اسموگ کے خلاف پنجاب کا ڈیجیٹل نظام، 8 ہزار سے زائد بھٹوں کی نگرانی

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب میں فضائی آلودگی اور اسموگ پر قابو پانے کے لیے پہلی بار ٹرانسپورٹ، زراعت، تعمیرات اور دیگر شعبوں کو شامل کرکے جامع حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبے بھر میں 8 ہزار سے زائد بھٹوں کی ڈیجیٹل نقشہ بندی کرکے ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ فضائی آلودگی میں ٹرانسپورٹ کے دھوئیں، فصلوں کی باقیات جلانے اور تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والی گردوغبار سمیت متعدد عوامل کا کردار ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں ان تمام شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں فضائی آلودگی کی شدت کے دوران ہوا کی سمت، موسمی حالات، درجۂ حرارت میں الٹ پھیر اور آلودہ ذرات کی فضا میں موجودگی سے متعلق مطلوبہ معلومات بروقت دستیاب نہیں تھیں، تاہم اب اس حوالے سے نگرانی اور پیش گوئی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں ‘پری اسموگ آپریشن’ کے مثبت نتائج، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس بہتر ہوگیا

سینیئر صوبائی وزیر کے مطابق ’اے کیو آئی پنجاب‘ ایپ کے ذریعے صوبے کے مختلف شہروں، اضلاع، یونین کونسلوں اور سڑکوں کی سطح تک فضائی آلودگی کی صورت حال دیکھی جا سکتی ہے۔ ایپ میں فضائی معیار سے متعلق فی گھنٹہ معلومات اور ایک ماہ تک کی پیشگوئی کی سہولت بھی موجود ہے۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ صوبے میں 8 ہزار سے زائد اینٹوں کے بھٹوں کی نقشہ بندی کی گئی ہے۔ ہر بھٹے کو منفرد شناخت اور کیو آر کوڈ دیا گیا ہے، جبکہ انہیں زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے عمل کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق خلاف ورزی کی اطلاع ملنے پر ماحولیاتی تحفظ کی فیلڈ ٹیمیں کارروائی کے لیے متحرک ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسموگ کے موسم میں فصلوں کی باقیات جلانا فضائی آلودگی کا اہم سبب بنتا ہے۔ اس دوران ہوا کی سمت اور رفتار بھی اہم ہوتی ہے، کیونکہ سرحد پار سے آنے والی ہوائیں دوسرے علاقوں میں پیدا ہونے والی آلودگی کو متاثرہ خطوں تک پہنچا سکتی ہیں۔

مریم اورنگزیب نے سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی انڈونیشیا کے جنگلات میں آگ لگنے کے باعث ہوا کی سمت کے نتیجے میں فضائی آلودگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان کے مطابق اسموگ سے نمٹنے کے لیے مقامی آلودگی کے ذرائع کے ساتھ موسمی حالات اور سرحد پار سے آنے والی آلودگی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp