میں سزائے موت پانیوالی خاتون مہلک انجیکشن کے بعد بھی زندہ، اسپتال منتقل
اس کے علاوہ سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی زائد العمری اور ان کی جسمانی بیماریاں بھی اس عمل کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ بیشتر ناکام سزاؤں میں عملہ قیدی کی رگ (Vein) ڈھونڈنے یا IV لائن قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ پائیک کے وکلا نے بھی سزا سے قبل نشاندہی کی تھی کہ ان کی رگیں انتہائی باریک ہیں اور وہ خون کی ایک بیماری میں مبتلا ہیں۔
کیا زہریلا ٹیکہ انسانی ہمدردی ہے یا محض دکھاوا؟
اگرچہ 1982 میں ٹیکساس سے شروع ہونے والا یہ طریقہ کار 28 امریکی ریاستوں میں سزائے موت کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے، تاہم اس کی ’افادیت‘ پر سوالات گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ 2025 میں امریکا میں زہریلے ٹیکے کے ذریعے 39 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جبکہ 5 کو زہریلی گیس اور 3 کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کی فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ
یونیورسٹی آف کولوراڈو کے پروفیسر مائیکل ریڈلیٹ کا کہنا ہے کہ زہریلے ٹیکے کو بجلی کے کرنٹ یا پھانسی جیسے پرانے اور خوفناک طریقوں کا نعم بدل سمجھ کر اپنایا گیا تھا تاکہ سزا کو ایک طبی اور ‘انسانی ہمدردانہ’ شکل دی جا سکے، لیکن تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دعویٰ غلط تھا اور قیدیوں کو اس کے باوجود شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ اس طریقہ کار کو مکمل طور پر ختم کرنے پر غور کیا جائے، کیونکہ زہریلا ٹیکہ کبھی بھی انسانی ہمدردی پر مبنی سزا نہیں تھا، بلکہ یہ صرف سزا کو ظاہر میں انسانی ہمدردانہ دکھانے کا ایک ذریعہ تھا۔














