خیبر پختونخوا کے 12 حساس اضلاع میں ’ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ‘ کا انتظام کس کے پاس ہوگا؟، خدوخال سامنے آگئے

اتوار 11 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 12 نامزد اضلاع میں امن و امان، بہتر حکمرانی اور ترقی کے لیے ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اس سیکرٹیریٹ کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری کریں گے جنہیں تمام انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اختیارات حاصل ہوں گے۔

وفاقی حکمنامے کے تحت قائم ہونے والا ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ (اے ڈی ایس) ایریا ریپریزنٹیٹو و ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کی نگرانی میں کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ، سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کہاں ہے؟

نامزد اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں۔

ایریا ریپریزنٹیٹو و ڈیولپمنٹ کونسل نامزد اضلاع کی معزز شخصیات پر مشتمل ہوگی اور اس کی سربراہی چیئرمین کریں گے۔

اے آر ڈی سی کے چیئرمین، وائس چیئرمین، ترجمان اور ارکان کی تقرری مقررہ طریقہ کار اور مدت کے مطابق کی جائے گی۔

ایڈمنسٹریٹر کے وسیع اختیارات اور انتظامی ڈھانچہ

ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا (نامزد اضلاع) کریں گے، جو ان اضلاع کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہوں گے۔

نامزد اضلاع میں تعینات صوبائی حکومت کے افسران اور دیگر اداروں کے اہلکار ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کے انتظامی اور آپریشنل کنٹرول میں ہوں گے۔

نامزد اضلاع میں مزید تعیناتیوں اور تبادلوں کا حکم ایڈمنسٹریٹر کی سفارش پر وزیراعظم وقتاً فوقتاً دے سکیں گے۔

ایڈمنسٹریٹر نامزد اضلاع میں صوبائی حکومت کے تمام انتظامی، انتظامیاتی اور قانون نافذ کرنے سے متعلق اختیارات استعمال کریں گے۔

ایڈمنسٹریٹر کو نامزد اضلاع میں گورننس، سیکیورٹی اور ترقی کے لیے تنظیمی ڈھانچے قائم کرنے اور ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی نگرانی کا اختیار حاصل ہوگا۔

سیکیورٹی، فنڈز اور سول و عسکری رابطہ کاری

ایڈمنسٹریٹر سول انتظامیہ، پولیس اور فوجی حکام کو ہدایات جاری کر سکیں گے اور ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کے آپریشنل، تنظیمی اور انتظامی امور سے متعلق احکامات جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔

اس کے علاوہ ایڈمنسٹریٹر فنڈز کی تقسیم اور منتقلی کے احکامات بھی جاری کر سکیں گے۔

وفاقی اداروں، مسلح افواج اور صوبائی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے نامزد اضلاع میں قانون نافذ کرنے اور سیکیورٹی کے امور بہتر بنائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی معاملات کیسے چلائے جاتے ہیں؟

عوامی تحفظ، معاشی استحکام، امدادی سرگرمیوں اور بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے محکموں کی تنظیمِ نو اور ضروری اقدامات کیے جا سکیں گے۔

ایڈمنسٹریٹر کے جاری کردہ احکامات، نوٹیفکیشنز، ہدایات اور اقدامات کو وہی قانونی حیثیت حاصل ہوگی جو صوبائی حکومت کے جاری کردہ احکامات کو حاصل ہوتی ہے۔

آئینی دفعات کا عدم اطلاق اور فوری نفاذ

وفاقی حکمنامے کے تحت نامزد اضلاع میں آئین کے باب سوم، حصہ چہارم اور آرٹیکل 175 کی شق (3) سے متعلق مذکورہ دفعات اور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ وفاقی حکمنامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp