وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے انتظامی معاملات دہشتگردوں کے حوالے کر دیے تھے اور صوبائی حکومت دہشتگردوں کے ساتھ مل گئی تھی، اس لیے اس کے ساتھ مزید گزارا ممکن نہیں تھا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔ اگر کسی شخص کو گرفتار کیا گیا تو اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے اگر کوئی گرفتار ہوا تو سب کو تفصیل سے بتایا جائے گا، عطا تارڑ https://t.co/VEbfGhtveh
— WE News (@WENewsPk) October 11, 2026
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت کی تمام تر توجہ دہشتگردی کے خاتمے پر مرکوز ہے۔
قبل ازیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں حکومتی کارکردگی اور طرزِ حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھتے رہے تھے۔ صوبے میں دہشتگردوں کی پولیس میں بھرتیوں سے متعلق ایک متنازع بل لایا گیا، جس کے ذریعے دہشتگردوں کے حامیوں کو پولیس میں جگہ دینے کی کوشش کی گئی۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے تجربہ کار افراد پر مشتمل مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے، جس میں انتظامی، قبائلی اور مختلف تکنیکی شعبوں کا وسیع تجربہ رکھنے والے ماہرین اور افسران شامل ہیں۔
عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اراکین کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ اور ان کی اعلیٰ تکنیکی قابلیت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جبکہ مشاورتی کونسل میں مختلف شعبوں کے تجربہ کار افراد کی شمولیت کا مقصد صوبے میں انتظامی امور اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔














