گورنر خیبرپختونخوا کی ایڈوائزری کونسل کی رکن اور مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 13 سال تک صوبے میں ایسی حکومت رہی جو کسی عذاب سے کم نہیں تھی جس دوران پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے این پی کو خیر باد کہنے والی بلور خاندان کی واحد خاتون سیاستدان ثمر ہارون بلور کون ہیں؟
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پشاور نے دہائیوں سے ہمیں سپورٹ کیا ہے، خیبرپختونخوا میں فنڈز بھی موجود ہیں اور وسائل بھی لیکن سابقہ صوبائی حکومت میں سیاسی عزم کی کمی تھی جس کے باعث مسائل حل نہیں ہوسکے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب صوبے میں امن و امان، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری لانے کے لیے بھرپور محنت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات اور جانی نقصانات کے باوجود سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے کردار پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ثمر ہارون بلور کے مطابق صوبے میں 232 شہادتیں ہوئیں لیکن سہیل آفریدی صرف ایک جنازے میں شرکت کے لیے گئے۔
مشیر اطلاعات نے کہا کہ آج اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جبکہ صوبے کو دہشتگردی سے پاک کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں پالیسی اسلام آباد سے آئے گی۔
مزید پڑھیے: سیاسی رسہ کشی سے بالاتر ہوکر دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، ثمر ہارون بلور
گورنر کی ایڈوائزری کونسل کی رکن نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری لانے کے لیے کام کیا جائے گا اور دستیاب وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لانے کی کوشش ہوگی۔
گورنر راج کی مدت سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات پر ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اس حوالے سے جو مدت بتائی جارہی ہے، وہ درست نہیں، کیونکہ تاحال گورنر راج کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج کرے، لیکن احتجاج پرامن ہونا چاہیے۔ صوبے میں امن و امان خراب کرنے کے بجائے دہشتگردی کے خاتمے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے غیر سنجیدہ رویے سے پختونوں کا وقار مجروح ہوا، ثمر ہارون بلور
ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ صوبے کو دہشتگردی سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے محنت کی جائے گی۔














