13 سالہ اقتدار، پھر گورنر راج کیوں؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکمرانی پر بڑے سوالات

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طویل حکمرانی، سیاسی حکمتِ عملی اور طرز حکومت کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے امن و امان اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اٹھائے گئے سوالات کے برعکس پی ٹی آئی اس اقدام کو سیاسی انتقام اور صوبائی خودمختاری کے خلاف قرار دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک پر حملہ آور دہشتگردوں کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے خزانے کا منہ کھول رکھا تھا، ایمرجنسی ناگزیر ہو چکی تھی، خواجہ آصف

تاہم اس سیاسی کشمکش سے ہٹ کر ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ تقریباً 13 برس تک صوبے میں اقتدار رکھنے والی جماعت خیبرپختونخوا میں پائیدار امن، بہتر طرز حکمرانی اور صحت، تعلیم سمیت بنیادی عوامی سہولتوں کی فراہمی میں کتنی کامیاب رہی؟

یہ سوال محض سیاسی الزام تراشی کا نہیں بلکہ حکومتی کارکردگی، دستیاب اعداد و شمار اور عوام کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کا جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔

دہشتگردی میں اضافہ، صوبائی حکومت کی حکمت عملی کہاں کھڑی ہے؟

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پی ٹی آئی کی حکمرانی کا سب سے اہم اور حساس امتحان ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ اور سکیورٹی خدشات نے شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کاروباری سرگرمیوں کو مسلسل متاثر کیا ہے۔

ایشیا ٹیررازم پورٹل کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد سنہ 2023 میں 941 تھی جو سال 2024 میں بڑھ کر 1,363 ہوگئی جبکہ واقعات کی تعداد بھی 312 سے بڑھ کر 702 تک پہنچ گئی۔

یہ اعداد و شمار امن و امان کی صورت حال میں بگاڑ کی نشاندہی کرتے ہیں اور صوبے میں انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی، پولیس کی استعداد اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق سوالات کو اہم بناتے ہیں۔

تاہم دہشتگردی کے اسباب کو صرف صوبائی حکومت کی کارکردگی تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ سرحد پار صورت حال، وفاقی پالیسیوں، علاقائی عوامل اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیے: کے پی میں پی ٹی آئی کی 13سالہ حکومت ختم، گورنر راج، انقلاب بھاگ گیا

اس کے باوجود صوبائی حکومت سے یہ پوچھنا بجا ہے کہ پولیس کو جدید وسائل سے لیس کرنے، انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں مؤثر بنانے اور وفاقی حکومت کے ساتھ مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ ان اقدامات کے کیا نتائج سامنے آئے اور ان میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے کیا پیشرفت ہوئی؟

اصل سوال یہ ہے کہ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات اور ان کے نتائج کا قابل تصدیق ریکارڈ کیا بتاتا ہے؟

وفاق سے محاذ آرائی، سیاسی فائدہ یا صوبائی مفادات کا نقصان؟

پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی نے خیبرپختونخوا کی سیاست کو مسلسل متاثر کیا ہے۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوئے جبکہ احتجاجی سیاست اور سیاسی بیانات نے بھی اس کشیدگی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

سیاسی اختلاف جمہوری نظام کا فطری حصہ ہے لیکن جب اختلافات حکومتی ترجیحات اور انتظامی فیصلوں پر اثرانداز ہونے لگیں تو ان کے نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے۔

کیا وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات کے باوجود خیبرپختونخوا کے مالی اور ترقیاتی مفادات کا مؤثر دفاع کیا گیا؟ کیا این ایف سی، ضم شدہ اضلاع کے لیے مالی وسائل، سکیورٹی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں پر وفاق کے ساتھ نتیجہ خیز رابطہ کاری ممکن بنائی گئی؟ کیا سیاسی کشیدگی کے دوران عوامی مسائل کو ترجیح حاصل رہی؟

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی دہشتگردوں سے مل گئی تھی، افغان رجیم کے ساتھ ریاست کے برعکس اپنی پالیسی چلائی، وفاقی وزرا

ان سوالات کے جوابات کے لیے محض سیاسی بیانات کافی نہیں۔ وفاق اور صوبے کے درمیان ہونے والی خط و کتابت، اجلاسوں کے فیصلوں، مالی وسائل کی فراہمی اور منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینا ہوگا۔

گورنر راج کے نفاذ نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کس حد تک حکومتی کارکردگی، وفاقی و صوبائی اختلافات اور امن و امان سے متعلق مسائل کا نتیجہ ہے۔

صحت کارڈ، بی آر ٹی اور بلین ٹری: کامیابیاں بھی، احتساب بھی

پی ٹی آئی اپنی حکمرانی کے دفاع میں صحت کارڈ، پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) اور بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں کو اپنی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کرتی ہے۔

یہ منصوبے صوبے میں پی ٹی آئی کے ترقیاتی بیانیے کا اہم حصہ ہیں تاہم ان کی کامیابی اور مجموعی اثرات کا تعین بھی شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: 13 سالہ حکومت کسی عذاب سے کم نہیں تھی، پشاور کھنڈر بن گیا، ثمر بلور کی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید

صحت کارڈ کے حوالے سے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس سے کتنے خاندان مستفید ہوئے، علاج کی کون سی سہولتیں دستیاب رہیں، اسپتالوں کو ادائیگیوں کی صورت حال کیا رہی اور مستحق مریضوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی دہشتگردوں سے مل گئی تھی، افغان رجیم کے ساتھ ریاست کے برعکس اپنی پالیسی چلائی، وفاقی وزرا

اسی طرح بی آر ٹی کی لاگت، آپریشنل اخراجات، مسافروں کی تعداد اور شہری ٹریفک پر اس کے اثرات کا جائزہ ضروری ہے جبکہ بلین ٹری منصوبے کے حوالے سے شجرکاری، پودوں کی بقا، جنگلات کے رقبے اور آزادانہ جانچ کے نتائج کو سامنے لانا چاہیے۔

چند نمایاں منصوبے کسی حکومت کی کامیابی کا اہم حصہ تو ہوسکتے ہیں لیکن مجموعی کارکردگی کا فیصلہ اسی وقت ممکن ہے جب ان کے ساتھ عام شہری کو ملنے والی بنیادی سہولتوں اور سرکاری وسائل کے استعمال کا بھی جائزہ لیا جائے۔

ترقیاتی منصوبوں کی لاگت، تاخیر یا آڈٹ اعتراضات کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آڈٹ اعتراض بذات خود بدعنوانی کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا، متعلقہ محکموں کے جوابات، تحقیقات اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر ہی کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے۔

پشاور سے ضم شدہ اضلاع تک، ترقی کے ثمرات کس کو ملے؟

تقریباً 13 سالہ حکمرانی کا جائزہ صرف بڑے شہروں یا نمایاں منصوبوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ سرکاری وسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے صوبے کے مختلف اضلاع کو کتنا فائدہ پہنچا۔

پشاور میں جدید ٹرانسپورٹ منصوبے کے باوجود ٹریفک، نکاسیٔ آب، پینے کے صاف پانی، صفائی اور شہری انتظام کے مسائل کا جائزہ اہم ہے۔ اسی طرح دور دراز اضلاع اور سابقہ قبائلی علاقوں میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور دیگر بنیادی سہولتوں کی صورت حال بھی حکومت کی ترجیحات اور کارکردگی کو جانچنے کا پیمانہ ہے۔

ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہاں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص وسائل کتنے جاری ہوئے، کتنے منصوبے مکمل ہوئے اور عوام کو ان سے کیا فائدہ پہنچا؟

کیا ان علاقوں میں اسپتالوں اور اسکولوں کی سہولتوں میں خاطرخواہ بہتری آئی؟ کیا نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھے؟ کیا بنیادی ڈھانچے کی ترقی نے مقامی آبادی کی مشکلات کم کیں؟

ان سوالات کے جوابات کے لیے ضلع وار ترقیاتی بجٹ، فنڈز کے اجرا، منصوبوں کی تکمیل، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوامی خدمات سے متعلق اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ ضروری ہے۔

جب تک یہ معلومات سامنے نہیں آتیں، ترقی کے یکساں یا غیر مساوی ہونے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہوگا۔

13 سالہ اقتدار میں تعلیم اور روزگار کے مسائل کیوں برقرار ہیں؟

تعلیم اور روزگار کسی بھی حکومت کی طویل مدتی کارکردگی جانچنے کے بنیادی پیمانے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے مختلف حکومتی ادوار کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار، اسکولوں میں سہولتوں، اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی میں کیا تبدیلی آئی۔

کتنے نئے اسکول اور کالج قائم ہوئے؟ کتنے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں؟ طلبہ کے تعلیمی نتائج میں کیا بہتری آئی؟ سرکاری جامعات کو درپیش مالی مشکلات سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

مزید پڑھیں: کے پی میں امن و امان کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے، محسن نقوی کا پی ٹی آئی کے مطلوب رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا اعلان

13 سالہ اقتدار کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کس جماعت نے کتنے منصوبوں کا افتتاح کیا یا کتنے سیاسی احتجاج کیے بلکہ یہ ہے کہ اس کے دور حکومت میں عام شہری کی زندگی کتنی بدلی، اسے کتنا تحفظ ملا اور بنیادی سہولتوں تک اس کی رسائی میں کتنی بہتری آئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp