بھارتی جیل میں قید عمر خالد کے لیے 2026 کا انسانی حقوق ایوارڈ

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں 6 سال سے زائد عرصے سے قید انسانی حقوق کے کارکن اور سابق طالب علم رہنما عمر خالد کو 2026 کے انسانی حقوق ایوارڈ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

آئرلینڈ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم فرنٹ لائن ڈیفنڈرز نے جمعرات کو ایوارڈ کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید عمر خالد کے نام نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا خط وائرل

عمر خالد ستمبر 2020 سے دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے مقدمے میں جیل میں ہیں، تاہم اب تک ان کے خلاف باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہو سکا۔

قید کے باعث عمر خالد ڈبلن میں منعقدہ ایوارڈ تقریب میں شرکت نہیں کر سکے۔

یہ اعزاز ان انسانی حقوق کے کارکنوں کو دیا جاتا ہے جو اپنے کام کی وجہ سے دھمکیوں اور خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ رواں سال ایران، انگولا، برازیل اور سربیا سے تعلق رکھنے والے چار دیگر کارکنوں کو بھی اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

فرنٹ لائن ڈیفنڈرز نے عمر خالد کی مسلسل حراست پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے بھارت میں اختلافِ رائے کے خلاف بڑھتے ہوئے اقدامات کی عکاسی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: تہاڑ جیل میں 4 ماہ گزارے اور موت کی دعا کرتی رہی، بھارتی اداکارہ کا انکشاف

تنظیم کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال، ضمانت کے حصول میں مشکلات اور میڈیا کے ذریعے عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کے معاملات اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔

تنظیم نے سخت ضمانتی شرائط کو سزا کے طور پر استعمال کیے جانے پر بھی تنقید کی، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں ملزم کو سزا نہیں سنائی گئی یا مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی۔

عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے مقدمے سے منسلک ہے۔

مزید پڑھیں: جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

یہ تشدد شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

فرنٹ لائن ڈیفنڈرز کے مطابق عمر خالد بھارت میں ایک متنازع مگر معروف شخصیت بن چکے ہیں۔ بعض حلقے انہیں ملک مخالف اور ریاست کا دشمن قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے افراد انہیں عوام کی آواز اور انسانی حقوق کا محافظ سمجھتے ہیں۔

تنظیم نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست نے بھی عمر خالد کی گرفتاری اور حراست کی قانونی حیثیت پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp