اسلام آباد مارچ سے گورنر راج تک: سہیل آفریدی نے خود کو بند گلی میں کیسے دھکیلا؟

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کرگیا ہے کہ آخر وہ کون سے سیاسی فیصلے اور حالات تھے جنہوں نے سہیل آفریدی کی حکومت کو اس انجام تک پہنچایا؟ کیا اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان، پارٹی کے اندر اختلافات اور وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیدا ہونے والا تعطل اس صورتحال کا سبب بنے؟

جولائی کے آخری ہفتے کی ایک شام وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا، جس میں پارٹی کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جارہا تھا۔

مزید پڑھیں: 13 سالہ اقتدار، پھر گورنر راج کیوں؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکمرانی پر بڑے سوالات

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی قیادت کو بتایا کہ پارٹی تنظیموں اور سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کی جانب سے ان پر اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کا اعلان کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کے فیصلے کو مزید مؤخر نہیں کرسکتے۔

پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں نے وزیراعلیٰ کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ اب سہیل آفریدی کو عملی میدان میں نکل کر عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں کرنی چاہییں۔

تاہم، اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں اسد قیصر اور تیمور سلیم جھگڑا نے سہیل آفریدی کے مؤقف کی مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج سے پہلے مناسب ہوم ورک کیا جائے اور عمران خان کی رہائی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات بھی کیے جائیں، تاکہ احتجاج کے نتیجے میں پارٹی کسی بند گلی میں نہ پھنس جائے۔

اسی دوران پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیاکہ 5 اگست کو پشاور میں ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا جائےگا۔

5 اگست کو پشاور میں جلسے کے دوران جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنڈال میں داخل ہوئے تو 12 ہزار سے زیادہ پی ٹی آئی کارکنوں نے ان کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔

اپنی تقریر کے دوران سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو عمران خان کے علاج معالجے اور عدالتی مقدمات کے سلسلے میں اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا۔

بعدازاں انہوں نے احتجاجی مارچ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی اسٹریٹ موومنٹ کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما کے مطابق، جب سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کے بجائے ان تک رسائی کا مطالبہ کیا تو وفاقی حکومت کو اندازہ ہوگیا کہ اب ایک نسبتاً محدود مطالبے کی بنیاد پر خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اپنی شرائط منوائی جاسکتی ہیں۔

ستمبر کے دوسرے ہفتے میں وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ رابطے استوار کیے۔ مذاکرات کے دوران وفاق نے واضح کردیا کہ اسلام آباد مارچ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائےگا۔ تاہم، سہیل آفریدی کا خیال تھا کہ انہیں اسلام آباد جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

ستمبر کے تیسرے ہفتے میں، جب احتجاج کی تاریخ قریب آنے لگی، تو سہیل آفریدی نے محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی واضح کیاکہ 27 ستمبر کی کال پارٹی کی جانب سے نہیں بلکہ سہیل آفریدی نے ذاتی حیثیت میں دی تھی، اس لیے انہیں وفاقی حکومت کے ساتھ خود مذاکرات کرنے چاہییں۔

اس دوران مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا، لیکن وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے سے رویہ مزید سخت ہوتا گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی: اسلام آباد لانگ مارچ سے گورنر راج تک، صوبے میں بڑے احتجاج کیوں نہ ہوسکے؟

25 ستمبر کو سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال مؤخر کرتے ہوئے نئی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کردی۔ بعدازاں پاکستان تحریک انصاف نے لکی مروت سے احتجاجی لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

اس دوران حالات مزید خراب ہوتے گئے اور صرف 5 سے 6 روز بعد وہ کنٹینر بھی تحویل میں لے لیا گیا جس پر سوار ہوکر سہیل آفریدی اسلام آباد جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے مطابق سہیل آفریدی خود کو ایسی بند گلی میں لے آئے تھے جہاں سے آگے بڑھنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جس کنٹینر پر سوار ہوکر تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا آغاز کیا تھا، وہی کنٹینر بالآخر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے سیاسی منظرنامے کی علامت بن گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp