کراچی میں فائر سیفٹی کے انتظامات نامکمل، 162 عمارتیں تاحال غیر محفوظ قرار

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ بھر میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی انتظامات کی صورتحال تشویش ناک ہے، جہاں فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران نشاندہی کی گئی 3,486 عمارتوں میں سے 486 کو زیادہ خطرے کی حامل قرار دیا گیا ہے۔

صوبے میں جہاں ایک طرف 2,216 عمارتوں کا دوبارہ معائنہ تاحال باقی ہے، صوبائی دارالحکومت کراچی میں بھی 162 عمارتیں فائر سیفٹی کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے فائر سیفٹی آڈٹ پورٹل کے مطابق سندھ بھر میں شناخت کی گئی عمارتوں میں سے صرف 1,270 کا دوسرے مرحلے میں دوبارہ معائنہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز، سندھ کے نجی اسکولوں میں فائر سیفٹی اقدامات سخت

ان میں 61 عمارتیں حفاظتی تقاضوں پر پورا نہیں اتریں، 457 میں انتظامات جزوی طور پر موجود تھے، جبکہ 752 عمارتیں بڑی حد تک حفاظتی معیارات کے مطابق پائی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبے کی 1,199 عمارتیں درمیانے اور 1,829 کم خطرے کی حامل ہیں، اس طرح مجموعی طور پر 47 فیصد عمارتیں درمیانے یا زیادہ خطرے کے زمرے میں شامل ہیں۔

کراچی ڈویژن میں شناخت کی گئی 907 عمارتوں میں سے دوسرے مرحلے کے دوران صرف 292 کا دوبارہ معائنہ کیا گیا، جبکہ 615 عمارتیں تاحال منتظر ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فائر سیفٹی کریک ڈاؤن تیز، سی ڈی اے نے مزید عمارتیں سیل کردیں

ضلع جنوبی میں 57، وسطی میں 45، شرقی میں 15، کورنگی میں 23، ملیر میں 7، کیماڑی میں 4 اور غربی میں 11 عمارتیں فائر سیفٹی کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 225 عمارتوں کی خطرے کی سطح میں بہتری آئی، جبکہ 970 عمارتوں کی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی, اس کے برعکس 21 عمارتیں مزید خطرناک درجے میں شامل ہوگئیں۔

دوسری جانب کراچی کے کمشنر سید حسن نقوی نے بدھ کو اپنے دفتر میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فائر سیفٹی آڈٹ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: کیا کراچی جیسے میگا سٹی میں موجود فائر اسٹیشنز کافی ہیں؟

اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز، پی ڈی ایم اے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)، فائر بریگیڈ اور دیگر محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کمشنر نے ہدایت کی کہ حفاظتی انتظامات سے محروم عمارتوں کو نوٹس جاری کرکے فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے ایس بی سی اے کو عمارتوں کے منظور شدہ نقشے ترجیحی بنیادوں پر پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ ہنگامی صورت حال میں فائر بریگیڈ کو مدد مل سکے۔

مزید پڑھیں: چین کا پاکستان کو 21 فائر اور ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ

اجلاس میں اسپتالوں، اسکولوں اور صنعتی اداروں کا حفاظتی آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ کمشنر نے اسپتالوں کے معائنے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پر زور دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی ڈویژن میں 907 عمارتوں کا سروے مکمل کیا جاچکا ہے۔ ضلع جنوبی میں 202، وسطی میں 185 اور شرقی میں 196 عمارتوں کا آڈٹ کیا گیا۔

حکام کے مطابق جن عمارتوں میں حفاظتی انتظامات نامکمل ہیں، انہیں نوٹس جاری کرکے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟‘ سانحہ بلدیہ کیس میں التوا مانگنے پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ بار انتخابات، صدر سمیت اہم عہدوں کے امیدواروں کی عبوری فہرست جاری

جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف

پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

ویڈیو

حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟

پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

لانگ مارچ کے دوران خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کا خدشہ: قیمتیں آسمان پر، حکومتی اقدامات پر سوالات

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی