پشاور اسکول سانحہ: خیبرپختونخوا حکومت کا اہم اقدام، نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ کا فیصلہ

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے المناک سانحے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ اور ساختی مضبوطی کا جائزہ لینے کے لیے ضلعی سطح پر خصوصی انکوائری کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ کمیٹیوں کو تین دن کے اندر تفصیلی رپورٹ اور ضروری اصلاحی اقدامات سے متعلق سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: زخمی ہونے والے 32 بچوں کی فہرست جاری، ایک بچی کی میت بھی موصول

صوبائی حکومت کی ہدایت پر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام اضلاع میں نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا تاکہ ان کی ساختی مضبوطی، موجودہ حالت اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے موزونیت کا جائزہ لے کر طلبہ اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔

یہ اقدام پشاور کے علاقے دیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سسٹم کے کلاس روم کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد زخمی ہوئے۔

چھتوں، دیواروں، ستونوں اور بنیادوں کا معائنہ ہوگا

نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹیاں نجی اسکولوں کی عمارتوں کی چھتوں، دیواروں، ستونوں، بیم، بنیادوں، سیڑھیوں اور دیگر تعمیراتی حصوں کی باریک بینی سے جانچ کریں گی۔ اس کے علاوہ عمارتوں کی مجموعی حالت اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ان کی موزونیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول حادثہ: 110 بچے زیرِ تعلیم تھے، مالک حراست میں، ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج ہوگا، سی سی پی او

معائنے کے بعد عمارتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں محفوظ عمارتیں، مرمت کی ضرورت والی عمارتیں اور ممکنہ طور پر غیر محفوظ عمارتیں شامل ہوں گی۔

خطرناک عمارتوں کے استعمال پر پابندی کی سفارش

کمیٹیاں معائنے کے دوران جن عمارتوں میں نقائص یا ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں گی، ان کی مرمت اور بحالی کے لیے ضروری اقدامات تجویز کریں گی۔ فوری خطرے کی حامل عمارتوں کے حوالے سے ضلعی حکام کو آگاہ کیا جائے گا اور عمارت کا استعمال معطل کرنے یا وہاں رسائی محدود کرنے کی سفارش کی جائے گی۔

ضلعی مانیٹرنگ افسر کمیٹیوں کے سربراہ ہوں گے

نوٹیفکیشن کے مطابق تشکیل دی گئی کمیٹیوں کی سربراہی ضلعی مانیٹرنگ افسر کریں گے، جبکہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران اور محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کا نمائندہ بھی کمیٹیوں میں شامل ہوگا۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے تمام کمیٹیوں کو نوٹیفکیشن کے اجرا کے تین دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے اور ضروری اصلاحی اقدامات سے متعلق سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ متعلقہ اداروں کو نجی اسکولوں کی فہرستیں فراہم کرنے اور معائنے کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری تعاون یقینی بنانے کا بھی کہا گیا ہے۔

حکومتی اقدام کا مقصد نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں سے متعلق ممکنہ خطرات کی نشاندہی، حفاظتی خامیوں کا ازالہ اور طلبہ و اساتذہ کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp