رومن کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں میں پائی جانے والی چھوٹی رسولی نکالنے کے آپریشن کے لیے منگل کو اسپتال میں داخل ہوں گے۔ ویٹیکن کے مطابق معمول کے طبی معائنے کے دوران ان کے ایک پھیپھڑے میں رسولی کی نشاندہی ہوئی تھی، جس کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 71 سالہ پوپ لیو نے اتوار کو بتایا تھا کہ پھیپھڑے میں پائی جانے والی چھوٹی رسولی محدود ہے اور ابتدائی مرحلے میں اس کا پتا چل گیا ہے۔ ویٹیکن نے بتایا کہ پوپ منگل کی صبح اسپتال میں داخل ہوں گے، تاہم آپریشن کے وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ بینک کے کسٹمر سروس نمائندے سے تنگ ہیں؟ پوپ لیو بھی اس صورتحال سے نہ بچ سکے
پوپ لیو نے اسپتال میں داخلے سے قبل پیر کو اپنی معمول کی مصروفیات جاری رکھیں اور صبح کے وقت پہلے سے طے شدہ 7 ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ویٹیکن میں مختلف ممالک سے آنے والے مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
ویٹیکن کے مطابق پوپ کی صحت یابی میں تقریباً ایک ہفتہ لگنے کی توقع ہے۔ تاہم، ان کی صحت کی صورت حال کے باعث رواں ہفتے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں بدھ کو ہونے والی اجتماعی عبادت کے انعقاد کے بارے میں تاحال فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ تقریب ویٹیکن میں بشپوں کے ایک ہفتے پر مشتمل اجلاس کی اختتامی تقریب ہے، جس کی قیادت پوپ کی عدم موجودگی میں کوئی کارڈینل کر سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق پھیپھڑوں میں بننے والی چھوٹی رسولی لازمی طور پر سرطان نہیں ہوتی۔ امریکی تھوراسک سوسائٹی کے مطابق پھیپھڑوں میں پائی جانے والی مجموعی رسولیوں میں سے 5 فیصد سے بھی کم سرطان ثابت ہوتی ہیں، تاہم عمر، رسولی کے حجم اور تمباکو نوشی جیسے عوامل سے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’دنیا چند ظالموں کے ہاتھوں تباہ ہو رہی ہے‘ ، پوپ لیو کا لہجہ سخت ہونے لگا
روم کے پولی کلینیکو امبرتو اول اسپتال میں شعبہ جراحی کے سربراہ ڈاکٹر فیڈریکو وینوتو کے مطابق پھیپھڑوں کی رسولی نکالنے کے لیے عموماً کم مداخلت پر مشتمل جراحی کی جاتی ہے، جس میں بعض صورتوں میں باریک کیمرے والی نلکی بھی استعمال ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقۂ علاج میں پیچیدگیوں کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے۔
پوپ لیو کو مئی 2025 میں رومن کیتھولک کلیسا کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ وہ دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا ہیں۔
پوپ کی علالت کی صورت میں ویٹیکن کے انتظامی امور معمول کے مطابق جاری رہتے ہیں، تاہم ایسے فیصلے مؤخر کیے جا سکتے ہیں جن کے لیے پوپ کی منظوری ضروری ہو، کیونکہ کلیسا کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے ان کا کوئی باقاعدہ نائب مقرر نہیں ہوتا۔














