پاکستان تحریک انصاف نے لکی مروت سے اسلام آباد لانگ مارچ کا 4 اکتوبر کو آغاز کرکے دعویٰ کیا تھا کہ 40 لاکھ لوگوں کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوگا، لیکن اتوار کے روز صورتحال بالکل مختلف تھی اور صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قائدین اور ورکرز منظر عام سے غائب ہوگئے۔
معطل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہفتے کو لانگ مارچ کے قافلے کو لے کر چارسدہ سے مردان جا رہے تھے اور رات کو اچانک مردان سے پشاور کے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ گئے۔ وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی کی صورت میں پارٹی کی حکمت عملی پر مشاورت کی اور ورکرز کو ہدایت کی کہ کسی ہنگامی صورت حال میں لانگ مارچ پشاور کی جانب موڑ دیا جائے۔ جبکہ اتوار کی صبح وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، لیکن پی ٹی آئی کا پلان بی، سی یا ڈی کہیں نظر نہیں آیا اور مردان سے لانگ مارچ کے شرکا بھی غائب ہوگئے۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی 13 سالہ دور حکومت میں گورنمنٹ ڈگری کالج لکڑو مہمند کیوں نہ بنا سکی؟
اعلانات کے باوجود پی ٹی آئی احتجاج کیوں نہیں کر پا رہی؟
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کے بعد ہی پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے ورکرز کو پشاور پہنچنے اور احتجاج کرنے کی ہدایت کی۔ پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے اپنے بیان میں ورکرز کو پہنچنے کا کہا اور خود بھی شرکت کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن نہ وہ خود پہنچ سکے اور نہ ورکرز نکلے۔
پی ٹی آئی ورکرز کے مطابق قیادت کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا اور نہ ہی اس وقت کوئی سامنے آکر آنے کو تیار ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک صوبائی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت صوبائی قیادت مکمل طور پر غائب ہے۔ ’ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ کون کہاں ہے، کوئی گرفتار ہوا ہے یا خود کسی قسم کی گرفتاری کے ڈر سے روپوش ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس وقت صوبے میں قیادت سہیل آفریدی گروپ کے پاس تھی اور سارے فیصلے بھی وہی کرتے تھے۔ ان کے منظر عام سے غائب ہونے کے بعد صورت حال واضح نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے پہلے بتایا گیا تھا کہ پلان بی اور سی بھی تیار ہیں اور حالات خراب ہونے کی صورت میں ان پر عمل ہوگا۔ ’وہ پلان سی یا بی کیا ہے، کس کو پتا ہے؟ کون اعلان کرے؟ کسی کو بھی نہیں پتا۔‘
پی ٹی آئی کے ایک یوتھ رہنما نے بتایا کہ اس وقت پارٹی کو لیڈ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ’سہیل آفریدی تو تحویل میں ہیں، دیگر رہنما ان سے اختلافات کے باعث خاموش ہیں، جبکہ مرکزی قیادت بھی خاموش ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ گورنر راج کے بعد خوف کا ماحول ہے، جبکہ قائدین روپوش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قیادت کال دیتی ہے، لیکن خود نہیں نکلتی۔
اختلافات اور روپوشی
پی ٹی آئی قیادت صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد سے غائب ہے اور بیشتر اہم رہنما روپوش ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے یوتھ ونگ کے ایک رہنما نے بتایا کہ جو لوگ قیادت کر رہے تھے، وہ خود منظر عام سے غائب ہیں اور رابطہ بھی نہیں کر رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق سہیل آفریدی اسپیکر کی حفاظتی تحویل میں ہیں، جبکہ اس کے علاوہ کسی کے تحویل میں ہونے یا گرفتاری کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر مسئلہ اختلافات کا ہے۔ ’علی امین باہر ہیں اور آرام سے بیٹھے ہیں، جو سہیل آفریدی سے اختلافات کے باعث خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پرانے نظریاتی لوگ کافی عرصے سے سائیڈ لائن ہیں اور سہیل آفریدی ان سے مشاورت تک گوارا نہیں کرتے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت قیادت سہیل آفریدی کے پاس تھی اور مرکزی سطح پر فیصلے ان کی مرضی سے ہوتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے پرانے رہنما مذاکرات کی حمایت کر رہے تھے۔ شوکت یوسفزئی سمیت اسد قیصر اور دیگر رہنما حالات کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے مذاکرات پر زور دے رہے تھے، جبکہ سہیل آفریدی من مانی کر رہے تھے، جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ سہیل آفریدی سے خوش نہیں تھے۔
9 مئی کے مقدمات سے نہیں نکلے، دوبارہ مقدمات بنیں گے
پی ٹی آئی کے یوتھ رہنما نے بتایا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد صوبے میں اقتدار ملنے کے باوجود بھی قیادت بے بس تھی اور ورکرز اب بھی مقدمات اور سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ورکرز ناراض ہیں کہ ان کی اپنی حکومت بھی دعووں کے باوجود انہیں ریلیف نہ دے سکی، جس کی وجہ سے اب ورکرز بھی نکلنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہر جگہ کیمرے نصب ہیں اور احتجاج کی صورت میں بعد میں بھی گرفتاری کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے اب ورکرز بھی خوف زدہ ہیں۔ یہ بڑے احتجاج یا مظاہرے نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
مزید پڑھیں:کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟
سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کے کنٹینر کا کیا بنا؟
معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے لانگ مارچ کے کنٹینر پر بیٹھ کر مردان پہنچے ہی تھے کہ انہیں اچانک پشاور نکلنا پڑا۔ پولیس حکام کے مطابق سہیل آفریدی کے نکلنے کے بعد ورکرز بھی چلے گئے۔ پولیس ڈائری رپورٹ کے مطابق مردان میں 2 سے 3 ہزار لوگ جمع تھے، جبکہ پی ٹی آئی لاکھوں کا دعویٰ کر رہی تھی۔
پولیس کے مطابق سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کا خصوصی کنٹینر اس وقت مردان میں ایک اڈے پر کھڑا ہے اور ورکرز بھی غائب ہیں۔













