پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ خود بھی چھاتی کے کینسر کا شکار رہ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص، آگاہی اور مؤثر طبی سہولیات اس بیماری کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بریسٹ کینسر آگاہی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیٹلی بیکر نے کہاکہ چھاتی کے کینسر کی تشخیص کسی کے لیے بھی آسان خبر نہیں، تاہم ابتدائی مرحلے میں بیماری کی شناخت اور بروقت علاج سے اس کا مؤثر مقابلہ ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چھاتی کے کینسر کے حوالے سے علامات کو پہچاننا، اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں پر توجہ دینا اور طبی معائنہ کروانا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس بیماری پر کھل کر بات کی جانی چاہیے، کیونکہ طویل عرصے تک اسے معاشرتی طور پر ایک ممنوع موضوع سمجھا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ چھاتی کا کینسر صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے دونوں میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق بروقت تشخیص نہ صرف مریض بلکہ اس کے خاندان اور قریبی عزیزوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
امریکی ناظم الامور نے پمز میں بریسٹ کینسر اسکریننگ سینٹر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ مرکز میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور نئی مشینوں کی دستیابی اس بیماری کی تشخیص اور علاج کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے طبی عملے، مقامی اداروں اور اس مقصد کے لیے کام کرنے والوں کی کوششوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
نیٹلی بیکر نے بتایا کہ وہ پاکستان آنے کے بعد سے ڈاکٹر عائشہ ثانی کے ساتھ اس آگاہی مہم کا حصہ رہی ہیں اور یہ اس نوعیت کی تیسری تقریب ہے جس میں انہوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ڈاکٹر عائشہ اور ان کی ٹیم کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ آگاہی زندگی بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
تقریب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی اسکریننگ، بروقت طبی مشورے اور مریضوں کے لیے نفسیاتی و سماجی معاونت کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔













