انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں بدھ کے روز بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی کرنسی میں ایک پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 276.96 روپے سے کم ہو کر 276.95 روپے کی سطح پر بند ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایک پیسہ بھی بہت ہے‘: امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ جاری
یاد رہے کہ منگل کے روز پاکستانی روپیا ڈالر کے مقابلے میں 276.96 پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کے روز امریکی ڈالر دباؤ کا شکار رہا کیونکہ تاجر مسلسل مہنگائی سے نمٹنے کے لیے شرحِ سود میں اضافے کے حوالے سے نئے اشارے کے منتظر ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں نرمی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی اثاثوں کی طلب کو سپورٹ کرنے والے اے آئی سے جڑے رجحان کے دوبارہ جائزے کے بعد گرین بیک (ڈالر) پچھلے سیشن کی 18 ماہ کی بلند ترین سطح سے کمزور ہوا۔
فرانس میں بجٹ سے متعلق خدشات کی وجہ سے خطے کے بانڈز کی پیداوار بلند رہی اور مارکیٹ میں ہلچل مچی رہی جس کے اثرات سے یورو نے اپنی برتری برقرار رکھی۔
Interbank closing #ExchangeRate for todayhttps://t.co/49EmRfUzod#sbpexchangerate pic.twitter.com/XKqhJjg5Yw
— SBP (@StateBank_Pak) October 14, 2026
اب تمام تر توجہ امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس کے جاری ہونے والے ڈیٹا اور فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کے بیانات پر مرکوز ہے جو شرح سود کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
کرنسیوں کی ٹوکری کے مقابلے میں ڈالر کی قدر جانچنے والا ڈالر انڈیکس منگل کو 0.35 فیصد کمی کے بعد بدھ کو 0.02 فیصد کی کمی کے ساتھ 102.16 پر آ گیا۔
مزید پڑھیے: خراماں خراماں: روپے کی قدر مسلسل مضبوطی کی سمت گامزن، جانیے یہ سلسلہ کب سے جاری ہے؟
یورو 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1203 ڈالر پر جا پہنچا جبکہ جاپانی ین 158.32 فی ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا اور برطانوی پاؤنڈ 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3256 ڈالر پر بند ہوا۔
نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز کے اس بیان کے بعد کہ وہ رواں سال ایک اور شرح سود میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں لیکن سنہ 2027 میں مزید اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
امریکی محکمہ محنت کی جانب سے ستمبر کی سی پی آئی رپورٹ جاری کی جائے گی جس کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی 0.6 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے (جبکہ اگست میں یہ 0.4 فیصد بڑھی تھی) اور سالانہ مہنگائی 3.4 فیصد سے بڑھ کر 3.6 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ فیڈ اپنی ‘بیج بک’ بھی شائع کرے گا۔
سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق تاجروں کا ماننا ہے کہ اکتوبر 27-28 کو ہونے والے اجلاس میں فیڈ شرح سود کو برقرار رکھے گا (اس کی شرح 77 فیصد ہے جو ایک ماہ پہلے 51 فیصد تھی) جبکہ 2027 کے آخر تک تقریباً 75 بیسس پوائنٹس کی سختی کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
خام تیل کی قیمتیں
کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھے جانے والے خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا۔
برینٹ کروڈ کے فیوچرز 63 سینٹس (0.6 فیصد) اضافے کے ساتھ 106.32 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔
اسی طرح امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے فیوچرز 66 سینٹس (0.7 فیصد) اضافے کے بعد 94.80 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
مزید پڑھیں: آہستہ مگر مستقل: روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری
ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران دونوں کنٹریکٹس میں ایک ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم بعد میں تیزی کم ہوئی۔














