پنجاب کے 180 کالجوں میں پرنسپلز کی مستقل بنیادوں پر تعیناتی کیوں نہیں ہوسکی؟

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام کل 796 میں سے 180 کالج اب بھی ریگولر پرنسپل کے بغیر چلائے جا رہے ہیں، ان میں سے متعدد کالجز 2019 سے مستقل پرنسپل کی عدم موجودگی میں کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان اداروں میں انتظامی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور طلبا کی تعداد میں بتدریج کمی ہو رہی ہے۔

حکومت پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اپریل 2026 میں تھرڈ راؤنڈ کے تحت پرنسپلز  کی تقرری کے لیے ای پورٹل کھولا تھا، محکمہ تعلیم کی جانب سے 17 اپریل کو کھولے گئے اس پورٹل کو 24 اپریل کی شام 5 بجے بند کر دیا گیا۔

اس سے قبل مارچ 2026 میں بھی درخواستیں طلب کی گئی تھیں، مگر کچھ امیدواروں کی جانب سے شکایت سامنے آئی کہ ان کی درخواستیں پورٹل سے حذف کردی گئی ہیں، متعلقہ حکام نے حذف شدہ درخواستوں کی نشاندہی کی ہدایت بھی جاری کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے اسکولوں کے لیے نیا نصاب منظور، کتابوں کا بوجھ 25 فیصد کم، کلاس ون سے اے آئی کی تعلیم

لگ بھگ 5 ماہ کے وقفے کے بعد ستمبر 2026 میں شارٹ لسٹ ہونیوالے امیدواروں کے انٹرویوز کیے گئے، مگر تاحال کالجز بغیر پرنسپلز کے چلائے جارہے ہیں۔

 اس حوالے سے محکمہ تعلیم کا موقف ہے کہ خالی سیٹوں پر انٹرویوز مکمل ہو چکے ہیں اور جلد ہی تقرری کے آرڈرز جاری کر دیے جائیں گے، محکمے کا اپنا ایک طریقہ کار جس کے تحت مستقل تعیناتی میں وقت لگتا ہے، جلد کالجز میں مستقل بنیادوں پر پرنسپل تعینات کردیے جائیں گے۔

وی نیوز سے گفتگو میں مختلف کالجز کی انتظامیہ نے بتایا کہ جن کالجز میں پرنسپل تعینات نہیں ہیں وہاں بہت سی بد انتظامی دیکھنے میں آرہی ہے، طلبا کی داخلوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار بھی گرتا جارہا ہے، محکمہ تعلیم کو متعدد بار اسکی نشاہدہی بھی کی گئی ہے مگر محکمہ تاخیری حربے اختیار کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں اسکول میل پروگرام کے تحت 90 ہزار بچے اسکول آئے، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات

والدین اور طلبا کی جانب سے یہ تشویش بھی سامنے آئی ہے کہ پرنسپل کے عہدے خالی رہنے سے تعلیمی معیار اور نظم و ضبط دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔

وزیر تعلیم پنجاب  رانا سکندر کے مطابق محکمہ ہائر ایجوکیشن تقرری کے عمل کو شفاف اور میرٹ پر مکمل کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خالی عہدوں پر انٹرویوز ہو چکے ہیں اور جلد ہی متعلقہ امیدواروں کی تقرری کے آرڈرز جاری کیے جائیں گے تاکہ کالجز کی انتظامی صورتحال بہتر ہو اور طلبا کو مستحکم تعلیمی ماحول مل سکے۔

مزید پڑھیں: مالی مشکلات اب تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں، پنجاب میں ایک لاکھ سے زیادہ لیپ ٹاپس، ہزاروں اسکالرشپس تقسیم

صوبائی  وزیر نے یقین دلایا کہ حکومت پنجاب تعلیمی اداروں میں مستقل پرنسپلز کی تعیناتی کو ترجیح دے رہی ہے اور اس عمل میں مزید تاخیر نہیں ہوگی۔

والدین اور طلبا نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ریگولر پرنسپلز کی تقرری کے آرڈرز فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ کالجز کی انتظامی صورتحال بہتر ہو اور طلبا کی تعداد میں کمی کا سلسلہ رک سکے۔

متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ 2019 سے چلنے والے کچھ کالجز میں مستقل پرنسپل کی تقرری نہ ہونے سے نہ صرف انتظامی مسائل پیدا ہوئے ہیں بلکہ طلبا اور والدین کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp