آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیائی سلامتی سربراہی اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی تقریر شروع ہوتے ہی ترکیہ سمیت 10 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز جب ایشیا میں تعامل اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس کے سربراہی اجلاس میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے خطاب شروع کیا تو ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان کی قیادت میں ترک وفد کے ہمراہ پاکستان سمیت 10 سے زائد ممالک کے نمائندے اجلاس ہال سے باہر چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن میں اسرائیل مخالف مظاہرے، کانگریس سے نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ
اس سے قبل ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر کے وقت متعدد وفود نے اسی نوعیت کا واک آؤٹ کیا تھا۔
جمعرات کو ہونے والے ایک روزہ سربراہی اجلاس کی میزبانی آذربائیجان کر رہا ہے، جو اس وقت سی آئی سی اے کی صدارت سنبھالے ہوئے ہے، اجلاس میں رکن ممالک، مبصر ملکوں اور شراکت دار بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں۔
⚡️Another Embarassing Moment For Israel :
Representatives of Iran, Turkey, Kuwait & Pakistan walked out of the CICA Summit in Azerbaijan as the Israeli President began his speech.#Israel #Kuwait #Iran #Turkey #Azerbaijan pic.twitter.com/HcaQqqot4J
— Global News (@Jarvis945) October 15, 2026
اجلاس میں علاقائی تعاون، رابطوں کے فروغ، ڈیجیٹلائزیشن اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، سربراہی اجلاس کے اختتام پر باکو اعلامیہ اور پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کے شعبے میں تعاون سے متعلق ایک بیان منظور کیے جانے کی توقع ہے۔
اس موقع پر لاؤس کی تنظیم میں بطور نئے رکن شمولیت کا اعلان بھی متوقع ہے، فلسطین بھی اس تنظیم کے رکن ممالک میں شامل ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے بعد ازاں کہا کہ سی آئی سی اے کے رکن ممالک کو فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور ان پر جاری مظالم اور سنگین خلاف ورزیوں کی مخالفت میں مضبوط اور واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی امریکی جامعات کے خلاف کارروائی کے لیے بل منظور
غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق محصور علاقے کے تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس، میں بھی فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف اسرائیلی فوج کے چھاپوں اور غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔













