مائیکرو اسکوپ سے حاصل کردہ تصاویر کے عالمی مقابلے میں کامیاب قرار دی گئی ویڈیو پر سائنس دانوں نے اعتراضات اٹھائے تھے جس کے بعد منتظمین نے اسے مقابلے کے قواعد کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ڈیپ فیک: ہالی ووڈ کے 5 ستارے جن کی ڈیجیٹل شناخت خبروں میں رہی
سائنسی تصاویر کے ایک معروف عالمی مقابلے میں انعام جیتنے والی ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے تیار کیے جانے کے انکشاف کے بعد نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔
نائیکون کے مطابق اس کے ’اسمال ورلڈ اِن موشن‘ مقابلے میں ویڈیو کی تیاری کے دوران تخلیقی مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا جو مقابلے کے قواعد کے منافی ہے۔ یہ مقابلہ طاقتور مائیکرواسکوپ کی مدد سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔
کمپنی نے کہا کہ ویڈیو کا تخلیقی اے آئی کے حوالے سے مقابلے کے قواعد پر پورا نہ اترنا اسے نااہل قرار دینے کی وجہ بنا تاہم اس فیصلے کا مقصد مقابلے میں شریک فرد کی پیشہ ورانہ ساکھ یا سائنسی خدمات پر سوال اٹھانا نہیں۔
نائیکون نے بتایا کہ وہ اب اس سالانہ مقابلے کے قواعد اور طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لے گی۔ یہ مقابلہ گزشتہ 15 برس سے منعقد کیا جا رہا ہے اور اس میں مائیکرواسکوپ کے ذریعے حاصل کردہ تصاویر اور ویڈیوز پیش کی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیے: ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟
کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ ویڈیو اور اس سے متعلق معاون مواد کا تفصیلی جائزہ لینے اور مقابلے کی جیوری کے ارکان سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔
اس مقابلے میں کامیاب قرار دی گئی ویڈیو چین کی سنگھوا یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر نِنگ شو نے جمع کرائی تھی۔ مختصر ویڈیو میں سانس کی ایک بیماری ’پرائمری سلیری ڈسکینیشیا‘ (پی سی ڈی) میں مبتلا بچے کی سانس کی نالی میں موجود بال نما باریک ساختوں، جنہیں ’سیلیا‘ کہا جاتا ہے، کو حرکت کرتے دکھایا گیا تھا۔
بی بی سی نے اس معاملے پر ڈاکٹر نِنگ شو سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
متعدد سائنس دانوں جن میں مقابلے کے سابق جج بھی شامل ہیں نے نائیکون کے لنکڈ اِن صفحے پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ویڈیو حقیقی معلوم نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر شو نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا اعتراف کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں انہوں نے مقابلے کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے نائیکون کی تحقیقات میں تعاون بھی کیا۔
مزید پڑھیں: کیا اے آئی ماڈلز جسمانی خوبصورتی کے غیرحقیقی معیار کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں؟
برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی سے وابستہ سائنس دان ڈاکٹر رابرٹ ہرسٹ ان ماہرین میں شامل تھے جنہوں نے سب سے پہلے ویڈیو کی صداقت پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو کو نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے پر حیران نہیں ہیں، کیونکہ انہیں ابتدا ہی میں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہے۔
ڈاکٹر ہرسٹ نے کہا کہ وہ گزشتہ 20 برس سے پی سی ڈی کی تشخیص کے لیے مریضوں کے سیلیا کی حرکت کے انداز، لمبائی، خلیات کے حجم اور شکل کا جائزہ لیتے آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق ویڈیو میں دکھائے گئے خلیات اور سیلیا کی شکل و صورت پی سی ڈی کے مریضوں میں پائی جانے والی ساختوں سے بالکل مختلف ہے۔
ڈاکٹر ہرسٹ لیسٹر یونیورسٹی میں قائم برطانیہ کے قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کے پی سی ڈی تشخیصی مرکز کے سربراہ سائنس دان ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 1980 فوٹو اے آئی ٹرینڈز: تصویریں بنانے کا شوق کہیں آپ کا فون اور ذاتی ڈیٹا ہیکرز کے حوالے تو نہیں کررہا؟
انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے دنیا بھر میں بہت سے مریضوں، سائنس دانوں، ڈاکٹروں اور پی سی ڈی کے مریضوں کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو متاثر کیا ہے۔














