فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے انکم ٹیکس قواعد میں ترمیم کی تجویز پیش کرتے ہوئے یوٹیوب کے بعد تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
متعلقہ قوانین میں اس مجوزہ ترمیم سے ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والے افراد اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز تک ٹیکس قواعد کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان ہے۔
ایف بی آر نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترامیم کے لیے 2 الگ الگ نوٹیفکیشنز کے مسودات تیار کیے ہیں، جن کے تحت متعلقہ شقوں میں لفظ ’یوٹیوب‘ کی جگہ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارمز‘ استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس چوری، گوشواروں میں غلط معلومات پکڑنے کے لیے ایف بی آر کا ’اے آئی‘ پر مبنی جدید سسٹم تیار
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلی مجوزہ ترمیم انکم ٹیکس رولز 2002 کے باب دوم اے میں قاعدہ 13ZP کی ذیلی شق (1) کی شق (d) سے متعلق ہے۔
یہ ترمیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کی ذیلی دفعہ (1) کے ساتھ پڑھی جانے والی دفعہ 99C کے تحت تجویز کی گئی ہے۔
دوسری مجوزہ ترمیم انکم ٹیکس رولز کے باب پنجم اے میں قاعدہ 19R کی ذیلی شق (1) کی شق (d) میں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ٹیکس چوری، گوشواروں میں غلط معلومات پکڑنے کے لیے ایف بی آر کا ’اے آئی‘ پر مبنی جدید سسٹم تیار
اس ترمیم کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 99C، دفعہ 101 کی ذیلی دفعہ (3B) کی شق (b) اور دفعہ 237 کی ذیلی دفعہ (1) کا حوالہ دیا گیا ہے۔
مجوزہ ترامیم کے تحت یوٹیوب کا مخصوص حوالہ ختم کرکے اس کی جگہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی وسیع اصطلاح متعارف کرائی جائے گی۔
اس طرح متعلقہ ٹیکس قواعد کا اطلاق صرف یوٹیوب تک محدود رہنے کے بجائے دیگر سوشل میڈیا سروسز تک بھی بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر نے گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ سے متعلق وضاحت کردی
ایف بی آر نے مجوزہ ترامیم سے متاثر ہونے والے تمام افراد اور متعلقہ فریقوں سے اعتراضات اور تجاویز طلب کرلی ہیں۔
مسودہ نوٹیفکیشنز سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے بعد 7 روز کے اندر اپنی آرا بورڈ کو بھجوائی جاسکتی ہیں۔
نوٹیفکیشنز کے مطابق مقررہ مدت کے دوران موصول ہونے والے اعتراضات اور تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ایف بی آر آئندہ کارروائی کرے گا۔
تاہم، مجوزہ ترامیم ابھی مسودے کے مرحلے میں ہیں اور انہیں حتمی شکل دیے جانے یا نافذ العمل ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔














